روہت، راہل یاپنت: ٹیسٹ ٹیم کا کپتان کون بنےگا ؟

Updated: January 17, 2022, 1:45 PM IST | Agency | Mumbai

 وراٹ کوہلی کے ٹیسٹ کپتانی سے اچانک استعفیٰ دینے کے بعد ہندوستانی سلیکٹرس کو ٹیسٹ کپتان کے انتخاب کیلئے بڑا فیصلہ کرنا ہے  تاہم  ان کے پاس روہت شرما کی شکل میں ایک واضح متبادل موجود ہے،

Rohit, Rahul Or Pant.Picture:INN
روہت،راہل یا پنت۔ تصویر: آئی این این

 وراٹ کوہلی کے ٹیسٹ کپتانی سے اچانک استعفیٰ دینے کے بعد ہندوستانی سلیکٹرس کو ٹیسٹ کپتان کے انتخاب کیلئے بڑا فیصلہ کرنا ہے  تاہم  ان کے پاس روہت شرما کی شکل میں ایک واضح متبادل موجود ہے، جو اس سے قبل ٹی ۲۰؍ اور ون ڈے کی کپتانی سنبھال چکے ہیں  لیکن اس کے علاوہ اور بھی کئی دعویدار ہیں  جن پر بات ہو رہی ہے ۔ کپتانی کی دوڑ میں روہت سب سے آگے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے دورے کیلئے ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کرتے ہوئے سلیکٹرس نے اجنکیا رہانے کی جگہ روہت کو ہی نائب کپتان مقرر کیا تھا  تاہم وہ چوٹ کی وجہ سے اس دورے پر نہیں جا سکے اور ان کی جگہ پھرلوکیش راہل کو  نائب کپتان بنایا گیا۔ جنوری۲۰۲۱ء میں دورۂ آسٹریلیا پر ٹیم میں لوٹنے کے بعد روہت نے اپنے آپ کو ٹیسٹ ٹیم میں ثابت کیا ہے۔ وہ تب سے ٹیم کیلئے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ انہیں حال ہی میں ہندوستان کی محدود اوورس کی ٹیموں کا کپتان بھی بنایا گیا ہے۔ پورے کریئر میںروہت کو فٹنیس مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں جب انہیں ٹیسٹ ڈیبیو کرناتھا، تب وہ فٹبال کھیلتے ہوئےاپناپیر موڑ بیٹھے۔ اس کے بعد وہ بار بار ہیمسٹرنگ یا گھٹنے کی چوٹ سے بھی پریشان رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا وہ بیک وقت تینوں فارمیٹس کی کپتانی کا بوجھ اٹھا سکیں گے اور کیا کپتانی کے دباؤ میں ان کی بیٹنگ متاثر نہیں ہوگی؟ ساتھ ہی روہت کی عمر بھی۳۴؍ سال ہے جو ان کے خلاف جا سکتی ہے۔ وراٹ کے زخمی ہونےکے بعد راہل نے ہندوستان-جنوبی افریقہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں پہلی بار کپتانی سنبھالی۔ راہل کے ٹیسٹ کریئر میں اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں مینک اگروال کی چوٹ کی وجہ سے دورۂ انگلینڈ کیلئے اوپنر بنایا گیا۔ وہ اس دورے پر ہندوستان کیلئے دوسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی بنے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے دورے پر بھی پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنائی تھی۔  ۲۹؍ سالہ راہل کی عمر، ان کے ساتھ ہے۔ وہ آئی پی ایل کے پچھلے دو سیزن میں پنجاب کنگز کی کپتانی کر چکے ہیں اور اس دوران ان کی بلے بازی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسی لیے انہیں۲۰۲۰ء میں آسٹریلیا کے دورے پر ون ڈے ٹیم کا نائب کپتان بنایا گیا تھا۔ اب وہ روہت شرما کی غیر موجودگی میں جنوبی افریقہ میں بھی ٹیم کی قیادت کریں گے۔  کپتانی کے تیسرے دعویدار رشبھ پنت ابھی محض ۲۴؍ سال کے ہیں لیکن تینوں فارمیٹس میں ان کی جگہ یقینی ہے۔ وہ وکٹ کے پیچھے ہوشیار، چست اور وکٹ کےسامنے  جارحانہ ہیں۔ ان کی اپنی بیٹنگ تکنیک ہے اورانہیں ایسے  فطری  اور خاص ٹیلنٹ کے طور پرجاناجاتا ہے جو دہائیوں میں پیداہوتا ہے۔ وہ تنقید سے بھی متاثر نہیں ہوتے اور اس کا جواب بلے سے دیتے ہیں۔ اب ان کے نام آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں بھی سنچریاں ہیں۔ تجربہ کی کمی ان کے خلاف سب سے زیادہ ہے۔ وہ آئی پی ایل میں دہلی کیپٹلس کی کپتانی کرتے ہیں لیکن انہیں ٹیم انڈیا کیلئے کبھی بھی کپتانی یانائب کپتانی کا تجربہ نہیں ہے۔ تاہم مستقبل کو دیکھتے ہوئے سلیکٹرس انہیں نائب کپتان بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK