• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سچن تینڈولکر نے ویبھو سوریہ ونشی کو دباؤ سے دور رہنے کا مشورہ دیا

Updated: November 03, 2026, 8:01 PM IST | Mumbai

ہندوستانی کرکٹ کے عظیم بلے باز سچن تینڈولکر نے نوجوان بیٹر ویبھو سوریہ ونشی کے مستقبل اور ہندوستانی ٹیم میں ان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے اور مناسب وقت پر موقع دینے کا فیصلہ سلیکٹرز کا کام ہے۔

Vaibhav And Sachin.Photo:INN
سچن اور ویبھو:تصویر:آئی این این

ہندوستانی کرکٹ کے عظیم بلے باز سچن تینڈولکر نے نوجوان بیٹر ویبھو سوریہ ونشی کے مستقبل اور ہندوستانی ٹیم میں ان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے اور مناسب وقت پر موقع دینے کا فیصلہ سلیکٹرز کا کام ہے۔ تینڈولکر نے کم عمر کھلاڑی کی غیر معمولی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی انہیں مستقبل میں ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن انہیں جلد بازی میں بین الاقوامی کرکٹ میں لانے یا مسلسل انتخاب کے دباؤ میں رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایک باصلاحیت نوجوان کھلاڑی کو اپنی فطری صلاحیتوں کے ساتھ کھیلنے اور وقت کے ساتھ تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ 
 سچن تینڈولکر نے ۳۱ ؍مئی ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں منعقدہ ’کرک انفو آنرز‘ تقریب کے دوران ویبھو سوریہ ونشی کی بیٹنگ پر اظہارِ خیال کیا تھا۔ انہوں نے نوجوان بلے باز کو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹنگ دیکھ کر انہیں کافی متاثر کن محسوس ہوا۔ تینڈولکر کے مطابق ویبھو کی خاص بات صرف گیند کو طویل فاصلے تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں بلکہ ان کے کلائیوں کے استعمال کا انداز بھی ہے، جس کی مدد سے وہ میدان کے مختلف حصوں میں شاٹس کھیلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
سچن نے کہا کہ ویبھو گیند کی لائن اور لینتھ کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ بڑی آسانی سے طاقتور شاٹس کھیل پاتے ہیں۔ ان کے خیال میں نوجوان کھلاڑی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ میدان میں پراعتماد نظر آتے ہیں اور انہیں اپنی بیٹنگ کے انداز پر بھروسہ ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی کی شاندار کارکردگی کے بعد انہیں ہندوستانی ٹیم کے مختلف فارمیٹس میں شامل کرنے کی بحث تیز ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے سچن تینڈولکر نے کہا کہ وہ بھی انہیں کسی مرحلے پر ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے دیکھنا چاہیں گے، لیکن اس کے لیے کوئی جلد بازی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں کھلاڑی کو مختلف حالات، طویل اننگز اور گیند بازوں کے بدلتے ہوئے منصوبوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے وقت اور تجربہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے پُرتشدد فلموں پر کہا: میرا دماغ اتنے تشدد کو قبول نہیں کر پاتا

تینڈولکر نے مشورہ دیا کہ ویبھو کو اپنی فطری بیٹنگ سے دور نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان کے کھیلنے کے انداز میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کی گئی یا انہیں مسلسل مختلف تکنیکی ہدایات دی گئیں تو ان کی فطری صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی کو آزادی کے ساتھ کھیلنے دیا جائے، کیونکہ وقت کے ساتھ وہ خود بھی کھیل کے مختلف چیلنجز سے نمٹنا سیکھ جائے گا۔ ویبھو سوریہ ونشی نے آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ۱۶ ؍اننگز میں ۷۷۶ ؍رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً ۲۳۷ ؍رہا۔ اس دوران انہوں نے ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ نے انہیں ٹورنامنٹ کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل کردیا اور ان کے بین الاقوامی کرکٹ میں ممکنہ انتخاب کے مطالبات بھی بڑھ گئے۔ویبھو نے اپنی دھماکہ خیز بیٹنگ کے دوران ایک آئی پی ایل سیزن میں سب سے زیادہ چھکے لگانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔ انہوں نے ۷۲ ؍چھکے لگاکر کرس گیل کا سابقہ ریکارڈ توڑا، جنہوں نے ایک سیزن میں ۵۹ ؍ چھکے لگائے تھے۔ ان کی اس کارکردگی کے بعد سابق کھلاڑیوں، ماہرین اور کرکٹ شائقین کے درمیان ان کے مستقبل کو لے کر بحث مزید تیز ہوگئی۔  سچن تینڈولکر نے واضح کیا کہ ویبھو کو ہندوستانی ٹیم میں کب اور کس فارمیٹ میں موقع دیا جائے، اس کا فیصلہ متعلقہ سلیکٹرز کو کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی باصلاحیت کھلاڑی کی حوصلہ افزائی اور حمایت ضروری ہے، لیکن اس پر مسلسل یہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے کہ اسے کس ٹیم میں منتخب ہونا چاہیے یا اسے کون سا فارمیٹ کھیلنا چاہیے۔ ان کے مطابق کھلاڑی کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:گلین میکسویل نے بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ دیا

تینڈولکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ویبھو سوریہ ونشی کی غیر معمولی کارکردگی کے بعد انہیں ہندوستانی کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جارہا ہے۔ ان کے مشورے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کو سراہا جائے، اسے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے اور بین الاقوامی کرکٹ میں اس کے مستقبل کا فیصلہ جلد بازی کے بجائے درست وقت پر کیا جائے۔  سچن تینڈولکر نے ایک طرف ویبھو سوریہ ونشی کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف انہیں غیر ضروری توقعات اور دباؤ سے بچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نوجوان بلے باز کو اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے دیا گیا تو وہ مستقبل میں ہندوستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK