Updated: June 21, 2026, 9:03 PM IST
| Jeddah
سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکی نے مشترکہ طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کو علاقائی امن و استحکام کے لیےاہم قرار دیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مذاکرات مثبت نتائج تک پہنچ کر خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: ایکس
سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکی نے مشترکہ طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی کو علاقائی امن و استحکام کے لیےاہم قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مذاکرات مثبت نتائج تک پہنچ کر خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔واضح رہے کہ اعلامیہ چار فریقی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا جس میں ایرانی بحران سے متعلق حالیہ پیش رفت اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں شرکاء نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی حمایت کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر سیاسی تصفیے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا: سویٹزرلینڈ میں مذاکرات سے قبل تہران کا بیان
جبکہ اعلامیے میں باقی ماندہ مسائل کے حل اور خطے میں مزید تناؤ سے بچنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا عمل جاری رہنے پر زور دیا گیا۔چاروں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع ہی مؤثر راستہ ہیں اور تمام فریقوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ اعلامیے میں فلسطینی مسئلے کو بھی مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔مزید برآں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ اور ایک منصفانہ و جامع حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔اعلامیے کے مطابق موجودہ علاقائی بحران پر قابو پانے اور سیاسی و سکیورٹی استحکام کو فروغ دینے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اسحاق ڈار جبکہ دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔