متعد میڈیا اداروں نےمعاہدے کوایران میں جاری تنازع کے پس منظر کے ساتھ پیش کیا، کچھ اداروں نے تجزیات بھی کئے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 11:46 AM IST | Riyadh
متعد میڈیا اداروں نےمعاہدے کوایران میں جاری تنازع کے پس منظر کے ساتھ پیش کیا، کچھ اداروں نے تجزیات بھی کئے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سےدستخط شدہ مکہ معاہدہ اور اس کی تفصیلات علاقائی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں تفصیل سے زیرِ بحث آئیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ’مشرقِ وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہیں لیکن سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نےباہمی دفاعی معاہدہ کیاہے‘ کے عنوان سے شائع خبر میں معاہدے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ یہ ’’علاقائی تنازعے سےفکرمند سنی مسلمان امریکی حلیفوں کویکجا کرتا ہے۔ ‘‘خبر میں حکام کے بیانات اور ماہرین کی آراء بھی شامل کی گئیں۔ بی بی سی نے’سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ‘عنوان سے شائع رپورٹ میں معاہدے کی کچھ تفصیلات، حکام کے بیانات اور ماہرین کے خیالات کو جگہ دی ہے۔ سی این این نےاسےشہ سرخی بنایا:’ایران کےساتھ جنگ کے قریب ہونے کے دوران سعودی عرب تاریخی دفاعی معاہدےکے ذریعے فوجی طاقت کو مسلم ممالک کی طرف موڑ رہا ہے۔ ‘ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ریاض، ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے پیشِ نظر ملک کے دفاع کے لیے مسلم امہ کی دنیا کی مضبوط عسکری قوتوں کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ رپورٹ میں معاہدے کی چند تفصیلات اور حکام کے بیانات بھی درج کیے گئے۔
دی نیو یارک ٹائمز نے’سعودی عرب، ترکی اورپاکستان کامشترکہ دفاعی معاہدہ‘کے عنوان سےاپنی رپورٹ میں تینوں ممالک کے حکام کے ایسےہی بیانات کی طرف اشارہ کیا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی خاص ملک کے خلاف نہیں اور دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ دی ایسوسیئٹیڈپریس (اے پی)نے ’سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نےایک اہم دفاعی معاہدہ طے کیاہے‘کے عنوان سےشائع خبر میں اصرار کیا ہے کہ یہ معاہدہ ’’جب سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں تو اس دوران یہ ۳؍ علاقائی قوتوں کے مابین تعاون کو مضبوط کرتا ہے۔ ‘‘
فنانشیل ٹائمز نے بھی ’سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ میں دفاعی معاہدہ پر دستخط کیا‘کے عنوان سے خبر شائع کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ ’’تین اتحادی ممالک جنگوں اور بےچینی سے نمٹنے کیلئے علاقائی سیکوریٹی تعاون کو گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘امریکی وال اسٹریٹ جنرل نے ’سعودی عرب، ترکی اورپاکستان کا دفاعی معاہدہ‘عنوان کے تحت لکھا کہ تینوں ممالک نے خطے میں چلی آرہی طویل افراتفری کے بعد سیکوریٹی قائم رکھنے کیلئےزیادہ قریبی عسکری روابط کی بنیاد رکھی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدہ پرایسے وقت میں دستخط کیا گیا جب ’’امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف ممکنہ جنگ نے خطے کیلئے نئے خطرات پیداکر دئیے اور امریکی سیکوریٹی شیلڈ کے متعلق نئی عدم یقینی کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ ‘‘مڈل ایسٹ آئی میں شائع رپورٹ میں ’ترکی، سعودی عرب اورپاکستان نے دفاعی معاہدہ کیا‘میں بھی اس بات کی طرف توجہ دلوائی گئی کہ معاہدہ ’’دنیا کے ۳؍سب سے بڑے مسلم ممالک کو پہلی بار ایک ہی سیکوریٹی چھت کے نیچے متحد کرتا ہے۔ ‘‘ الجزیرہ نے بھی معاہدے کی خبر کو ’سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے، جب خطے میں ہنگامےجاری ہیں، دفاعی معاہدہ دستخط کیا‘کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اس وقت میں سیکوریٹی تعاون کو گہرا کرے گا جب خطے میں بحران اور عسکری تناؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے والا نہیں، بلکہ بوجھ کی تقسیم اور مشترکہ سیکوریٹی کے تصورکی بنیاد پر علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے عہدوں کو مضبوط کرنے کی غرض سے دفاعی نوعیت کا تعاون ہے۔ یہ معاہدہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف اجتماعی روک تھام کومضبوط بنانے کا مقصد رکھتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر کسی بھی مسلح حملے کو سب کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا۔ معاہدے میں تینوں ممالک کے آپس میں ایک دوسرے کی سیکوریٹی کی حمایت کے عہد کےعلاوہ دفاعی صنعت میں تعاون اور عسکری آپریشنزمیں ہم آہنگی کو فروغ دینے والا دفاعی نوعیت کا انتظام شامل ہے۔
وزارت خارجہ کی معاہدہ پر نظر
وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ وہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ اور پاکستان و صومالیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے معاہدے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نےافریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلا ہندوستان-افریقہ سربراہ اجلاس فریقین کیلئے موزوں تاریخ پر منعقد ہوگا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نےسعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے سے متعلق سوال پر کہا کہ ’’ہم اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ‘‘