• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رچرڈ پائی بس افغانستانی ٹیم کے کوچ مقرر

Updated: February 27, 2026, 11:12 AM IST | Kabul

افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تجربہ کار انگلش نژاد کوچ رچرڈ پائی بس کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔

Richard PyBus. Photo: INN
رچرڈ پائی بس۔ تصویر:آئی این این

افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنی قومی ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تجربہ کار انگلش نژاد کوچ رچرڈ پائی بس کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ رچرڈ پائی بس کا تقرر جوناتھن ٹراٹ کی جگہ کیا گیا ہے، جن کی مدتِ ملازمت ٹی۔ ۲۰؍ ورلڈ کپ کے اختتام کے ساتھ ہی مکمل ہو گئی تھی۔ وہ آئندہ ماہ متحدہ عرب امارات(یو اے ای) میں سری لنکا کے خلاف شیڈول محدود اوورز سیریز سے قبل ٹیم کو جوائن کریں گے۔ رچرڈ پائی بس بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل وہ دنیا کی بڑی ٹیموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی ٹیم کے ۲؍ بار ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں مڈل سیکس اور جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک ٹیم ٹائٹنز کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کے ساتھ بھی بطور کوچ اور ڈائریکٹر کرکٹ خدمات انجام دی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو ۶۱؍ رنز سے ہرایا

افغانستان ۱۳؍ سے ۲۵؍ مارچ کے درمیان متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے خلاف ۳؍ ون ڈے اور ۳؍ ٹی۔ ۲۰؍میچز کھیلے گا اور اسی سیریز کے ساتھ رچرڈ پائی بس باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ نئے ہیڈ کوچ کی فوری توجہ افغانستان کے وہائٹ بال فارمیٹ کو مزید مستحکم کرنے پر ہوگی۔ رچرڈ پائی بس مارچ میں سری لنکا کے خلاف شیڈول ون ڈے اور ٹی۔ ۲۰؍ سیریز سے قبل افغان اسکواڈ کو جوائن کر لیں گے۔ سابق کوچ جوناتھن ٹراٹ کے دور میں افغانستان نے بین الاقوامی کرکٹ، خصوصاً ورلڈ کپ ایونٹس میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔ اب رچرڈ پائی بس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ افغان ٹیم کی حالیہ کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھیں گے اور ٹیم کو رینکنگ میں مزید اوپر لے کر جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK