شاہین آفریدی پر ٹیم ہوٹل میں سیکوریٹی پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے کی اندرونی تحقیقات کے بعدلاہور قلندرس نے ۱۰؍ لاکھ پاکستانی روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 4:04 PM IST | Karachi
شاہین آفریدی پر ٹیم ہوٹل میں سیکوریٹی پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے کی اندرونی تحقیقات کے بعدلاہور قلندرس نے ۱۰؍ لاکھ پاکستانی روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
شاہین آفریدی پر ٹیم ہوٹل میں سیکوریٹی پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے کی اندرونی تحقیقات کے بعدلاہور قلندرس نے ۱۰؍ لاکھ پاکستانی روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ تاہم ٹیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو عوامی سطح پر اصل حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
واقعہ کی اطلاع سامنے آتے ہی فرنچائز نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی عمل سے پاکستان سپر لیگ کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ فرنچائز کے مطابق یہ جرمانہ ایک ’’رضاکارانہ اور پیشگی قدم‘‘ ہے، جس کا مقصد نظم و ضبط کو مضبوط کرنا اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے شاہین پر ان کی شمولیت کے باعث یہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے، اور اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی تفصیلی جواب جمع کرا دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ٹیم ہوٹل میں سیکوریٹی پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق تھا، جس میں شاہین آفریدی اور سکندر رضا کا نام سامنے آیا۔ رپورٹس کے مطابق، سیکوریٹی حکام اور پی سی بی سے باضابطہ اجازت نہ ملنے کے باعث چار غیر مجاز افراد کو ابتدا میں کھلاڑیوں کے فلور پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم، بتایا جاتا ہے کہ کھلاڑیوں نے ان ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان افراد کو ہوٹل کے کمرے تک لے گئے، جہاں وہ تقریباً تین گھنٹے تک موجود رہے۔ یہ سب ڈیوٹی پر موجود سیکوریٹی اہلکاروں کی ہدایات اور اعتراضات کے باوجود کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’دُھرندھر‘‘ کی کامیابی کے بعد ارجن رامپال نےاپنی کامیابی کا رازبتایا
فخر زماں پر ایک میچ کی معطلی کا خطرہ
پی ایس ایل ۲۰۲۶ءمیں کراچی کنگز کے خلاف لاہور قلندرس کی چار وکٹوں سے شکست کے دوران گیند کی حالت بدلنے کے الزام کے بعد فخر زماں پر ایک میچ کی معطلی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ الزام لیول تھری جرم کے زمرے میں آتا ہے، جس میں کم از کم ایک میچ کی پابندی شامل ہے۔ میچ ریفری روشن مہاناما آئندہ دنوں میں اس معاملے کی سماعت کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:چنئی سپر کنگز کو چھوڑنا جذباتی تھا : رویندر جڈیجہ
یہ واقعہ کراچی کی اننگز کے آخری اوور کے آغاز میں پیش آیا، جب آن فیلڈ امپائر فیصل آفریدی نے حارث رؤف اور فخر کے درمیان سے گزرنے کے بعد گیند واپس منگوائی۔ کافی دیر کی بات چیت کے بعد حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی، جس پر گیند تبدیل کر دی گئی اور کراچی کو پانچ پینالٹی رنز بھی دے دیے گئے۔ اگرچہ فخر اس الزام کی مخالفت کریں گے، لیکن اس واقعہ نے تقریباً دو سال پہلے ورلڈ کپ کے ایک میچ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس مرحلے پر فخر زماں کسی بھی الزام میں قصوروار ثابت نہیں ہوئے ہیں اور پی ایس ایل کی سماعت میں مکمل ضابطہ کار پر عمل کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی سماعت کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ معاملہ کتنا بڑا رخ اختیار کرتا ہے۔