• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجے خان نے سنجیدہ فلموں اورتاریخی سیریلوں سے نام کمایا

Updated: January 03, 2026, 7:25 PM IST | Mumbai

سنجے خان کا اصل نام شاہ عباس علی خان ہے۔ ان کی پیدائش ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ءکوبنگلور (اس وقت میسور ریاست) میں ہوئی۔ وہ ایک معزز اور تعلیم یافتہ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

There was a kind of dignity reflected in Sanjay Khan`s personality. Photo: INN
سنجے خان کی شخصیت میں ایک قسم کا وقار جھلکتا تھا۔ تصویر: آئی این این

اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر سنجے خان ہندوستانی سنیما کی اُن شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے صرف فلموں میں اداکاری تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ ٹیلی ویژن پرتاریخی ڈراموں کے ذریعے ایک پورا عہد تخلیق کیا۔ ان کی شناخت ایک رومانوی ہیرو، باوقار فنکار اور بعد ازاں شان دار تاریخی سیریلز کے خالق کے طور پر بنی۔ سنجے خان کی زندگی فلمی چکاچوند، کامیابی، سانحات اور پھر غیر معمولی واپسی کی داستان ہے۔ 
سنجے خان کا اصل نام شاہ عباس علی خان ہے۔ ان کی پیدائش ۳؍ جنوری ۱۹۴۰ءکوبنگلور (اس وقت میسور ریاست) میں ہوئی۔ وہ ایک معزز اور تعلیم یافتہ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والدڈاکٹر علی خان ریاست میسور کے اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھے۔ سنجے خان نے اپنی ابتدائی تعلیم بنگلورہی میں حاصل کی اور بعد ازاں فلمی دنیا کی کشش انہیں ممبئی لے آئی۔ وہ مشہور اداکار فیروز خان کے چھوٹے بھائی تھے، اور دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے انداز میں فلمی دنیا میں الگ شناخت بنائی۔ 
سنجےخان نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز ۱۹۶۰ءکی دہائی میں کیا۔ ان کی پہلی نمایاں فلموں میں ’حقیقت‘(۱۹۶۴ء)شامل ہے، جو ہند-چین جنگ پر بنی ایک یادگار فلم تھی۔ اس فلم میں ان کا سنجیدہ اور باوقار کردار ناظرین کے دلوں میں اتر گیا۔ اس کے بعد’دلہن وہی جو پیا من بھائے‘، ’دھند‘، ’انتقام‘، ’ایک پھول دو مالی‘، ’نواب صاحب‘ جیسی فلموں میں انہوں نے رومانوی اور سنجیدہ ہیرو کے طور پر خود کو منوایا۔ ۱۹۶۰ءاور ۱۹۷۰ءکی دہائی میں سنجے خان ان اداکاروں میں شمارہوتےتھے جن کی اسکرین پر موجودگی شائستگی، وقار اور ٹھہراؤ کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ چیختے چلاتے ہیرو نہیں تھے، بلکہ ان کا انداز نرم، نفیس اور کلاسیکی تھا۔ اسی وجہ سے وہ خاندانی اور سماجی موضوعات پر بنی فلموں میں خاص طور پر پسند کیے گئے۔ 
تاہم وقت کے ساتھ بدلتے رجحانات اور ایکشن ہیروز کے بڑھتےغلبے کے باعث سنجے خان نے اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری اور پروڈکشن کی طرف رخ کیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے ان کا اصل اور دیرپا اثر سامنے آیا۔ انہوں نے تاریخی اور اسلامی پس منظر پر مبنی پروجیکٹس میں غیر معمولی دلچسپی لی۔ ٹیلی ویژن کی دنیا میں سنجے خان کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ’ دی سورڈ آف ٹیپو سلطان‘ہے، جو ۱۹۹۰ءمیں دوردرشن پر نشر ہوا۔ یہ سیریل نہ صرف اپنی شان دار پروڈکشن ویلیو، ملبوسات اور مکالموں کی وجہ سے مشہور ہوا، بلکہ اس نے ہندوستانی ٹی وی پر تاریخی ڈراموں کا معیار بلند کر دیا۔ سنجے خان نے خود ٹیپو سلطان کاکردار بھی ادا کیا، جس میں ان کی باوقار شخصیت اور گمبھیر آواز نے کردار کو جان بخشی۔ اسی دور میں انہوں نے ’دی گریٹ مراٹھا‘ جیسے عظیم تاریخی سیریل کی بھی پروڈکشن کی، جو آج بھی دوردرشن کی تاریخ کےسب سے مہنگے اور شاندار پروجیکٹس میں شمار ہوتا ہے۔ ان سیریلز نے ثابت کیا کہ سنجے خان صرف اداکار نہیں بلکہ ایک وژنری تخلیق کار تھے، جو تاریخ کو عوام تک وقار اور سنجیدگی کے ساتھ پیش کرنا چاہتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK