پاکستان کرکٹ ایک بار پھر بڑے بحران سے دوچار ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میں مایوس کن شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جاری سیریز کے دوران ہی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 9:04 PM IST | Karachi
پاکستان کرکٹ ایک بار پھر بڑے بحران سے دوچار ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میں مایوس کن شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جاری سیریز کے دوران ہی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی ہیں۔
پاکستان کرکٹ ایک بار پھر بڑے بحران سے دوچار ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میں مایوس کن شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جاری سیریز کے دوران ہی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر دی ہیں، جبکہ سابق کپتان مصباح الحق نے قومی سلیکشن کمیٹی سے استعفیٰ دینے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔پاکستان کو لیڈز ٹیسٹ میں ایک اننگز اور ۱۰۳؍ رنز سے شکست ہوئی تھی، جبکہ لارڈز میں اسے ۱۹۴؍رنز سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں ۰۔۲؍کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔ ۹؍ ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اونجرز: ڈومزڈے ‘‘ کی ری شوٹنگ نے کیمیوز کی قیاس آرائیاں بڑھا دیں
محمد رضوان، امام الحق، سلمان آغا، علی عثمان، عامر جمال، اویس ظفر اور خرم شہزاد کی جگہ صائم ایوب، عبداللہ فضل اور پانچ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے ابھی تک بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا۔ ان میں عرفات منہاس، محمد عمران جونیئر، سعد بیگ، محمد عمران رندھاوا اور رضا اللہ شامل ہیں۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی صرف پانچ میچوں کے بعد ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ محدود اوورز کی ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو اب ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں اس لیے بھی قابل توجہ ہیں کہ پی سی بی حال ہی میں ریڈ بال اور وائٹ بال کرکٹ کے لیے الگ معاہدوں اور خصوصی نظام پر غور کر رہا تھا، تاہم یہ منصوبہ ابھی حتمی شکل نہیں پا سکا۔ اب مائیک ہیسن عملاً تینوں فارمیٹس کی ٹیموں کی کوچنگ سے وابستہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیڈرر کے شاندار کریئر کا ایک اور بڑا اعزاز، ہال آف فیم میں شمولیت
مصباح الحق کے استعفے کی پیشکش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔۲۰۱۷ء میں پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان کے طور پر ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے وہ پی سی بی میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس وقت چار رکنی سلیکشن کمیٹی کے رکن اور سال میں ۱۸۰؍ دن کے معاہدے کے تحت بیٹنگ کنسلٹنٹ بھی تھے۔
پی سی بی میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ کے طویل مدتی منصوبہ بندی اور انتظامی استحکام پر نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ جیسن گلیسپی صرف پانچ ٹیسٹ تک کوچ رہے، جبکہ گیری کرسٹن ایک بھی ون ڈے کوچ کیے بغیر عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ پی سی بی نے ماضی میں پاکستان کرکٹ کی سرجری کا وعدہ کیا تھا، لیکن موجودہ صورتحال سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ خراب کارکردگی کے بعد ہر بار کھلاڑیوں اور کوچز کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، جبکہ بنیادی انتظامی مسائل اور ٹیم کے استحکام کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔