ترکی کے دوروپنار علاقے میں جدید ریڈار سے سیدھی لکیروں، قائمہ زاویوں اور ممکنہ خالی جگہوں کا پتا چلا ہے، جبکہ تقریباًایک ہزار مٹی کے نمونوں کی جانچ جاری ہے؛ محققین نے ابھی اسے حضرت نوح کی کشتی قرار نہیں دیا۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 10:12 PM IST | Istanbul
ترکی کے دوروپنار علاقے میں جدید ریڈار سے سیدھی لکیروں، قائمہ زاویوں اور ممکنہ خالی جگہوں کا پتا چلا ہے، جبکہ تقریباًایک ہزار مٹی کے نمونوں کی جانچ جاری ہے؛ محققین نے ابھی اسے حضرت نوح کی کشتی قرار نہیں دیا۔
ترکی کے مشرقی حصے میں کوہ ارارات کے قریب واقع دوروپنار فارمیشن ایک بار پھر نوح کی کشتی سے متعلق دعووں کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہاں ۲۰۲۶ء میں ہونے والی ایک بین الاقوامی تحقیق کے دوران زیر زمین ایسے ارضیاتی اشارے سامنے آئے ہیں جن میں سیدھی لکیریں، قائمہ زاویوں سے ایک دوسرے کو کاٹتی ساختیں اور ممکنہ خالی جگہیں شامل ہیں۔ محققین ان اشاروں کو مزید جانچ کے قابل سمجھ رہے ہیں، تاہم اب تک کسی سائنسی تجزیے نے یہ ثابت نہیں کیا کہ یہ ساخت واقعی نوح کی کشتی کے باقیات ہیں۔ یہ تحقیق سیواس جمہوریہ یونیورسٹی کے شعبۂ آثار قدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر جنکر آتیلا کی سربراہی میں کی جا رہی ہے۔ ترکی کی سرکاری اجازت کے تحت ہونے والے اس منصوبے میں ۵؍ ملکوں کے تقریباً ۲۰؍ سائنس دان اور طلبہ شامل رہے۔ ۲۸؍ جون سے شروع ہونے والے تقریباً ۹۰؍ روزہ فیلڈ ورک میں علاقے کی تفصیلی نقشہ سازی، 2D اور 3D ماڈل تیار کرنے، GPS پیمائش، زیر زمین ریڈار اور مٹی کے نمونے لینے کے طریقے استعمال کیے گئے۔
🚨 THEY’RE DRILLING INTO THE “NOAH’S ARK” SITE.
— Mr. Gerald Wayne (@MisterWayne) September 25, 2026
Near Mount Ararat in eastern Türkiye, researchers have begun the deepest scientific investigation yet of the 515-foot Durupınar formation, the massive boat-shaped structure some believe holds the remains of Noah’s Ark.
And things… pic.twitter.com/4TuNoXkz6e
ریڈار سروے میں زمین کے اندر کچھ ایسی بے قاعدگیاں سامنے آئیں جن کے کنارے نسبتاً منظم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر ایک دوسرے کو قائمہ زاویوں سے کاٹتی لکیریں اور خالی جگہوں جیسے اشارے بھی ملے۔ تحقیقاتی ٹیم نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ان میں سے کچھ ساختیں کمرے، راستے یا کسی بڑے ڈھانچے کے حصے ہو سکتی ہیں، لیکن ریڈار کی تصویر بذات خود کسی کمرے یا سرنگ کی موجودگی کا حتمی ثبوت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے زیر زمین نمونوں اور براہ راست جانچ کی ضرورت ہے۔ تحقیق کا ایک اہم حصہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق تقریباًایک ہزار نمونے ۱۵۰؍ مختلف مقامات سے حاصل کیے گئے۔ ابتدائی تجزیے میں فارمیشن کے اندر لیے گئے نمونوں میں باہر کی مٹی کے مقابلے میں کاربن کی مقدار تقریباً 40 فیصد زیادہ پائی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ فرق نامیاتی مادے یا لکڑی کے ممکنہ باقیات کی موجودگی سے متعلق ہو سکتا ہے، تاہم صرف کاربن کی زیادہ مقدار سے لکڑی یا کشتی کی موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: چار میں سے ایک امریکی ٹرمپ کے ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقے سے مطمئن: سروے
اس دوران تحقیقاتی منصوبے کے تحت زمین میں گہری ڈرلنگ کے ذریعے بنیادی نمونے بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کی معاون تنظیم نوحز آرک اسکینز کے مطابق ڈرلنگ تقریباً ۱۸؍ میٹر تک کی گہرائی میں کی جا رہی ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ ایک مقام پر ڈرل کا سرا سخت تہہ سے ٹکرانے کے بعد ٹوٹ گیا اور اس تہہ کو ممکنہ طور پر معدنی یا پتھر نما لکڑی سمجھ کر مزید جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ تشریح ابھی تجربہ گاہ میں ثابت ہونا باقی ہے۔ محققین اب حاصل شدہ مٹی اور بنیادی نمونوں کو تجربہ گاہ میں جانچ رہے ہیں۔ ان تجزیوں میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ نامیاتی مادہ واقعی لکڑی سے متعلق ہے یا نہیں اور اگر لکڑی کے آثار ملتے ہیں تو ان کی عمر کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ حتمی نتائج سردیوں کے دوران ہونے والے تجربہ گاہی تجزیوں کے بعد سامنے آئیں گے، جبکہ مکمل تحقیقی نتائج ۲۰۲۷ء میں شائع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
The enormous ship built by Prophet Noah to save living species and humanity from the Great Flood. When the waters receded, the ship came to rest on land.
— DaVinci (@BiancoDavinci) September 24, 2026
Researchers have officially begun drilling work in the Doğubayazıt district of Ağrı, Turkey, to investigate the site where… pic.twitter.com/R52ffEidfK
دوروپنار فارمیشن کو پہلی بار ۱۹۵۹ء میں ترک فوج کے کیپٹن الہان دوروپنار نے فضائی تصاویر میں شناخت کیا تھا۔ اس تقریباً ۱۵۷؍ میٹر طویل، کشتی نما زمینی ساخت نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی کہ اس کی شکل کو مذہبی متون میں بیان کردہ نوح کی کشتی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ تاہم کئی ماہرین ارضیات اسے قدرتی ارضیاتی ساخت قرار دیتے ہیں اور ماضی میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق میں بھی اسے قدرتی تشکیل قرار دینے کی رائے سامنے آ چکی ہے۔ تازہ تحقیق میں قدیم برتنوں کے ٹکڑے بھی ملے ہیں، جنہیں محققین نے مختلف قدیم ادوار سے متعلق قرار دیا ہے۔ تاہم ان برتنوں کی موجودگی کو بھی نوح کی کشتی سے براہ راست جوڑنے کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق ان دریافتوں کی عمر اور تاریخی تعلق مزید جانچ کے بعد واضح ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں اے آئی لیڈران کا انتباہ: دنیا اے آئی پر کنٹرول کھو سکتی ہے
دوروپنار فارمیشن پر جاری تحقیق کی تشہیر کرنے والی تنظیم کی جانب سے تازہ نتائج کو نوح کی کشتی کی موجودگی کے حق میں انتہائی مضبوط قرار دیا گیا ہے، لیکن خود اس منصوبے کی ویب سائٹ بھی اسے جاری سائنسی تحقیق قرار دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کا مقصد تاریخی یا مذہبی دعووں کی تصدیق کرنا نہیں بلکہ زیر زمین ساختوں اور ارضیاتی شواہد کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ اب تحقیق کا اگلا مرحلہ تجربہ گاہی نتائج پر منحصر ہے، جہاں مٹی اور زیر زمین سے حاصل کیے گئے نمونوں کی ساخت، نامیاتی مادے اور ممکنہ لکڑی کے آثار کی جانچ کی جائے گی۔