Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویر داس لندن کے رائل البرٹ ہال میں پہلی بار پرفارم کریں گے

Updated: March 20, 2026, 9:55 PM IST | Mumbai

ایمی ایوارڈ یافتہ کامیڈین ویر داس ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ وہ پہلی بار لندن کے مشہور رائل البرٹ ہال میں پرفارم کریں گے۔ یہ پرفارمنس ان کے نئے بین الاقوامی اسٹینڈ اپ ٹور ’ہے اسٹرینجر‘ کا حصہ ہوگی۔

Vir Das.Photo:INN
ویرداس۔ تصویر:آئی این این

ایمی ایوارڈ یافتہ کامیڈین ویر داس ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ وہ پہلی بار لندن کے مشہور رائل البرٹ ہال میں پرفارم کریں گے۔ یہ پرفارمنس ان کے نئے بین الاقوامی اسٹینڈ اپ ٹور ’ہے اسٹرینجر‘ کا حصہ ہوگی۔
دنیا کے سب سے باوقار اسٹیجز میں سے ایک رائل البرٹ ہال میں اب تک کئی بڑے اور مشہور فنکار پرفارم کر چکے ہیں۔ یہاں لیڈ زیپلن اور دی بیٹلز جیسے بینڈز سے لے کر ایڈیل اور ایرک کلاپٹن جیسے بڑے ستارے اپنی پرفارمنس کر چکے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ مقام موسیقی، تھیٹر اور کامیڈی کے بہترین پروگراموں کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا کونسل کا تاریخی اعلان: ۱۴؍ ارب ڈالرس کا ریکارڈ بجٹ


’ہے اسٹرینجر‘ ٹور کے ساتھ ویر داس ایک بار پھر  ہندوستانی  اسٹینڈ اپ کامیڈی کو دنیا کے بڑے اسٹیجز تک لے جا رہے ہیں۔ ان کے پچھلے ٹورز بھی کافی کامیاب رہے ہیں، جن میں انہوں نے دنیا کے کئی ممالک میں پرفارم کیا اور متعدد شوز ہاؤس فل رہے۔ رائل البرٹ ہال میں ہونے والا یہ شو ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل ہے اور ہندوستانی کامیڈی کے لیے بھی ایک خاص کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طحہ شاہ بدو شاکرن جوہر کی ’’نزدیکیاں‘‘ میں نظر آئیں گے


یہ پرفارمنس ان کے ’ہے اسٹرینجر‘ ورلڈ ٹور کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ کئی ممالک کا دورہ کریں گے اور اپنے منفرد انداز میں کامیڈی اور سماجی مسائل پر بات کریں گے۔ اس کامیابی پر ویر داس نے کہا کہ ’’ ہر ٹور میرے لیے دنیا کے ساتھ ایک نئی گفتگو کی طرح ہوتا ہے، اور ’ہے اسٹرینجر‘ بھی ویسا ہی ہے۔ رائل البرٹ ہال میں پرفارم کرنا میرے لیے بہت خاص ہے۔ یہ ایک ایسا اسٹیج ہے جہاں تاریخ رقم ہوئی ہے اور جہاں دنیا کے سب سے بڑے فنکار پرفارم کر چکے ہیں۔ وہاں ایک بھارتی اسٹینڈ اپ شو کرنا میرے لیے ایک خواب کی تعبیر جیسا ہے اور میں خود کو بہت عاجز محسوس کر رہا ہوں۔ میں اس خاص لمحے کو ناظرین کے ساتھ بانٹنے کے لیے بے حد پرجوش ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK