غلط آؤٹ دینے پر بھی سچن ناراض نہیں ہوئے

Updated: August 08, 2020, 3:06 AM IST | New Delhi

امپائر سائمن ٹوفل نے کہا:۲۰۰۷ء میں پیش آنے والے واقعہ سے میدان پر سچن اورمیرے تعلقات خراب نہیں ہوئے تھے۔

Simon Taufel. Photo: INN
سائمن ٹوفل۔ تصویر: آئی این این

 آسٹریلیائی کرکٹ کے سابق امپائر سائمن ٹوفل کا کہنا ہے کہ۲۰۰۷ء کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میچ میں سنچری کے قریب پہنچنے پر ہندوستان کے اسٹار بلے باز سچن تینڈولکر کو ایل بی ڈبلیو دینے کے غلط فیصلے کے باوجود دونوں کے درمیان تعلقات خراب نہیں ہوئے تھے بلکہ اس کے بجائے ایک دوسرے کیلئے احترام میں اضافہ ہوا تھا۔ ٹوفل کو۲۰۰۴ء سے۲۰۰۸ء تک لگاتار ۵؍ سال تک آئی سی سی کے امپائر آف دی ایئر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور وہ دنیا کے بہترین امپائر میں شمارکئے جاتے ہیں لیکن ہندوستان کے کرکٹ شائقین  ۲۰۰۷ء کے ٹیسٹ میچ میں سنچری کے قریب پہنچنے پر سچن کو آؤٹ دینے کے فیصلہ کو آج بھی نہیں بھولے ہیں ۔ ۲۰۰۷ء کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ میچ میں ٹوفل نے سنچری کے قریب پہنچنے پر پال کولنگ ووڈ کی گیند پر سچن کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا تھا جبکہ ری پلے سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ گیند آف اسٹمپ سے ایک انچ کی دوری پر تھی۔ ایک شو میں انہوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے اگلے دن سچن کے ساتھ میدان میں تفصیلی گفتگو ہوئی جس کی وجہ سے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ احترام سے بھر پور تعلق استوار کرنے میں مدد ملی۔ ۲۰۰۷ءکے ٹیسٹ میچ میں سچن ۹۱؍ رن پر بیٹنگ کررہے تھے جب ٹوفل نے انہیں آؤٹ دیا۔ اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے ٹوفل نے کہا کہ میں نے سچن کو معمولی غوروخوض کے بعد آؤٹ دیاتھا۔ سچن بظاہر اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ وہ فورا ًہی میدان سے چلے گئے۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ خوش نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں یہ واضح ہوگیا کہ فیصلے میں غلطی ہوئی ہے۔ اس کے بعد میں جانتا تھا کہ دنیا ئے کرکٹ سے کس قسم کا ردعمل ملنے والا ہے۔ اس کے بعد میں نے کرک انفو نہیں کھولا ، میں نے کوئی اخبار نہیں پڑھا۔ میں جانتا تھا کہ میں مہینوں میڈیا کے نشانے پر رہوں گا۔
 ٹوفل نے کہا کہ اگلی صبح میں نے میدان میں اترنے کے بعد سچن سے ملاقات کی۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھو ، میں نے کل فیصلے میں احتیاط سے کام نہیں لیا ، تم اسے جانتے ہو۔ میں نے اسے دیکھا ہے ، میں نے غلط فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے (سچن) کہا کہ سائمن مجھے معلوم ہے کہ آپ اچھے امپائر ہیں ، آپ اکثر غلطیاں نہیں کرتے ہیں ۔ فکر نہ کرو۔ ٹوفل نے کہا کہ میں انہیں (سچن) منانے یا اپنی ملامت کو ختم کرنے کے لئے یہ نہیں کہہ رہا تھا بلکہ اس کا مقصد یہ قبول کرنا تھا کہ ہم دونوں فیلڈ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ یہ کھیل ہے اور میں قبول کرنا چاہتا تھا کہ میں حقیقت جانتا ہوں ۔
 انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک دوسرے کی صلاحیتوں کیلئے باہمی احترام ہے۔ میں نے اس موقع پر ہی نہیں بلکہ کئی بار سچن کو غلط آؤٹ قرار دیا ہے۔ میں نے ان تمام مثالوں سے سیکھا ہے۔ ان غلطیوں کے علاوہ ایک چیز جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی وہ ہے ہمارے درمیان احترام اور اعتماد کے ساتھ تعلقات۔ ٹوفل نے کہا کہ اس کے علاوہ سچن کو بھی متعدد مواقع پر غلط فیصلے کا فائدہ ہوا ہے ایسا ہی ۲۰۰۵ء میں دہلی میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران ہوا جہاں سچن کو فائدہ ہوا اور انہوں نے اپنی ۳۵؍ ویں ٹیسٹ سنچری اسکور کرکے سنیل گاوسکرکے ذریعہ سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔خیال رہے کہ سائمن ٹوفل اب امپائرنگ نہیں کرتے ہیں اور سبکدوشی کے بعد انہوں نے امپائرس کو ٹریننگ شروع دی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK