Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوجی سی-این ای ٹی کے منسوخ شدہ پرچوں کی تیاری میں اے آئی کے استعمال کا سنسنی خیز الزام

Updated: August 21, 2026, 12:48 PM IST | Agency | New Delhi

این ٹی اے نے تردید کی ، کہا کہ ’’انسانی نظر ثانی‘‘ کو یقینی بنایا گیا تھا، کئی سوال برقرار۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

نیٖٹ اور یو جی سی- این ای ٹی جیسے اہم امتحانات کا انعقاد کرنےوالا ادارہ ’’ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی ‘‘(این ٹی اے)  جو پہلے ہی کئی تنازعات میں گھرا ہوا ہے، ایک نئے تنازع میں پھنس گئی ہے۔ یو جی سی- این ای ٹی  کے جو ۳؍ پرچے خامیوں کی  بنا پر منسوخ کئے گئے  ہیں، ان کے تعلق سے انکشاف  ہوا ہے کہ وہ اے آئی سے  بنوائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: بن گوریون ہوائی اڈے پر مزدوروں کی ہڑتال، ۸۳؍ لاکھ ڈالر کا نقصان

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف  موضوعات  کے ماہرین اور این ٹی اے کے سابق عہدیداروں نے منسوخ کئے گئے تینوں  پرچوں کی غلطیوں کو انسانی جانچ پڑتال کی کمی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ این ٹی اے نے متنازع سوالیہ پرچوں کی تیاری میں ’’جنریٹو اے آئی‘‘ کے استعمال کی تردید کی ہے۔ این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ نے اخبار  سے گفتگو میں صفائی دی ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تیاری کے بعد  ان کی ’’انسانی نظر ثانی ‘‘ ہوئی ہے  تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ پھر یہ غلطیاں کیسے نظر انداز ہو گئیں۔

بڑے پیمانے پر شکایتیں سامنے آنے کے بعد تقریباً ۶؍ہفتے کی تاخیر  سے این ٹی اے نے  یو جی سی -این ای ٹی  کےانگریزی، کامرس اور سوشیالوجی کے امتحان دوبارہ لینے کا حکم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تیاری میں اے آئی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کرلا: ہائیڈرولک کرین ریلوے کی اوورہیڈ لائن پر جا گری، ۱۰؍ افراد زخمی

این ٹی اے  میں مختلف موضوعات کیلئے ماہر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے افراد   نے بتایا ہے کہکہ نیٹ-یو جی کے سوالیہ پرچوں کے ترجمے میں بھی اے آئی کا استعمال کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ مذکورہ پرچوں کے لیک ہونے کی وجہ سے جنتر منتر احتجاج کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑاتھا۔تازہ الزامات کےبعد اعلیٰ سطح کے اوراہم  امتحانوں میں  اے آئی کے استعمال کی حد اور مناسب جانچ پڑتال  کے تعلق سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ وزارت تعلیم کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ این ٹی اے کے افسران کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں میں یہ بات سامنے آئی کہ جوابی کلید (آنسر کی) جاری نہیں کی جا سکی کیونکہ سوالیہ پرچے’’عارضی اور غیر منظم انداز‘‘میں تیار کئے گئے تھے۔ سوشولوجی  کے امتحان میں ماہرین اور امیدواروں نے ناموں کی غلط املے، غیر واضح اصطلاحات، ناقص ترجمے اور نصاب سے باہر کے سوالات کی شکایات کی ہیں۔ جارج رِٹزر، ٹالکوٹ پارسنس اور جی ایس گھوریے جیسے ماہرین کے نام بھی  پرچے میں مبینہ طور پر غلط  لکھے گئے تھے۔انگریزی کے پرچے میں بڑے پیمانے پر سوالات کے  دہراؤ پر  تنقید ہوئی۔ امیدواروں  نے نشاندہی کی کہ ۱۵۰؍ میں سے تقریباً۶۷؍ سوالات گزشتہ سال کے یو جی سی -این ای ٹی امتحان میں پوچھے جا چکے تھے۔ کامرس کے امیدواروں نے ٹیکس، بریک- ایون  انالائسس، کیپٹل اسٹرکچر اور سروسیز مارکیٹنگ جیسے موضوعات پر سوالات دہرائے جانے کی شکایت کی تھی۔  این ٹی اے کی جانچ  میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ غلطیوں کی وجہ   تکنالوجی (اے آئی) کا  استعمال  ہے تاہم سوالات کے بار بار دہرائے جانے کی وجوہات اب بھی واضح نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK