• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے عیسائیوں پر ۶۰ حملے ریکارڈ کئے گئے: انڈیا ہیٹ لیب

Updated: September 25, 2026, 10:06 PM IST | Kolkata

ان واقعات میں عیسائیوں کی نجی دعائیہ محافل، گھروں، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی اجتماعات پر ۵۲ چھاپے اور عیسائیوں پر جسمانی حملے، ہجوم کے تشدد یا توڑ پھوڑ کے ۸ واقعات شامل ہیں۔ آئی ایچ ایل نے عیسائیوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز تقاریر کے ۵ عوامی پروگراموں اور مبینہ مذہبی تبدیلی پر مرکوز تین مظاہروں کو بھی ریکارڈ کیا۔ جنوبی ۲۴ پرگنہ اور مغربی مدنا پور میں سب سے زیادہ ایسے واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انڈیا ہیٹ لیب (آئی ایچ ایل) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ۱۳ مئی سے ۲۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کے درمیان مغربی بنگال کے ۱۳ اضلاع میں عیسائیوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم ۶۰ واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ گروپ نے بتایا کہ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد ایسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، متعدد معاملات میں حملہ آوروں نے واضح طور پر اقتدار میں تبدیلی کا حوالہ دیا۔

ان واقعات میں عیسائیوں کی نجی دعائیہ محافل، گھروں، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی اجتماعات پر ۵۲ چھاپے اور عیسائیوں پر جسمانی حملے، ہجوم کے تشدد یا توڑ پھوڑ کے ۸ واقعات شامل ہیں۔ آئی ایچ ایل نے عیسائیوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز تقاریر کے ۵ عوامی پروگراموں اور مبینہ مذہبی تبدیلی پر مرکوز تین مظاہروں کو بھی ریکارڈ کیا۔ جنوبی ۲۴ پرگنہ اور مغربی مدنا پور میں سب سے زیادہ ایسے واقعات ریکارڈ کئے گئے، دونوں اضلاع میں ¹۳، ۱۳ چھاپے مارے گئے۔ ان سرگرمیوں میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ہندو جاگرن منچ اور ہندو سنگھتی ملوث تھے جن کے ممبران مبینہ طور پر دعائیہ محافل میں داخل ہوئے، منتظمین پر مذہب تبدیلی کا الزام لگایا اور متعدد معاملات میں آدھار کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کی میٹنگوں سے مسلم افسران کی بے دخلی کی رپورٹنگ: مکتوب میڈیا پر مقدمہ

رپورٹ میں عیسائی خواتین کو بنگالی ازدواجی علامات جیسے شاکھا-پولا اور سندور کے حوالے سے ہراساں کرنے کے ایک سلسلے کی بھی نشاندہی کی گئی، متعدد خواتین پر انہیں ہٹانے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، باروئی پور میں پیش آئے ایک واقعے میں انہیں ”بیجات ہندو“ (ایک ذات پات پر مبنی توہین آمیز لفظ) کہا گیا۔

متعدد واقعات میں تشدد کی شدت میں اضافہ درج کیا گیا۔ جنوبی ۲۴ پرگنہ میں ایک چرچ میں توڑ پھوڑ، سبھاش گرام میں ایک زیرِ تعمیر چرچ میں صلیبیں توڑنا اور ہاوڑہ میں ایک ہجوم کی جانب سے مذہب تبدیلی میں سہولت کاری کے الزام میں پولیس کی موجودگی میں دو افراد کو مبینہ طور پر برہنہ کرنا اور ان سے بدسلوکی کرنا شامل ہے، جہاں پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ آئی ایچ ایل نے چھاپوں کے دوران پولیس کی موجودگی اور بعد ازاں ہندو قوم پرست گروپس کے الزامات کی بنیاد پر عیسائی شرکاء کو حراست میں لینے کے ایک وسیع تر رجحان کو دستاویزی شکل دی ہے جس میں رانی گنج، چیتنیہ پور اور مدنا پور میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بی جے پی نے گزشتہ انتخابی چکر میں۵۲۹؍ کروڑ روپے خرچ کیے، صرف بنگال پر۵۴؍ فیصد

آئی ایچ ایل نے کہا کہ ہر دستاویزی واقعے کو اس میں ملوث افراد نے ریکارڈ کرکے فیس بک یا انسٹاگرام پر شیئر کیا تھا اور بعض کو لائیو اسٹریم بھی کیا گیا تھا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل ”ظاہری ادارہ جاتی استثنیٰ کے ماحول میں کام کرنے والی ایک تیزی سے منظم ہوتی ہوئی مہم“ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK