• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُدے کوٹک نے خبردار کیا، کہا: حکومتوں کا بڑھتا قرض مہنگائی کا سبب بنے گا

Updated: September 02, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi

معروف بینکر اور اُدے کوٹک نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بونڈ ییلڈ اور حکومتوں کے بڑھتے ہوئے قرض کو لے کر سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے سرکاری قرض اور مالیاتی خسارے کے باعث مرکزی بینکوں کو اپنی بیلنس شیٹ بڑھانے، یعنی مالیاتی نظام میں زیادہ رقم داخل کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

Uday Kotak.Photo:INN
اُدے کوٹک۔ تصویر:آئی این این

معروف بینکر اور اُدے کوٹک نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی  بونڈ ییلڈ اور حکومتوں کے بڑھتے ہوئے قرض کو لے کر سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے سرکاری قرض اور مالیاتی خسارے کے باعث مرکزی بینکوں کو اپنی  بیلنس شیٹ بڑھانے، یعنی مالیاتی نظام میں زیادہ رقم داخل کرنے  پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور قلیل مدت میں شرح سود میں مزید اضافے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عاقب جاوید کا امام الحق پر سخت حملہ، کارروائی اور انکوائری کا اعلان

اُدے کوٹک کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب  جاپان کی ۱۰؍ سالہ سرکاری بونڈ ییلڈ۳؍ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے ، جو ۱۹۹۶ء کے بعد بلند ترین سطح بتائی جارہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی ۱۰؍ سالہ ٹریژری بونڈ ییلڈ تقریباً ۸ء۴؍ فیصد کے آس پاس ہے۔ کوٹک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ حکومتوں کے بڑھتے قرض اور مالیاتی خسارے کے باعث مرکزی بینکوں کے سامنے اپنی بیلنس شیٹ بڑھانے کے علاوہ محدود راستے رہ جائیں گے۔
 کوٹک کے مطابق اگر مرکزی بینک بڑے پیمانے پر رقم نظام میں داخل کرتے ہیں تو اس سے  مہنگائی میں اضافے کا دباؤ  پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں قلیل مدت میں شرح سود بھی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ آنے والے عرصے میں  شرح سود میں اتار چڑھاؤ  کے لیے تیار رہیں، کیونکہ عالمی مالیاتی حالات میں تبدیلی سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
 جاپان طویل عرصے سے دنیا میں بچت کے ایک بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ملک میں کئی سال تک شرح سود انتہائی کم رہنے کی وجہ سے جاپانی سرمایہ کاروں نے بہتر منافع کے لیے بیرونِ ملک  بونڈز اور دیگر اثاثوں  میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔اب جاپان میں بونڈ ییلڈ بڑھنے سے یہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔ اگر جاپانی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں ہی زیادہ منافع ملنے لگے تو وہ غیر ملکی بونڈز کی خریداری کم کرسکتے ہیں۔ اس سے عالمی بونڈ مارکیٹ میں طلب متاثر ہوسکتی ہے اور  عالمی ییلڈ پر مزید اضافے کا دباؤ  پیدا ہوسکتا ہے۔  گزشتہ دو برسوں کے دوران جاپان کی ۱۰؍ سالہ سرکاری بونڈ ییلڈ میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:ٹائمز اسکوائر پرحملہ کا شکار ہونےوالی ایرن پیاسینٹی کون تھیں؟

اُدے کوٹک کی وارننگ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ  عالمی قرض، مالیاتی خسارے اور بڑھتی بونڈ ییلڈ  آنے والے عرصے میں مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم خطرات بن سکتے ہیں۔ اگر مہنگائی دوبارہ مضبوط ہوتی ہے تو مرکزی بینک شرح سود میں کمی کے بجائے اسے زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتے ہیں، جس سے بونڈز، اسٹاک مارکیٹس اور دیگر اثاثوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK