Inquilab Logo Happiest Places to Work

بریلی: مسلم نوجوان سے مارپیٹ، توہین اورغیر اسلامی نعرے لگوائے، کلیدی ملزم گرفتار

Updated: March 31, 2026, 5:04 PM IST | Bareli

اترپردیش کے بریلی میں ایک مسلم نوجوان سے مارپیٹ کی گئی، توہین کی گئی، اور غیر اسلامی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا، پولیس نے اس معاملے میں کلیدی ملزم کو گرفتار کرلیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک مسلم نوجوان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کی توہین کی گئی، اور اسے ہندوتوا کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔پولیس نے مرکزی ملزم رشبھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا ہے، اور بتایا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔پولیس اور ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ۲۸؍ مارچ کی شام کینٹونمنٹ تھانے کے علاقے میں پیش آیا۔متاثرہ شخص شعیب، جو دبئی میں کام کرتا ہے، کو مبینہ طور پر ایک عوامی مقام پر نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے روک لیا۔ اس کے ساتھ مارپیٹ، گالیاں دینے اور ہندوتوا کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے کا الزام ہے۔ملزمان نے تشدد کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی اور اسے سوشل میڈیا پر گردش کیا۔ یہ ویڈیو اب انٹرنیٹ پر وائرل ہے۔ویڈیو میں واضح طور پر کچھ ایسے افراد نظر آ رہے ہیں جو خود کو بجرنگ دل سے وابستہ بتا رہے ہیں، جنہوں نے شعیب کو روکا۔تشدد کے دوران، ملزم رشبھ ٹھاکر نوجوان پر ’’لو جہاد‘‘ میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہوا نظر آیا۔ گروپ نے متاثرہ شخص کوگالیاں دیں، دھمکی دی  اور مذہبی نعرے لگانے اور یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا کہ تمام ہندو خواتین ان کی بہنیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کو اوبی سی کے فوائد سے محروم کرنے کا شرانگیز مطالبہ ، پالیمنٹ میں ہنگامہ

ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس کی ایک مقامی ہندو خاتون سے جان پہچان تھی۔ تاہم ویڈیو میں کوئی خاتون نظر نہیں آ رہی ہے۔خاتون کے والد، وجیندر سنگھ نے علیحدہ شکایت درج کروائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بھی ملزم رشبھ ٹھاکر نے بدسلوکی کی اور اس نے شعیب پر بھی حملہ کیا۔تاہم، جب مکتوب میڈیا نے وجیندر سنگھ سے بات کی تو انہوں نے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا، کہا،اور کہا کہ معاملہ  حل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، میری بیٹی شعیب کو جانتی ہے۔ تاہم انہوں نے ٹھاکر کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ دریں اثناء  کینٹونمنٹ پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹھاکر نے نہ صرف متاثرہ شخص پر حملہ کیا بلکہ اس سے رقم بھی لوٹی۔ متاثرہ شخص نے الزام لگایا کہ اس سے ۷؍ ہزار روپے نقد لوٹ لیے گئے اور اضافی۲۰۰۰؍ روپے ڈیجیٹل طور پر منتقل کروائے گئے۔ بعد ازاں ایس پی سٹی منوش پریک نے بتایا، ’’یہ ایک منظم گروپ لگتا ہے جو لوگوں کو دھمکانے، ان پر حملہ کرنے اور ان سے رقم لوٹنے کے لیے مذہب اور ذات کا بہانہ استعمال کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایکس نے رام نومی کے دوران ہندوتوا تشدد کا فیکٹ چیک کرنے والے محمد زبیر کی پوسٹس کو بلاک کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ اس گروپ سے منسلک مزید مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔۳۰؍اپریل کو جاری کردہ ایک سرکاری پریس نوٹ میں پولیس نے کہا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعدد دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں حملہ، مجرمانہ دھمکی، اور بھتہ خوری سے متعلق دفعات شامل ہیں۔۲۹؍ مارچ کو، خفیہ اطلاع پر، پولیس ٹیم نے کٹھ پلہ پل کے قریب رشبھ ٹھاکر کو گرفتار کیا۔حکام نے باضابطہ شکایت اور واقعے کے ویڈیو ثبوت ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا، جس کے نتیجے میں لوٹی گئی رقم کا کچھ حصہ برآمد ہوا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرکزی مجرم کچھ دن پہلےہفتہ وصولی کے ایک اور معاملےتڑی پار تھا، جس کی وجہ سے اس کی خلاف ورزی پر اضافی دفعات شامل کی گئیں۔پولیس کی جانب سے اس جرم میں ملوث باقی نامعلوم افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں، قانونی کارروائی جاری ہے۔بریلی پولیس کے ایریا آفیسر سٹی فرسٹ، اشوتوش نےبتایا کہ پولیس نے رشبھ کے قبضے سے۳۳۰۰؍ روپے نقد اور ایک موبائل فون برآمد کیا۔انہوں نے بتایا، "پوچھ گچھ کے دوران، ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر متاثرہ شخص کو ایک مندر کے قریب روکا، اسے دھمکیاں دیں، حملہ کیا اور رقم لوٹی۔ اس نے سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلانے کے لیے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا بھی اعتراف کیا۔"انہوں نے یہ بھی کہا کہ "اس واقعے کے دوران خاتون اور اس کے والد محفوظ تھے، مقدمہ ان کی شکایت پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دباؤ میں ہوں، اس لیے وہ اپنے بیانات بدل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا

سرکل آفیسر نے کہا، ’’ایف آئی آر شعیب کی موجودگی میں درج کی گئی، اور میڈیکل کے بعد اسے گھر بھیج دیا گیا۔‘‘جب پوچھا گیا کہ وہ اس طرح کے کام کیسے انجام دے سکتا ہے جبکہ اسے پہلے ہی ضلع میں داخل ہونے سے روکا جا چکا تھا، تو افسر نے کہا، ’’ہم اس کے ہاتھ پاؤں نہیں باندھ سکتے۔ جب بھی وہ جرم کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔‘‘حکام نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، توجہ دیگر ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری پر مرکوز ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK