Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد میں ریئر ارتھ میگنیٹ کی تیاری کے لیے پائلٹ پلانٹ قائم

Updated: March 20, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi

بین الاقوامی اعلیٰ تحقیقی مرکز برائے پاؤڈر میٹالرجی اور نئی مواد (اے آر سی آئی) میں این ڈی ایف ای بی (نیوڈیمیم-آئرن-بوران) ریئر ارتھ میگنیٹ کی تیاری کے لیے جدید ترین پائلٹ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔

Rare Earth Project.Photo:INN
ریئر ارتھ میگینیٹ پروجیکٹ۔ تصویر:آئی این این

بین الاقوامی اعلیٰ تحقیقی مرکز برائے پاؤڈر میٹالرجی اور نئی مواد (اے آر سی آئی) میں این ڈی ایف ای بی (نیوڈیمیم-آئرن-بوران) ریئر ارتھ  میگنیٹ کی تیاری کے لیے جدید ترین پائلٹ پلانٹ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ (ڈی ایس ٹی) کے تحت کام کرتا ہے۔ اس پائلٹ پلانٹ کا افتتاح ڈی ایس ٹی کے سکریٹری ابھیہ کرندیکر نے کیا۔ اس موقع پر اے آر سی آئی کے ڈائریکٹر آر  وجے، سابق ڈی ایس ٹی سکریٹری آشو توش شرما سمیت کئی سائنسدان، صنعت کے نمائندے اور محققین موجود تھے۔  
افتتاحی تقریب میں مقررین نے اس اقدام کو ہندوستان کے لیے ایک اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا۔ پائلٹ پلانٹ خام مرکب دھات سے لے کر تیار شدہ میگنیٹ تک کی پوری تیاری کے عمل کو شامل کرتا ہے، جس سے ملک میں ایک مضبوط اور خود کفیل مینوفیکچرنگ نظام تیار ہوگا۔ 
ماہرین کے مطابق این ڈی ایف ای بی میگنیٹ الیکٹرک گاڑیوں، قابلِ تجدید توانائی کے نظام، الیکٹرانکس اور جدید صنعتی ٹیکنالوجیز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فی الحال ان میگنیٹس کی عالمی سپلائی چند ممالک تک محدود ہے، جس سے ہندوستان جیسے ممالک کے لیے رسد کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:فیفا کونسل کا تاریخی اعلان: ۱۴؍ ارب ڈالرس کا ریکارڈ بجٹ

اس موقع پر پروفیسر ابھیہ کرندیکر نے کہا کہ یہ پلانٹ اہم مواد کے شعبے میں ہندوستان کی خود کفالت کو مضبوط کرے گا اور عالمی سپلائی چین کے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے ’’وِکسِت بھارت ۲۰۴۷ء‘‘ کے ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اقدام کو اہم بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ پلانٹ نہ صرف تکنیکی جانچ اور عمل کی بہتری کے لیے کارآمد ہوگا بلکہ صنعتوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دے گا۔ اس سے مقامی ٹیکنالوجیوں کے تجارتی استعمال اور بڑے پیمانے پر پیداوار کو رفتار ملنے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طحہ شاہ بدو شاکرن جوہر کی ’’نزدیکیاں‘‘ میں نظر آئیں گے

 
اے آر سی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آر وجے نے بتایا کہ ادارہ مِنرل ٹو مارکیٹ ماڈل پر کام کر رہا ہے، جس سے خام وسائل سے لے کر تیار شدہ مصنوعات تک کی پوری زنجیر ملک میں تیار کی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ہندوستان کے الیکٹرک موبلٹی اور جدید مینوفیکچرنگ شعبوں کو نئی سمت دے گا اور’’ آتم نربھر بھارت‘‘ مہم کو مضبوطی فراہم کرے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK