• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر بجٹ اجلاس: اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے حکومت کی چائے پارٹی کا بائیکاٹ

Updated: February 23, 2026, 10:09 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

کہا:بدعنوان اور کسان /عوام مخالف حکومت کیساتھ چائے پینا گوارا نہیں، منترالیہ میں رشوت خوری معاملے میں وزیر نرہری جھرول کے استعفیٰ کا مطالبہ، اجیت پوار کا حادثہ یا قتل ؟وضاحت طلب

Press conference of leaders of opposition parties, in which the state government was severely criticized. Photo: INN
اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی پریس کانفرنس، جس میں  ریاستی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں  لیا گیا۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر اسمبلی کا بجٹ اجلاس پیرسے ممبئی ودھان بھون میں شروع ہورہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل حکومت کی جانب سے روایتی چائے پارٹی کاانعقاد کیا گیاجس کا اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا اور یہ واضح اشارہ دے دیا ہےکہ یہ بجٹ اجلا س حکومت کیلئے آسان نہیں ہوگا اور اپوزیشن اسے مختلف موضوعات پر گھیرنے کیلئے تیار ہے۔ چائے پارٹی کا بائیکاٹ کرنے کے بعد اپوزیشن ( مہا وکاس اگھاڑی)کے لیڈروں نے پریس کانفرنس کی اور بتایاکہ ہم ایسی حکومت کے ساتھ چائے نہیں پی سکتے جس کے دور اقتدار میں منترالیہ میں رشوت خوری کی گئی، جس کی پالیسیاں عوام دشمن ہیں، کسانوں کی دگرگوں حالت اور آئینی عہدوں کی توہین کی جارہی ہے۔ مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈروں نے سوال اٹھایا کہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا قتل یا حادثہ؟ اس پر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں کی جارہی ہے۔ 
بجٹ اجلاس کے تعلق سے مہاوکاس اگھاڑی ( ایم وی اے) کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ شیو سینا (ادھو)پارٹی سے بھاسکر جادھو، آدتیہ ٹھاکرے، ایڈوکیٹ انل پرب، اجے چودھری، سنیل پربھو جبکہ کانگریس پارٹی کی طرف سے وجے وڈیٹیوار، ستیج پاٹل امین پٹیل اور سابق رکن اسمبلی ملند کامبلے موجود تھے۔ منترالیہ کے قریب شیوالےبنگلہ پر میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کانگریس کے قانون ساز لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ ’’نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی موت کے معاملے میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ قتل تھا یا حادثہ؟ اس پر حکومت کا موقف مبہم ہے۔ اجیت دادا کی موت کے بعد کئی اسکولوں کو اقلیتی درجہ دے دیا گیا۔ اتنی جلدی کس کو تھی؟ اگر یہ عمل درست تھا تو وزیر اعلیٰ نے اسے کیوں ملتوی کیا؟ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ریاست میں کسانوں کی خودکشی بڑھ رہی ہے۔ صرف جنوری میں مراٹھواڑہ میں ۷۶؍کسانوں نے خودکشی کی اور سب سے زیادہ ۲۴؍ کسانوں نے بیڑ ضلع میں خودکشی کی۔ کسانوں کے قرض کی معافی کے بارے میں حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، کسانوں کو فصل بیمہ نہیں ملا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آج سے مہاراشٹر اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایک اور اجلاس

وڈیٹیوار نے الزام لگایا کہ ریاست میں شدید بارش سے کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کیلئے مرکزی حکومت کو امداد کی تجویز بھیجنے کے باوجود ریاستی حکومت کو فنڈز نہیں ملے ہیں۔ مہاراشٹر میں کسان ساہوکاروں کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ ایسا وقت آگیا ہے کہ چندر پور کے ایک کسان کو اپنا گردہ بیچنا پڑا۔ 
شیو سینا( ادھو) گروپ کے لیڈر بھاسکر جادھو نے کہاکہ منترالیہ میں رشوت خوری کے معاملے میں اے سی بی نے چھاپہ مارا ہے۔ وزیر نرہری سیتارام جھرول کے پرسنل اسسٹنٹ کو گرفتار کر لیا گیا لیکن ابھی تک وزیر کا استعفیٰ نہیں لیا گیا ہے۔ پولیس نے ریاست کے ایک اعلیٰ عہدے کے وزیر کے قریبی شخص کی منشیات کی فیکٹری پر چھاپہ مارا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بھاسکر جادھو نے کہا کہ ثبوت فراہم کرنے کے باوجود حکومت اپنے وزراء سنجے شرساٹھ اور یوگیش کدم کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے، اسلئے وہ ان کی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ 
بجلی کی شرح کم کرنے کیلئے اضافہ
بھاسکر جادھو نے کہاکہ وزیر اعلیٰ نے ریاست میں بجلی کی شرح کم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن مہاوترن نے بجلی کی شرح بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ اعلان بھی کیا تھاکہ گھریلو صارفین کا اسمارٹ میٹر لگانے پر روک لگائی گئی لیکن گزشتہ روز ہی انہوں نے بیان دیا ہےکہ مہاراشٹر اڈانی کےاسمارٹ میٹر لگوانے والوں میں پہلی ریاست بن گیا ہے۔ انہوں نے اسے عوام کیساتھ دھوکہ دہی کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ 
سابق وزیر و شیو سینا(ادھو) لیڈرآدتیہ ٹھاکرے نے کہاکہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس خود کو ایک انفرا مین کے طور پر مارکیٹ کر رہے ہیں لیکن ملنڈ میں میٹرو کا ایک سلیب گر گیا، جس کے نتیجے میں ایک کی موت ہو گئی۔ ایم ایم آر ڈی کی طرف سے بنائے گئے پل کو آٹھواں عجوبہ سمجھا جانا چاہیے۔ شہریوں کو شہر میں کیسے رہنا چاہیے؟ سڑک پر چلتے ہوئے اموات، اسمبلی اسپیکر کی غنڈہ گردی جاری ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے سوال کیا کہ مہایوتی کی اکثریتی حکومت کے باوجود وہ اپوزیشن سے کیوں ڈرتے ہیں۔ 
قانون ساز کونسل کے گروپ لیڈر ستیج پاٹل نے شکتی پیٹھ ہائی وے پر اعتراض کیا۔ اگرچہ کسانوں نے واضح طور پر اس ہائی وے کی مخالفت کی لیکن حکومت نے زمین کے سروے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہاں پربھنی میں کسانوں کی پٹائی کی گئی۔ اس لیے ستیج پاٹل نے سنگین الزام لگایا کہ یہ شاہراہ ٹھیکیدار کے لیے کسانوں پر مسلط کی جارہی ہے۔ اے سی بی کا منترالیہ میں وزیر زروال کے دفتر پر چھاپہ وزیر اعلیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ خیال رہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کی اس مشترکہ پریس کانفرنس میں این سی پی (شردپوار) کا کوئی بھی لیڈرموجود نہیں تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK