ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ میٹنگ سے اگر کوئی ایم پی غیر حاضر رہا تو سخت کارروائی کی جائے گی ، سنجے رائوت کی پریس کانفرنس ،’’ باغیوں‘‘کو سخت سست کہا۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 1:04 PM IST | Mumbai
ادھو ٹھاکرے نے واضح کردیا کہ میٹنگ سے اگر کوئی ایم پی غیر حاضر رہا تو سخت کارروائی کی جائے گی ، سنجے رائوت کی پریس کانفرنس ،’’ باغیوں‘‘کو سخت سست کہا۔
مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) میں ممکنہ اندرونی اختلافات اور بعض اراکین پارلیمان کے دوسرے گروپ میں شامل ہونے کی افواہوں نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ اسی دوران پارٹی نے اپنے تمام اراکین پارلیمنٹ کو نوٹس بھیج کر جمعرات کی صبح ہونے والی میٹنگ میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔اس دوران شیوسینا (ادھو ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے رائوت نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے اراکین پارلیمان کو خریدنے کے لئے فی رکن ۱۵؍ کروڑ روپے ابتدائی پیشکش کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال پارٹی کو کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے اور قیادت اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
پارٹی کی میٹنگ
پارٹی قیادت نے اس بحران کے پیش نظر جمعرات کی صبح ۱۱؍بجے ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ ناراض یا باغی سمجھے جانے والے اراکین پارلیمان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ادھو ٹھاکرے گروپ کے رکن پارلیمنٹ اور چیف وہپ انل دیسائی کے لیٹر ہیڈ سے جاری کردہ نوٹس میں بالکل واضح کردیا گیا ہے کہ پارٹی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو میٹنگ میں شریک ہونا پڑے گا ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی کے بعض لوک سبھا اراکین سے ٹیلی فون نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ ان لوگوں اپنے فون بند کردئیے ہیںجبکہ کچھ لیڈروں نے انہیں ’’ناقابلِ رسائی‘‘ قرار دیا ہے، جس سے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت ملی ہے۔
شریکانت شندے کا رول !
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے بعض ایم پی دہلی میں شندے گروپ کے رکن پارلیمنٹ شریکانت شندے کی رہائش گاہ پر ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس اجلاس میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی موجودگی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو اسے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جائے گا، کیونکہ اس کے نتائج شیوسینا (یو بی ٹی) کے مستقبل اور ریاست کی سیاسی صف بندی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سنجے رائوت کی برہمی بھری پریس کانفرنس
مہاراشٹر ایک بار پھر سیاسی ہلچل کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی میں بغاوت کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ اس وقت مہاراشٹر میں ہیں اور کچھ دہلی میں۔ ان حالات میں پارٹی لیڈر سنجے راؤت نے نئی دہلی واقع اپنی رہائش پر پریس کانفرنس کی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ یہ ’آپریشن ٹائیگر‘ ہے۔میڈیا کے ذریعہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہاں یو بی ٹی کے لوک سبھا لیڈر اروند ساونت، چیف وہپ انل دیسائی اور ناسک کے رکن پارلیمنٹ راجابھاؤ موجود ہیں۔ میں اب بھی یہ مانتا ہوں کہ ہمارے تمام اراکین پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں۔
باغیوں کو سخت وارننگ
سنجے راؤت نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ ممبئی میں ہیں جبکہ کچھ دہلی میں ہیں ۔انہوں نےباغی اراکین پارلیمنٹ کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک نے سائی بابا کی قسم کھائی تھی، ایک نے ماں بھوانی کی قسم کھائی تھی، ایک نے اپنی ماں کی قسم کھائی تھی اور ایک دیگر نے اپنی ماں اور بیٹی دونوں کی قسم کھائی تھی ۔ اس کے باوجود اگر کوئی شیوسینا چھوڑ کر گیا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔
شیوسینا یو بی ٹی لیڈر نے پریس کانفرنس میں واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں اب بھی یہ مانتا ہوں کہ ہمارے تمام اراکین پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم نے اراکین پارلیمنٹ سے بات کی ہے۔ انہوں نے سائیں بابا، ماں بھوانی اور اپنی ماں کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی دھوکہ دیتا ہے تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔‘‘ راؤت نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ جنہیں جانا ہے، وہ استعفیٰ دے کر جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ درحقیقت گزشتہ چند دنوں سے شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے بعد اب اگلا نمبر ادھو گروپ کا ہے، جہاں ٹوٹ پھوٹ کے آثار نظر آ رہے تھے۔ تاہم بدھ کو ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کے باغی اراکین پارلیمنٹ نئی دہلی پہنچ گئے اور بغاوت کی خبریں غلط ثابت ہوتی دکھائی دے رہی تھیں کیوں کہ یہ خبر سامنے آئی کہ یو بی ٹی کے ۲؍ اراکین پارلیمنٹ راجابھاؤ واجے اور سنجے پاٹل نے شندے گروپ میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کی تردید کر دی ہے۔ اسکے بعد مہاراشٹر میں یو بی ٹی نے باغیوں کا پورا کھیل پلٹ دیا۔ تاہم ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ یو بی ٹی کے باغی ایم پیز نے لوک سبھا کے اسپیکر سے ملاقات کرکے ۶؍ اراکین پارلیمنٹ کے ناموں کا خط پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ انہیں ادھو گروپ سے الگ مانا جائے اور وہ بہت جلد شندے گروپ میں شامل ہو جائیں گے ۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں یو بی ٹی کے باغی اراکین پارلیمنٹ کو پارٹی بدلنے کے لئے ۷؍ اراکین پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہے کیونکہ لوک سبھا میں یو بی ٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی تعداد ۹؍ ہے۔ اس سے قبل ماتوشری میں ادھو ٹھاکرے کی طلب کردہ ہنگامی میٹنگ میں ۹؍میں سے صرف ۴؍ اراکین پارلیمنٹ ہی پہنچے تھے، جس سے پارٹی میں بڑی بغاوت کی خبروں کو تقویت ملی تھی۔