نیویارک میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی تقریرکے دو دن بعد ۹۰؍ امریکی سیاستدانوں نے آر ایس ایس سے منسلک فنڈنگ نہ لینے کا عہدکیا، دستخط کنندگان میں کیلیفورنیا کے رو کھنہ شامل ہیں، جنہوں نے۶۶۰۰؍ ڈالر واپس کر دئے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 7:03 PM IST | New York
نیویارک میں آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی تقریرکے دو دن بعد ۹۰؍ امریکی سیاستدانوں نے آر ایس ایس سے منسلک فنڈنگ نہ لینے کا عہدکیا، دستخط کنندگان میں کیلیفورنیا کے رو کھنہ شامل ہیں، جنہوں نے۶۶۰۰؍ ڈالر واپس کر دئے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے سنیچر کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ’’عالمی یگانگت‘‘ کے عنوان پر تقریر کی، جبکہ اسی وقت ، تقریباً۹۰؍ امریکی سیاستدانوں کے ایک گروپ نے عہد کیا کہ وہ اس ہندوتوا تنظیم سے منسلک سیاسی تعاون کو قبول نہیں کریں گے جس کی وہ بھاگوت قیادت کرتے ہیں۔اس عہد کے دستخط کنندگان میں کانگریس کے اراکین، ریاستی قانون ساز، میئرز، مقامی منتخب عہدیدار اور ڈیموکریٹک اور ریپبلکن حلقوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں۔چھ صفحات پر مشتمل یہ عہد سیاستدانوں سے سیاسی تشدد اور دھمکیوں کو مسترد کرنے اور آر ایس ایس کے اداروں اور حامیوں سے موصول ہونے والی رقم واپس کرنے یا اسے جمہوریت کی حمایت کرنے والی تنظیموں کو بھیجنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔سب سے نمایاں دستخط کنندگان میں امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین پراملا جے پال (واشنگٹن)، رو کھنہ (کیلیفورنیا) اور رابن کیلی (الینوائے) شامل ہیں۔ مشی گن کی نومنتخب ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبداللہ سیّد بھی دستخط کنندگان میں شامل تھے، جیسا کہ نیویارک کے بریڈ لینڈر تھے، جو ایک ڈیموکریٹک کانگریسی امیدوار ہیں اور سنیچر کو شہر میں بھاگوت کی تقریر کے خلاف مظاہروں میں بھی شریک ہوئے۔رو کھنہ نے ایک بیان میں کہاکہ ’’مجھے اس عہد کی قیادت کرنے اور آر ایس ایس اور عالمی جمہوریت پر ان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے پر فخر ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے حال ہی میں موصول ہوئے ۶۶۰۰؍ ڈالر کی رقم بھی واپس کرنے کا اعلان کیا۔روکھنہ نے کہا کہ وہ آر ایس ایس کو امریکہ میں پی اے سی بنانے یا انتخابات پر اثر انداز ہونےکی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دنیا کو دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف متحد ہونا ہوگا‘‘
واضح رہے کہ امریکہ میں پی اے سی (پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) ایک نجی گروپ ہے جو اراکین، عطیہ دہندگان یا ملازمین سے رقم جمع کرکے سیاسی مہم کو فنڈ دیتا ہے۔ بعد ازاں ۲۰۲۳ء میں، دی نیشن نے رپورٹ کیا کہ کھنہ جنہوں نے اس سال وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی کانگریس میں تقریر کرنے کے لیے زور دیا تھا کو پچھلے۱۲؍ سالوں میں امریکہ میں ہندوتوا حامیوں سے۱۱۰۰۰۰؍ ڈالر سے زیادہ موصول ہوئے۔ اس کے جواب میں، کھنہ نے کہا کہ ان کے ہزاروں جنوبی ایشیائی عطیہ دہندگان ہیں اور وہ ان میں سے ہر ایک سے ہندوستانی سیاست پر ان کے خیالات نہیں پوچھتے۔ تاہم بھاگوت کی امریکہ آمد سے چند دن پہلے، امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ آر ایس ایس کے اراکین کے خلاف پابندیوں پر غور کرے اور آر ایس ایس کے لیڈروں کو ریاست ہائے متحدہ میں داخلے سے روکے۔ کمیشن کی سفارش غیر پابند تھی۔ مزید برآں اب آر ایس ایس کے اثر و رسوخ کے خلاف مہم ایک اور میدان میں داخل ہو رہی ہے جس کا نام ہے’ امریکی انتخابی مالیات‘۔ لیکن یہ کوئی نیا نہیں ہے۔سیکرڈ ایکٹس، جو امریکہ میں ’’انتہا پسند جنوبی ایشیائی امریکی گروپوں‘‘کو بے نقاب کرنے کے لیے کام کرتا ہے، نے۲۰۲۳ء میں انڈین امریکن مسلم کونسل، ایشین امریکن مڈویسٹ پروگریسو، انڈیا سول واچ انٹرنیشنل اور ہندوز فار ہیومن رائٹس کی حمایت کے ساتھ الینوائے میں اپنا عدم تشدد کا عہد شروع کیا۔ اس کے بعد سے، وفاقی، ریاستی اور مقامی انتخابات میں تقریباً۹۰؍ عہدیداروں اور امیدواروں نے اس پر دستخط کیے ہیں۔سیکرڈ ایکٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پشکر شرما نے خط میں کہا، ’’گزشتہ دہائی کے دوران، صرف الینوائے میں، آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں کی سیاسی مہم میں کم از کم ڈھائی ملین ڈالرصرف کئے تاکہ اپنے غیر جمہوری، انتہا پسند ایجنڈے کو فروغ دیا جا سکے جو جنوبی ایشیائی امریکیوں کی وسیع اکثریت کے عقائد کی نمائندگی نہیں کرتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیپال کی جرأت، امریکہ، چین اور ہندوستان سے معاوضہ مانگا
ذہن نشین رہے کہ امریکہ میں سیاسی عطیات پولیٹیکل ایکشن کمیٹیز، انفرادی عطیہ دہندگان، منسلک تنظیموں اور دیگر اداروں کے ذریعے منتقل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، آر ایس ایس سے منسلک فنڈز کو محض کسی سیاستدان کے انتخابی مالیاتی ریکارڈ میں تنظیم کا نام تلاش کرکے شناخت نہیں کیا جا سکتا۔ہندوز فار ہیومن رائٹس ایکشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریا چکرورتی نے کہا، ’’بہت طویل عرصے سے، آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں اور افراد نے خود کو امریکی سیاست میں ہندو امریکیوں کے واحد وکیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ عہد اور تقریباً۱۰۰؍ سیاسی لیڈروں کی طرف سے اسے اپنانا جنوبی ایشیائی اور ہندو امریکی کمیونٹیز کی آر ایس ایس کی غلط ترجمانی کی ایک تاریخی تردید ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایس سی او اجلاس : ایران پر حملوں کی مذمت
اسی دن جب یہ عہد جاری کیا گیا، اور جب بھاگوت کنیڈا کی طرف روانہ ہوئے، اس ملک میں ایک گروپ نے آر ایس ایس سے متعلق فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔کنیڈا کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم جسٹ پیس ایڈوکیٹس نے کہا کہ انہوں نے کنیڈا ریونیو ایجنسی میں ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں۲۱؍ رجسٹرڈ کنیڈین چیریٹی اداروں کی فلاحی حیثیت کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن میں ہندو سویم سیوک سنگھ کنیڈا، ایکل ودیا لایا فاؤنڈیشن آف کنیڈا، اور وشنو ہندو پریشد آف اونٹاریو شامل ہیں۔ اس اعلان میں سائنسز پو کے سینٹر فار انٹرنیشنل ریسرچ کے ایک مطالعے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کنیڈا میں آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں کے درمیان تقریباً۴۶؍ ملین ڈالر کی منتقلی ہوئی، اور ہندوتوا تنظیموں سے بیرون ملک آر ایس ایس سے منسلک گروپوں کو۲۱؍ اعشاریہ ۵؍ ملین ڈالر بھیجے گئے۔