۴۴؍ سالہ حسن عرار نے۲۲؍ سال اسرائیلی جیل میں گزارے؛ رہائی کے فوراً بعد معلوم ہوا کہ والدہ ۲۰۲۴ء اور والد جنوری ۲۰۲۶ء میں انتقال کرچکے ہیں، جبکہ ۲؍ بہن بھائی بھی دنیا سے جاچکے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 10:06 PM IST | Gaza
۴۴؍ سالہ حسن عرار نے۲۲؍ سال اسرائیلی جیل میں گزارے؛ رہائی کے فوراً بعد معلوم ہوا کہ والدہ ۲۰۲۴ء اور والد جنوری ۲۰۲۶ء میں انتقال کرچکے ہیں، جبکہ ۲؍ بہن بھائی بھی دنیا سے جاچکے ہیں۔
فلسطینی قیدی حسن عرار کی۲۲؍ سال بعد رہائی ایک ایسے صدمے میں بدل گئی جس کا انہیں جیل سے باہر قدم رکھتے ہی سامنا کرنا پڑا۔ ۴۴؍ سالہ عرار کو رہائی کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے والدین دورانِ قید انتقال کرچکے ہیں اور وہ ان کی آخری رسومات میں شرکت تو دور، ان کی موت کی خبر تک نہیں جان سکے تھے۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب کے مطابق عرار کا تعلق رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع گاؤں قراوہ بنی زید سے ہے۔ رپورٹس کے مطابق عرار کو جمعرات ۲۷؍ اگست کو۲۲؍ سال کی قید کے بعد جیل سے رہا کیا گیا۔ رہائی کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کی والدہ ۲۰۲۴ء میں انتقال کرگئی تھیں، جبکہ ان کے والد رواں سال جنوری میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس دوران عرار اپنے ۲؍ بہن بھائیوں سے بھی محروم ہوگئے تھے۔ وہ ان اموات سے لاعلم رہے اور اپنے کسی عزیز کو آخری بار دیکھنے یا الوداع کہنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
Just minutes after his release, following 22 years of imprisonment, freed Palestinian prisoner Hassan Arar from Ramallah received heartbreaking news: his parents, who had waited so long for his return, had passed away before they could embrace him again. pic.twitter.com/wiwD6uzr9W
— Ramy Abdu| رامي عبده (@RamAbdu) August 27, 2026
رہائی کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو میں عرار کو اپنے اہل خانہ کی موت کی خبر سن کر زار و قطار روتے دیکھا جاسکتا ہے۔ طویل قید کے بعد اپنے گھر والوں سے ملنے کی امید کے ساتھ باہر آنے والے عرار کے لیے یہ خبر ان کی رہائی کے ابتدائی لمحات ہی میں سامنے آئی۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب نے کہا کہ ان کا معاملہ ان قیدیوں کی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے جو طویل عرصے تک حراست میں رہتے ہوئے اپنے خاندان کے افراد کی موت سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔ رہائی کے وقت عرار کی جسمانی حالت بھی خراب بتائی گئی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق انہیں جلبوع جیل سے باہر آنے کے فوراً بعد رام اللہ کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان میں شدید تھکن اور کمزوری کے آثار پائے گئے۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب کے مطابق رہائی سے پہلے کے دنوں میں عرار کو مبینہ طور پر مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی معیشت دنیا کی تاریخ کے سب سے شدید بحران میں داخل: اقوام متحدہ کی رپورٹ
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عرار نے رہائی کے فوراً بعد جیلوں میں قیدیوں کی صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں ظلم، بھوک اور مارپیٹ کے حالات دیکھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رہائی سے قبل انہیں جیل سے طبی مرکز اور پھر جلمہ چوکی تک لے جاتے ہوئے مارا گیا۔ یہ الزامات عرار کے اپنے بیان پر مبنی ہیں اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ان پر کوئی جواب اس رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ فلسطینی قیدیوں کے کلب نے عرار کے معاملے کو خاندانوں سے رابطے پر پابندیوں کے وسیع تر مسئلے سے جوڑا ہے۔ کلب کے مطابق طویل عرصے سے قید بعض فلسطینیوں کو اپنے قریبی رشتہ داروں کی موت کی اطلاع بروقت نہیں ملتی، جس کے باعث وہ آخری رسومات یا آخری ملاقات سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کلب نے خاص طور پر غزہ سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے اہل خانہ سے رابطے اور معلومات تک رسائی کی صورت حال مزید پیچیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہم پر دوبارہ حملہ کیاگیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے:ایران
فلسطینی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اگست ۲۰۲۶ء میں اسرائیلی جیلوں میں ۹۴۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی قیدی موجود تھے۔ ان اعداد و شمار میں انتظامی حراست میں رکھے گئے افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم قیدیوں کی مجموعی تعداد اور ان کی مختلف زمروں میں تقسیم کے اعداد و شمار فلسطینی اداروں کی فراہم کردہ معلومات ہیں۔ حسن عرار کی رہائی کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیو میں ان کے استقبال کے لیے قراوہ بنی زید میں لوگوں کی بڑی تعداد بھی دیکھی گئی۔۲۲؍ سال کی غیر موجودگی کے بعد ان کی واپسی ایسے وقت ہوئی جب ان کے خاندان کے اہم افراد میں سے کوئی بھی والدین کی صورت میں ان کے استقبال کے لیے موجود نہیں تھا۔