• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رِچا چڈھا نے ’’مسافری‘‘ میں ممبئی کے مالیاتی دارالحکومت بننے کے سفر کا سراغ لگایا

Updated: October 21, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ اور فلم ساز رِچا چڈھا اپنے نئے سلسلے ’’مسافری‘‘ کے ذریعے ممبئی کی تاریخ کے ان گوشوں کو سامنے لا رہی ہیں جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ قسط میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح کبھی چند جزیروں پر مشتمل یہ علاقہ وقت کے ساتھ ہندوستان کے اہم ترین تجارتی اور مالیاتی مراکز میں تبدیل ہوگیا۔

Richa Chadda.Photo:INN
رِچا چڈھا۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ اور فلم ساز رِچا چڈھا اپنے نئے سلسلے ’’مسافری‘‘ کے ذریعے ممبئی کی تاریخ کے ان گوشوں کو سامنے لا رہی ہیں جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ قسط میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح کبھی چند جزیروں پر مشتمل یہ علاقہ وقت کے ساتھ ہندوستان کے اہم ترین تجارتی اور مالیاتی مراکز میں تبدیل ہوگیا۔ اس سفر میں ممبئی کی تاریخی گلیوں، تاجروں، نوآبادیاتی دور کے منتظمین اور سماجی خدمات انجام دینے والی شخصیات کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 
 ’’مسافری‘‘ کی اس قسط میں ممبئی کی تاریخ کا آغاز ان جزیروں سے کیا گیا ہے جو بعد میں مل کر موجودہ شہر کی شکل اختیار کرگئے۔ پروگرام میں ۱۶۶۱ء کے اس تاریخی واقعے کا بھی ذکر ہے جب پرتگالی شہزادی کیتھرین آف براگانزا کی انگلینڈ کے بادشاہ چارلس دوم سے شادی کے بعد بمبئی کے جزائر انگلستان کے تاج کو منتقل کیے گئے۔ اس قسط میں بمبئی کے دوسرے گورنر جیرالڈ آنگیئر کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کی تجارتی پالیسیوں اور مختلف برادریوں کو شہر کی طرف راغب کرنے کی کوششوں نے بندرگاہی شہر کی ترقی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوا اور بمبئی کاروباری سرگرمیوں کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرنے لگا۔ 
پروگرام میں ممبئی کی معاشی تاریخ کے ان مراحل کو بھی پیش کیا گیا ہے جن میں کپاس اور افیون کی تجارت نے اہم کردار ادا کیا۔ نوآبادیاتی دور میں عالمی منڈیوں سے بڑھتے ہوئے روابط نے مقامی تاجروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے اور شہر کی کاروباری اہمیت میں اضافہ کیا۔ اس قسط میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح تاجروں کی ابتدائی کاروباری سرگرمیاں آگے چل کر بمبئی اسٹاک ایکسچینج جیسے مالیاتی اداروں کے قیام اور ترقی کا سبب بنیں۔ اس طرح ممبئی محض ایک بندرگاہی شہر نہیں رہا، بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے لگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ نے دوسری بیٹی کا نام ظاہر کردیا

’’مسافری‘‘ میں ڈیوڈ ساسون، جمسیت جی جیبھائے اور پریم چند رائے چند جیسی معروف شخصیات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان افراد نے کاروبار اور دولت کمانے کے ساتھ ساتھ سماجی بہبود کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ان کی سرپرستی اور مالی تعاون سے تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور عوامی اہمیت کی حامل عمارتوں کی ترقی میں مدد ملی۔ رِچا چڈھا نے اس تاریخی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا آج کے دور میں دولت کے ساتھ سماجی ذمہ داری کا وہی احساس وابستہ ہے جو ماضی کے بعض مخیر کاروباری افراد میں دکھائی دیتا تھا۔ 
رِچا چڈھا کے مطابق، ممبئی کا ذکر ہوتے ہی عموماً اس کی تیز رفتار زندگی، روزگار کے مواقع اور کامیابی حاصل کرنے کے خوابوں کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس شہر کی موجودہ شناخت کے پیچھے موجود تاریخی واقعات اور لوگوں کی خدمات کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شہر صرف دولت سے نہیں بنتے، بلکہ ان میں رہنے والے لوگوں، ان کی محنت، مختلف برادریوں کی شراکت اور سماجی اداروں کی خدمات سے ان کی اصل شناخت تشکیل پاتی ہے۔ ’مسافری‘ کے ذریعے وہ ایسی کم معروف کہانیاں سامنے لانا چاہتی ہیں جو ممبئی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک نیا زاویہ فراہم کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسپین کی عالمی درجہ بندی میں برتری مضبوط، ۱۶؍ سال بعد ڈنمارک ٹاپ ۱۰؍ میں

رِچا چڈھا کا آٹھ اقساط پر مشتمل سلسلہ ’’مسافری‘‘ ممبئی کی تاریخ، ثقافت، مقامی برادریوں اور ان مقامات کی کہانیوں کو پیش کرتا ہے جنہیں عام طور پر روایتی سیاحتی پروگراموں میں زیادہ جگہ نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں وہ تاریخ دانوں، مقامی باشندوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے گفتگو کے ذریعے شہر کے ماضی اور حال کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس نئی قسط میں ممبئی کے مالیاتی دارالحکومت بننے کے سفر کو سامنے لاتے ہوئے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی شہر کی ترقی کو صرف کاروبار اور دولت کے پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا؛ اس کی تاریخ، ثقافتی تنوع اور عوامی فلاح کے لیے کیے گئے کام بھی اس کی شناخت کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK