ریاست میں پھر سیاسی بھونچال؟شیوسینا یوبی ٹی کے ترجمان نےپریس کانفرنس میں برسراقتدار اتحاد کو ہدف تنقید بنایا۔
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 11:57 AM IST | Mumbai
ریاست میں پھر سیاسی بھونچال؟شیوسینا یوبی ٹی کے ترجمان نےپریس کانفرنس میں برسراقتدار اتحاد کو ہدف تنقید بنایا۔
ریاست میں اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کی توڑ پھوڑ کی سیاست اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ۲؍ اراکین اسمبلی نے شندے گروپ کی حمایت کی، جبکہ اس سے پہلے ٹھاکرے گروپ کے ۶؍اراکین پارلیمنٹ بھی شندے گروپ میں شامل ہو گئے تھے۔ ان سیاسی تبدیلیوں کے درمیان اب ٹھاکرے گروپ کے رکنِ پارلیمنٹ اور ترجمان سنجے راؤت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور رکنِ اسمبلی کو۲۰؍ کروڑ روپےکی پیشکش کی گئی ہے۔ ان کے اس بیان سے ریاست کی سیاسی فضا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
برسراقتدار پر طنز کیلئے ٹالسٹائی کی کہانی کا حوالہ دیا
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے برسراقتدار قیادت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے روسی ادیب لیو ٹالسٹائی کی ایک مشہور کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’ٹالسٹائی ایک عظیم ادیب اور فلسفی تھے۔ ان کی تحریروں میں مستقبل کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ان کی ایک مشہور کہانی میں بتایا گیا ہے کہ حد سے زیادہ لالچ، حرص اور بے جا خواہشات انسان کو کس انجام تک پہنچا دیتی ہیں۔ کہانی کا ایک بوڑھا شخص زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنے کے لالچ میں سورج نکلنے سے غروب ہونے تک دوڑتا رہتا ہے، نہ کھانا کھاتا ہے نہ پانی پیتا ہے، اور آخرکار گر پڑتا ہے۔ اسے اسپتال لے جانا پڑتا ہے، مگر انجام میں اسے صرف دو گز زمین ہی نصیب ہوتی ہے۔ ‘‘ٹی وی نائن کی رپورٹ کے مطابق راؤت نے کہا کہ یہ سبق آج کے سیاست دانوں کے لئے بھی ہے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر دیویندر فرنویس، ایکناتھ شندے، نریندر مودی اور امیت شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں رکنا ہے، ورنہ اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی تعلیم رامائن، مہابھارت، بائبل اور قرآن سمیت ہر مذہب میں دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت کی طرف سے ساجد پٹھان کو وائی پلس سیکوریٹی فراہم کرنے کا حکم
’’ایک اور رکن اسمبلی کو ۲۰؍ کروڑ روپے کا آفر ‘‘
سنجے راؤت نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہا:’’آپ اراکین اسمبلی، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کو توڑ رہے ہیں، انہیں پیسے دیے جا رہے ہیں۔ دھیرج لِنگاڑے نام کے ایک رکنِ اسمبلی کو ۲۰؍ کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی ہے، ہمیں اس کا علم ہے۔ آخر آپ کو اور کتنا چاہیے؟ اسی لالچ اور دباؤ کی وجہ سے پھر آپ کو اسپتال میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ اب کہیں نہ کہیں رک جانا چاہیے۔ آج کے سیاست داں ٹالسٹائی کو نہیں پڑھتے، اس لئے انہیں یہ کہانی ضرور پڑھنی چاہیے اور اس سے سبق لینا چاہیے، ورنہ انجام خود بخود سامنے آ جائے گا۔ ‘‘
سنجے راؤت کے اس دعوے نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، ان کے اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔