• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجیہ سبھا کے ۳۱؍ فیصد اراکین کے خلاف فوجداری مقدمات، ۱۴؍ فیصد ارب پتی: رپورٹ

Updated: November 03, 2026, 8:00 PM IST | New Delhi

ایک رپورٹ کے مطابق راجیہ سبھا کے ۳۱؍ فیصد اراکین کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں، جبکہ ۱۴؍ فیصد کے پاس ۱۰۰؍ کروڑ سے زیادہ کے اثاثے ہیں، ساتھ ہی ۲۳۰؍ اراکین کی مجموعی دولت ۲۶۵۰۰؍ کروڑ روپئے سے زیاہ ہے۔

Rajya Sabha. Photo: INN.
راجیہ سبھا۔ تصویر: آئی این این

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایک مطالعہ میں بتایا گیا کہ راجیہ سبھا کے۳۱؍ فیصد ایم پیز نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔ساتھ ہی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے۱۴؍ فیصد اراکین نے۱۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے بھی ظاہر کیے ہیں۔ مطالعہ میں جن۲۳۰؍ راجیہ سبھا ایم پی کا تجزیہ کیا گیا، ان میں سے۷۲؍ نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔جبکہ ۲۴۵؍ رکنی ایوان میں اس وقت ۲۴۱؍ ایم پی ہیں، تجزیہ میں اکتوبر میں منتخب ہونے والے۱۱؍ اراکین شامل نہیں ہیں۔
الیکشن واچ ڈاگ نے کہا کہ جن اراکین کا تجزیہ کیا گیا ان میں سے۳۷؍ یا۱۶؍ فیصد نے اعلان کیا ہے کہ انہیں سنگین فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ مطالعہ سنگین فوجداری جرائم کی تعریف ان جرائم کے طور پر کرتا ہے جن میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال یا اس سے زیادہ سزا، ناقابل ضمانت جرائم، یا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے مقدمات شامل ہیں۔اس زمرے میں حملہ، قتل، اغوا، عصمت دری، خواتین کے خلاف جرائم اور نمائندگی عوام ایکٹ میں مذکور جرائم جیسے جرائم سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔ اس میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت جرائم بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مودی غیر ملکی مدد سے وزیراعظم بنے اور اسی کے سہارے اقتدار میں ہیں: راہل گاندھی

مطالعہ میں بتایا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے۱۱۱؍ راجیہ سبھا ایم پی میں سے۳۱؍، یا۲۸؍ فیصد، نے فوجداری مقدمات ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے لیے یہ تعداد۲۹؍ میں سے۱۲؍، یا۴۱؍ فیصد ہے۔جبکہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس دھڑے کے۹؍ میں سے۲؍، یا۲۲؍ فیصد، ایم پی کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔ مطالعہ میں بتایا گیا کہ سماج وادی پارٹی کے لیے یہ تعداد ۴۰؍ فیصد اور دراوڑ منیترا کزگم کے لیے۲۵؍ فیصد ہے۔جبکہ تیلگو دیشم پارٹی کے چار راجیہ سبھا ایم پی میں سے تین کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ تلنگانہ کے۷۱؍ فیصد راجیہ سبھا ایم پی کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں۔ دہلی کے لیے یہ تعداد۶۷؍ فیصد، مہاراشٹر کے لیے۵۳؍ فیصد، آندھرا پردیش کے لیے۴۵؍ فیصد اور بہار کے لیے۴۴؍ فیصد ہے۔علاوہ ازیں ایک راجیہ سبھا ایم پی نے قتل کا مقدمہ ظاہر کیا ہے۔ چار کے خلاف اقدام قتل سے متعلق مقدمات ہیں۔ساتھ ہی چار ایم پی نے خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’آئی ڈی بی آئی کی فروخت ایک اور بڑاگھوٹالہ ہے‘

امیر اراکین
ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے کہا کہ۲۳۰؍ راجیہ سبھا ایم پی میں سے۳۲؍ نے۱۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ایوان میں بی جے پی کے۱۱۱؍ ایم پی میں سے سات، یا۶؍ فیصد، اس زمرے میں تھے۔ کانگریس کے لیے یہ تعداد۲۹؍ میں سے۶؍، یا۲۱؍ فیصد، وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور ٹی ڈی پی کے لیے۵۰؍ فیصد، اور بھارت راشٹرا سمیتی کے لیے۶۷؍ فیصد تھی۔تلنگانہ کے۵۷؍ ایم پی کے اثاثے۱۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد آندھرا پردیش سے۴۵؍ فیصد، اڈیشہ سے۳۰؍ فیصد، پنجاب سے۲۹؍ فیصد اور گجرات سے۸؍ فیصد ہیں۔ ۲۳۰؍ ایم پیز کے مجموعی اثاثے۲۶۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ ہیں، جس کی اوسط۱۱۵؍ کروڑ روپے ہے۔جبکہ ۴۵؍ فیصد ایم پیز کے اثاثے۱۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہیں۔
دسمبر۲۰۲۵ء میں جاری ہونے والی۲۰۲۶ء ورلڈ ان ایکویلیٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندوستان دنیا کے سب سے غیر مساوی ممالک میں سے ایک ہے، جس میں آبادی کا سرفہرست ایک فیصد۴۰؍ فیصد دولت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امیر ترین۱۰؍ فیصد کل دولت کا تقریباً۶۵؍ فیصد رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK