جدوجہد کو یاد کرکے معین علی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں

Updated: May 18, 2022, 1:43 PM IST | Agency | Mumbai

چنئی سپرکنگز کے آل راؤنڈر نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے پاس ایک پاؤنڈ بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ سینڈوچ یاکھیرے پر زندہ رہنے پر مجبورتھے

Moeen Ali.Picture:INN
معین علی ۔ تصویر: آئی این این

 چنئی سپرکنگز کے آل راؤنڈر معین علی نے اپنے کرکٹ کے سفر کے دوران جدوجہد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جس مشکل راستے سے گزرنا پڑا ہے اس کے بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چنئی سپرکنگز کے ساتھ آئی پی ایل۲۰۲۱ء کے انتہائی کامیاب سیزن کے  دوران انہوں نے ٹیم کو چوتھا خطاب  جیتنے میں مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ انگلینڈکے کھلاڑی نے اپنے سفید گیند کے کریئر کو طویل بنانے کیلئے ٹیسٹ کرکٹ الوداع کہہ دیاتھا۔
 معین علی نے مہندر سنگھ دھونی کی زیرقیادت ٹیم کیلئے  آئی پی ایل۲۰۲۲ء کے سیزن کے  اختتام سے قبل اپنے ابتدائی برسو ںکو یاد کیا اور اس بارے میں بتایا کہ کس طرح عزم اور کھیل کیلئے جذبے نے انہیں مشکلات پر قابو پانے میں مدد کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کے پاس  ایک پاؤنڈ بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ سینڈوچ یا ککڑی پر زندہ رہنے پر مجبور رہے تھے۔
 ۳۴؍ سالہ آل راؤنڈر نےسی ایس کے ٹی وی  پر کہا کہ میرے والد کھیل کے بارے میں بہت پرجوش تھے… میں اور میرا جڑواں بھائی بھی کرکٹ کے تئیں بہت زیادہ پُرجوش تھے۔ہمارے خاندان میں ہم ۵؍ کرکٹ کھیلتے تھے،جن میں میرے  چچا کے بیٹے نے کرکٹ کھیلنا شروع کردیا تھا۔ میں  اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلا کرتا تھا۔ مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں۸؍ برس کا تھا جب میں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ میدان  پر کھیلنا شروع کیاتھا اور میں نے سوچا کہ وہ بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ لہٰذا جب میں ۱۹؍ سال کا تھا، میں نے ایک ٹرائل لیا اور یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی کے ساتھ کھیلا تھا۔
 معین علی نے کہا کہ یہ شروعات تھی اور میں جلد ہی کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہا تھا، اچھا کھیل رہا تھا اور کھیل سے محبت کرتا تھا۔ یہ فٹبال اور کرکٹ تھا۔ کرکٹ میرے والد کا جنون تھا اور ہم بس آگے بڑھتے رہے۔ معین نے کہا کہ ان کے والد کو اپنی ملازمت اور بچوں کے کاؤنٹی گیمز میں لے جانے کے درمیان جھگڑا کرنا پڑتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی پیٹرول اور کبھی کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
 معین علی نے کہا کہ پہلے، ہم مالی طورپر بہت اچھے نہیں تھے... ہمارے پاس بہت زیادہ پیسہ نہیں تھا۔ میرے والدنے ایک نفسیاتی نرس کے طور پر کام شروع کیا تھا، جس کامطلب ہے کہ آپ کواسپتال میں لوگوں کو ذہنی طور پر جدوجہد کرتے ہوئے دیکھنا پڑے گا اور اسپتال کے سامان کا خیال رکھنا پڑے گا۔لیکن ساتھ ہی انہیں مجھے اور میرے بھائیوں کو کاؤنٹی گیمز، ٹرائلز اور ٹریننگ میں لے جانا  ہوتاتھا۔ وہ پیٹرول خرید نہیں سکتے تھے، وہ کبھی کبھار کھانابھی نہیں کھاتے تھے۔ یہ بہت مشکل دور تھا۔ کبھی کبھی ہم تینوں ایک ہی دن ایک ہی میچ کھیلتے تھے، ایک کاؤنٹی گیم جو واقعی بدقسمتی تھا۔ ہمارے پاس ایک کار تھی، ۲؍ خاندانوں کے درمیان ایک خوفناک کار اور اس طرح جب ہمارے پاس پیٹرول اور سب کچھ تھا، ہمارے پاس پورے دن کیلئے صرف ایک پاؤنڈ بچا تھا۔ ہمیں کبھی کبھار کھیرے اور سینڈوچ  مل جایا کرتا تھا۔
 انگلینڈ کے آل راؤنڈر نے کہا ’’یہ جدوجہد ہے... اور یہ صرف میرے والداور چچاکی نہیں تھی۔ یہ میری ماں اور چچی کی بھی تھی، وہ کپڑے تیار کرتی تھیں، اس بات کو یقینی بنا رہی تھیں کہ ہر چیز وقت پر ہو۔ بہت مشکل وقت تھا لیکن سب سے اچھا وقت تھا۔ یہ ان بہت سی کہانیوں میں سے ایک تھی جہاں مالی طور پر ہم واقعی جدوجہد کر رہے تھے۔ میرے چچااور والد اگلے میچ کیلئے مرغیاں بیچتے تھے۔ میرے پاس ایک وقت میں اپنا پیڈ بھی نہیں تھا۔ مجھے ٹیسٹ کیلئے اپنے والدکے دوست کے بیٹے کا پیڈ استعمال کرنا پڑاتھا۔ لہٰذا ایک بہت ہی مشکل دور تھا لیکن حیرت انگیز بھی تھا۔ میں بہت جلد پیشہ ور بن گیا اور چیزیں بہتر سے بہتر ہوتی گئیں۔
 معین کرکٹ کے میدان پر تیزی سے اٹھے، سب سے پہلے سیم گیندبازآل راؤنڈرکی شکل میں شروعات کی۔ کوچ کے اصرار پر آف اسپن گیندبازی شرو ع کردی۔ معین علی نے بتایا’’ میرے لئے ہر روز کھیلنا معمول تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ پیشہ ور ہونا کیسا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ زندگی ہے، میں ہر روز کھیلتا ہوں ۔ میرے والد نے کہاکہ ۱۳؍ سے۱۵؍ مجھے اپنی زندگی کے ۲؍سال دے دو۔ اسکول کے بعد ہم تربیت کرتے تھے   اور ہم باہر میدان پر جاتے تھے ۔ والد کہتے تھے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ اس کے بعد آپ جو چاہیں کرتے ہیں۔ یہ وہ ذہنیت تھی جس نے مجھے ہر روز تربیت دی۔
 معین علی نے مزید کہاکہ ہمارا علاقہ جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے، وہ بہت کچا علاقہ تھا، لڑائی جھگڑا اوردیگر بدمعاشیاں ہوتی تھیں۔ لیکن میں صرف کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا۔ ہم پُر عزم تھے کہ ہم اس سے اپنا کریئر بنانے جا رہے تھے اور یہ وہ چیز ہے جو میرے والد کی طرف سے آئی ہے، بہتر ہے کہ ہر کوئی اسے آزمائے۔ آج بھی اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جدوجہد کے دور کے بار ےمیں سوچ کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK