• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: قدیم مساجد کی تزئین کاری پروجیکٹ کے تحت ’’المضفاۃ‘‘ بھی نئی ہوگئی

Updated: February 27, 2026, 9:59 AM IST | Riyadh

ولی عہد محمد بن سلمان کے اس منصوبے کا مقصد عظیم مساجد کی تعمیراتی حیثیت اور تاریخی شناخت کا تحفظ کرنا ہے۔

Al-Muzaffat Mosque: Picture after renovation and decoration. Photo: INN
مسجد المضافاۃ:مرمت و تزئین کاری کے بعد کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی تعمیر نو کے لئے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ مختلف علاقوں میں مساجد کے تعمیراتی اجزاء کے تحفظ اور قدیم مساجد کی ترقی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس منصوبے کا مقصد قدیم اور تاریخی مساجد کی ثقافتی شناخت برقرار رکھنا اور ان کی مذہبی و سماجی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔ عسیر کے علاقے میں واقع قدیم ’’مسجد المضفاۃ‘‘ ان مساجد میں شامل ہے جنہیں منصوبے کے پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ یہ سراۃ کے طرزِ تعمیر اور اس کے تاریخی تسلسل کا ایک زندہ نمونہ پیش کر سکے۔ تاریخی مسجد المضفاۃ۳۲۵؍ مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور یہ الباحہ اور ابھا شہر کو ملانے والی سڑک پر مرکز بللسمر کے قریب ابھا شہر سے تقریباً۵۵؍ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چینی کمپنی کا ملازمین کو ۲۴۰؍ کروڑ روپے بونس، ویڈیوز وائرل

اس مسجد کا نام ’’ المضافاۃ ‘‘ پچھلی صدیوں کے دوران گاؤں سے گزرنے والے مہمانوں کی میزبانی میں اس کے تاریخی کردار کی وجہ سے معروف ہوا۔ اس علاقے میں ۱۳؍ سے زیادہ کھیتوں کی فصلیں مہمانوں کی خدمت کیلئے وقف تھیں اور علاقے کے لوگوں میں جڑی ہوئی سخاوت کی اقدار کی عکاسی کرتی تھیں۔ یہ مسجد ۱۱؍ویں صدی ہجری (۱۷؍ صدی عیسوی) میں جنوبی مملکت کے علاقے عسیر کے گاؤں المضفاۃ میں سراۃ طرز پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ گاؤں اور قریبی بستیوں کے لیے جامع مسجد تھی جہاں قبیلہ المضفاۃ کے لوگ نماز ادا کرتے تھے۔ قبیلے ’’ المضفاۃ ‘‘ کی مہمان نوازی کی شہرت کی بنا پر اس مسجد کا نام بھی ’’ المضافاۃ ‘‘ ہی رکھا گیا۔ یہ عسیر کے علاقے کی نمایاں قدیم ثقافتی عمارتوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس نے اپنی تعمیر سے لے کر آج تک اپنا اصلی ڈیزائن اور ڈھانچہ برقرار رکھا ہے۔ اب بھی یہاں نمازیں ادا کی جاتی ہیں جو صدیوں سے اسکے مذہبی کردار کے تسلسل کو ظاہر کر رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر کے قانونی اخراجات ادا کرنےکی رعایت ختم کی

۱۳۸۰؍ ہجری میں مسجد کی چھت کا ایک حصہ گر گیا تھا جس کے بعد اس کے اصل ڈھانچے یا ڈیزائن میں تبدیلی کیے بغیر مرمت کا کام کیا گیا۔ یہ مسجد ایک ہال، غیر چھت والے صحن، قدیم وضو خانوں اور مہمانوں کے استقبال کے لیے ایک کمرے پر مشتمل ہے۔ اس کمرے کو "المنزلہ" کہا جاتا ہے۔ یہ تمام پتھر سے بنے ہیں اور ان کی چھتیں عرعر کی لکڑی کے تنے سے بنی ہیں ۔ اس کے اوپر ایک مستطیل مینار ہے جس کی بلندی تقریباً 4.70 میٹر ہے۔ عسیر میں قدیم مسجد ’’ المضفاۃ‘‘ کی تعمیرِ نو تاریخی مساجد کے تحفظ کی قومی کوششوں کے فریم ورک میں ایک اہم قدم ہے جو ان کی مذہبی اور تہذیبی قدر کو آنے والی نسلوں کے لیے مستحکم کرتی ہے۔ 
شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی تعمیرِ نو کا منصوبہ تعمیرات کے قدیم اور جدید معیارات کے درمیان توازن پیدا کرنے پر کام کرتا ہے تاکہ مساجد کو پائیداری فراہم کی جا سکے اور ترقی کے اثرات کو ثقافتی و تاریخی خصوصیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان مساجد کی تعمیرِ نو کا کام ورثہ عمارات میں مہارت رکھنے والی تجربہ کار سعودی کمپنیاں کر رہی ہیں جبکہ سعودی انجینئرز کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے تاکہ ہر مسجد کی بنیاد سے جڑی اصل تعمیراتی شناخت برقرار رہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK