Updated: September 25, 2026, 8:59 PM IST
| New Delhi
رپورٹ کے مطابق، سائبر کرائم کا شکار ہونے والے صرف ۵۱ فیصد متاثرین نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور ان میں سے ۴۲ فیصد کو اس عمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت کنندگان میں سے تقریباً ۲۵ فیصد افراد نے پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ پولیس اسٹیشن کے چکر لگائے، دیہی علاقوں کے متاثرین نے اس سے زیادہ چکر لگائے۔ جن متاثرین نے اپنے مقدمات کو آگے بڑھانے کیلئے ذاتی تعلقات کا سہارا لیا، ان کے اپنے پورے نقصانات کی بازیابی کے امکانات، تعلقات کا استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے تین گنا زیادہ تھے۔
کامن کاز (Common Cause) اور لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس (Lokniti-CSDS) کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی ”اسٹیٹس آف پولیسنگ ان انڈیا رپورٹ ۲۰۲۶ء“ کے مطابق، ڈجیٹل مالیاتی دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے تقریباً تین چوتھائی افراد اپنی کھوئی ہوئی رقم میں سے کچھ بھی واپس حاصل نہ کرسکے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن جواب دہندگان کی شکایات درج کی گئیں ان میں سے ۲۷ فیصد نے پولیس کو رشوت دینے کا اعتراف کیا اور جنہوں نے رشوت دی ان کے اپنے مکمل نقصانات کی تلافی کے امکانات رشوت نہ دینے والوں کے مقابلے تین گنا زیادہ تھے۔ امیروں کے مقابلے، غریب متاثرین کی جانب سے رشوت دینے کی شرح تقریباً چار گنا زیادہ بتائی گئی۔
اس سلسلے کی یہ ساتویں رپورٹ سائبر کرائم پر مرکوز ہے، جو ۱۶ ریاستوں کے ۸۳۰۶ افراد کے درمیان کرائے گئے سروے اور ۳۷ افراد کے تفصیلی انٹرویوز پر مبنی ہے۔ ۱۳ فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو سے تین برسوں میں سائبر کرائم کا شکار ہوئے، کم عمر اور کم تعلیم یافتہ افراد کے درمیان سائبر کرائم کا شکار بننے کے امکانات زیادہ پائے گئے۔ رپورٹ کئے گئے سائبر جرائم میں سے نصف سے زیادہ ڈجیٹل مالیاتی فراڈ سے متعلق تھے، جبکہ ۱۱ فیصد واقعات ذاتی ڈیٹا کی چوری، ۷ فیصد واقعات سائبر بلنگ اور ۴ فیصد واقعات آن لائن جنسی استحصال سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲؍ اکتوبر کے’’نو یوپی آئی ڈے‘‘ کو تاجروں کی قومی تنظیموں کی بھی حمایت
رپورٹ کے مطابق، سائبر کرائم کا شکار ہونے والے صرف ۵۱ فیصد متاثرین نے پولیس میں شکایت درج کرائی اور ان میں سے ۴۲ فیصد کو اس عمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت کنندگان میں سے تقریباً ۲۵ فیصد افراد نے پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ پولیس اسٹیشن کے چکر لگائے، دیہی علاقوں کے متاثرین نے اس سے زیادہ چکر لگائے۔ جن متاثرین نے اپنے مقدمات کو آگے بڑھانے کیلئے ذاتی تعلقات کا سہارا لیا، ان کے اپنے پورے نقصانات کی بازیابی کے امکانات، تعلقات کا استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے تین گنا زیادہ تھے۔
بینکوں کے معاملے میں، ۵۲ فیصد متاثرین نے علیحدہ شکایات درج کرائیں اور ۶۳ فیصد نے ۲۴ گھنٹوں کے اندر فراڈ کی اطلاع دی۔ اس کے باوجود ۷۲ فیصد کو کچھ بھی واپس نہ مل سکا۔ انٹرویو دینے والوں نے بتایا کہ بینک اکثر متاثرین پر ہی جعل سازوں کے ساتھ ”ملی بھگت“ کا الزام لگا دیتے ہیں۔ رپورٹ میں شدید ذاتی نقصانات کو بھی قلمبند کیا گیا ہے، جس میں ایک خاتون کا حمل ضائع ہونا، ایک متاثرہ خاتون کا اپنا پیشہ چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونا اور ایک ریٹائرڈ شخص کا اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کھونے کے بعد شدید ڈپریشن کا شکار ہونا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: جامع مسجد میں بیمار ہندو بچی کے علاج کیلئے سیکڑوں مسلمان آگے آئے
ان تمام انکشافات کے باوجود، ۲۹ فیصد جواب دہندگان کا ماننا تھا کہ پولیس مالیاتی سائبر جرائم سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر لیس اور تیار ہے، اگرچہ خود متاثرین کو اس جائزے پر بہت کم اعتماد تھا۔