Inquilab Logo Happiest Places to Work

موسلادھار بارش نے ممبئی شہرکی تیز رفتار زندگی کو سست کردیا

Updated: July 06, 2026, 5:59 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

درخت گرنے سے ۲؍ اموات، اتوار کو سیکڑوں درخت اکھڑ گئے۔ ایئرپورٹ پر رن وے کو ایک گھنٹے کیلئے بند کرنے سے ہوائی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، ۴؍ پروازیں منسوخ۔

A tree falls on a road during strong winds and rain in Dadar. Photo: INN
دادر میں تیز ہوااور بارش کےدوران ایک درخت سڑک پر گرا ہوا ہے۔ تصویر: آئی این این

یکم جولائی سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا جو صرف سڑکوں پر ہی ٹریفک جام کا سبب نہیں بنا بلکہ ممبئی ایئر پورٹ کے رن وے کو تقریباً ایک گھنٹے کیلئے بند کرنا پڑا تھا جس کی وجہ سے ہوائی ٹریفک پر بھی منفی اثر پڑا اور جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ تیز و تند ہوائوں کے ساتھ شدید بارش کے دوران اتوار کو ۲۵۰؍ سے زائد درخت اکھڑ گئے جن میں سے ۲؍ معاملات میں ایک ۱۸؍ سالہ نوجوان اور ایک ۶۳؍ سالہ شخص کا انتقال ہوگیا۔ 
درخت گرنے سے ۲؍ اموات
اتوار کو کرلا کے نوپاڑہ میں ہندی بی ایم سی اسکول کے قریب دوپہر ۱۲؍ بج کر ۴۰؍ منٹ پر ایک درخت یونس کُندا والا پر گر گیا جس سے ان کا انتقال ہوگیا۔ یونس اپنی دکان کھولنے جارہے تھے تبھی یہ حادثہ پیش آیا۔ دوسرا واقعہ آرے کالونی میں پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر جارہے ۱۸؍ سالہ حسن رضا جہانگیر عالم سید پر درخت کی بڑی شاخ گر جانے سے ان کی موت ہوگئی۔ ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے نے یونس کندا والا کیلئے ۵؍ لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔ تاہم کانگریس لیڈر اشرف اعظمی نے مطالبہ کیا ہے کہ معاوضہ کیلئے پالیسی بنائی جائے تاکہ ہر متاثرہ کو یکساں معاوضہ ملے اور خاطی پائے جانے پر بی ایم سی افسران اور ٹھیکیدار سے معاوضہ کی رقم وصول کی جائے۔ 
پتوں کی طرح درخت گررہے ہیں 
ممبئی کی سڑکوں کو بڑے پیمانے پر سیمنٹ کنکریٹ کا بنانے کی وجہ سے اس سال بارش کے دوران درخت اس طرح گر رہے ہیں جیسے پتے جھڑتے ہیں۔ اتوار کو صبح ۸؍ بجے سے دوپہرایک بجے کے درمیان شہر و مضافات میں درخت اور بڑی شاخیں گرنے کی ۲۵۰؍ سے زائد شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: موسلا دھار بارش سے سیلاب کا خطرہ، شہریوں کو الرٹ رہنے کا مشورہ

ایئر پورٹ کاکام کاج متاثر
۵؍ جولائی کو انڈیگو کمپنی کی ۴؍ پروازیں منسوخ کردی گئی تھیں جبکہ ممبئی آنے والے دیگر مختلف کمپنیوں کے ۱۳؍ ہوائی جہازوں کو موسم خراب ہونے کی وجہ سے ممبئی سے قریب دیگر ایئر پورٹ پر بھیج دیا گیا تھا اور بعد میں انہیں ممبئی ایئر پورٹ پر لینڈ کرنے کی اجازت دےد ی گئی تھی۔ 
خراب موسم اور شدید بارش کی وجہ سے زیادہ دور تک نہ دیکھ پانے کی وجہ سے ممبئی سے باہر جانے والے ۹۰؍ فیصدجہاز تقریباً ۶۵؍ منٹ تاخیر سے روانہ ہورہے تھے جبکہ ممبئی آنے والے ۴۵؍ فیصد جہاز تاخیر سے پہنچ رہے تھے۔ ایئر پورٹ کے باہری حصہ پر پانی بھر گیا تھا جس سے مسافروں کو مزید پریشانی ہوئی۔ 
ایئر پورٹ اتھاریٹی آف انڈیا (اے اے آئی) اور اڈانی کمپنی نے دن کے ابتدائی حصہ میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’صبح تقریباً ۱۰؍ بج کر ۱۷؍ منٹ پر خراب موسم، تیز ہوائوں جن کی رفتار تقریباً ۴۲؍ ’ناٹس‘ تھی اور دور تک نہ دیکھ پانے کی وجہ سے رن وے کا استعمال متاثر ہوا ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق ایئر پورٹ کے پروٹوکول کے مطابق متذکرہ حالات میں مسافروں کے تحفظ کا خیال رکھتے ہوئے رن وے کو عبوری طور پر بند کردیا گیاتھا۔ ہوائی کمپنیوں نے اپنے گاہکوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی پروازوں کے اوقات کی معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی سفر شروع کریں۔ 
شہر و مضافات میں ریکارڈ بارش
محکمہ موسمیات کے مطابق ۴؍ جولائی کو صبح ساڑھے ۸؍ بجے سے ۵؍ جولائی کو صبح ساڑھے ۸؍ بجے کے درمیان ۲۴؍ گھنٹوں میں ۲؍ روایتی مشاہدہ گاہوں، قلابہ میں ۲۶۵ء۶؍ ملی میٹر اور سانتا کروز میں ۲۲۷ء۷؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی۔ ان کے علاوہ آٹو میٹک ویدر گیج پر وکھرولی میں ۲۵۷ء۵، رام مندر ۲۵۴ء۵، بائیکلہ ۱۸۸، ودیا ویہار ۱۷۳، باندرہ ۱۶۲، سائن ۱۵۸؍ اور چمبور ٹاٹا پاور پر ۱۴۶ء۵؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی۔ 
ممبئی کے اطراف بھی شدید بارش جاری رہی پنویل میں ۲۸۲ء۲، مروڈ ۲۵۸، علی باغ ۱۹۶، اُرن ۱۴۸، کرجت ۲۹۱؍ اور ماتھیران ۴۰۸؍ ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی۔ شدید بارش کی وجہ سے کرجت میں اُلہاس ندی میں طغیانی پیدا ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ وسئی ویرار، اندھیری میں ویرا دیسائی روڈ، پوائی اور دیگر کئی مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ 
دیگر حادثات
بی ایم سی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق اتوار کو صبح ۸؍ بجے تک گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں شہر و مضافات میں کُل ۴۲؍ مقامات پر شارٹ سرکٹ کے واقعات پیش آئے۔ اس کے علاوہ دہیسر فلائی اوور پر کام کرنے والے ۲۵؍ سالہ روہت ہریجن بجلی کا جھٹکا لگنے سے زخمی ہوگئے اور انہیں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ گھروں اور عمارتوں کے حصہ گرنے کے ۲۲؍ واقعات پیش آئے جن میں سے گوونڈی کے بیگن واڑی میں پلاٹ نمبر ۲۱، جی لائن روڈ نمبر ۱۰؍ پر ایک منزلہ مکان کا حصہ گر جانے سے ۳۲؍ سالہ صائمہ انصاری زخمی ہوگئیں اور انہیں علاج کیلئے راجا واڑی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کی حالت بہتر بتائی گئی ہے۔ 
اتوار کو صبح ۸؍ بجے سے شام ۶؍ بجے تک شارٹ سرکٹ کے مزید ۸؍ واقعات ہوئے، ۱۵؍ مقامات پر گھر اور عمارتوں کے حصے گرے، البتہ ان میں کسی کے زخمی ہونے کی خبر نہیں تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK