Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی فسادات کیس ۲۰۲۰ء: شرجیل امام کو ۶؍ سال بعد۱۰؍ دن کی عبوری ضمانت

Updated: March 20, 2026, 9:55 PM IST | New Delhi

شرجیل امام کو دہلی فسادات کیس میں عدالت نے۱۰؍ دن کی عبوری ضمانت دے دی جس کے بعد وہ تقریباً چھ سال بعد جیل سے باہر آئے۔یہ ضمانت انہیں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت اور بیمار والدہ کی دیکھ بھال کیلئے دی گئی ہے۔

Sharjeel Imam after his release from prison. Photo: INN
شرجیل امام جیل سے رہائی کے بعد ۔ تصویر: آئی این این

سماجی کارکن شرجیل امام، جو۲۰۲۰ءکےدہلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں ملزم ہیں، جمعہ کو تقریباً چھ سال بعد جیل سے باہر آئے، جب دہلی کی ایک عدالت نے انہیں۱۰؍ دن کی عبوری ضمانت دی۔عدالت نے امام کو۲۰؍ مارچ سے۳۰؍ مارچ تک عبوری ضمانت دی تاکہ وہ اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کر سکیں اور اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کر سکیں۔ شرجیل امام کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل جنوری میں سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں انہیں اور شریک ملزم عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ استغاثہ نے ریکارڈ پر کافی مواد پیش کیا ہے جس سے بظاہر ایک ابتدائی مقدمہ بنتا ہے اور ان کی مبینہ طور پر ایک بڑی سازش میں شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ کا نیوزلانڈری کو ٹی وی ٹوڈے کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم

شرجیل امام ان کئی ملزمان میں شامل ہیں جن کا تعلق فروری۲۰۲۰ءمیں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے ہے، جس میں ۵۳؍ افراد ہلاک اور۷۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔دہلی پولیس، جو اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے، کا الزام ہے کہ یہ تشدد ایک’پہلے سے منصوبہ بند اور منظم‘ سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج کے دوران امن و امان کو متاثر کرنا تھا۔ امام اور دیگر پر غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (UAPA) اور سابقہ  تعزیراتِ ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جنوری میں، جب سپریم کورٹ نے امام اور خالد کی ضمانت مسترد کی، تو اسی دوران پانچ دیگر ملزمان  گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت دی گئی، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے کردار امام اور خالد سے مختلف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی روپیہ۹۳؍ فی ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح پر، سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

پولیس کے مطابق، کچھ ملزمان کو مبینہ سازش کے’ماسٹر مائنڈز‘ قرار دیا گیا ہے، اور اس کیلئے تقاریر اور دیگر مواد کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔امام کی جیل سے رہائی عارضی ہے، اور توقع ہے کہ وہ۳۰؍ مارچ کو اپنی۱۰؍ دن کی ضمانت ختم ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہوں گے، جبکہ مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK