• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سراج اور مکیش کی شاندار کارکردگی ،نیوزی لینڈ اے نے برتری حاصل کر لی

Updated: November 02, 2026, 9:14 PM IST | New Delhi

محمد سراج (چار وکٹ) اور مکیش کمار (پانچ وکٹ) کی بہترین گیند بازی کے باوجود نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی بدولت نیوزی لینڈ اے نے دوسرے غیر سرکاری ٹیسٹ میچ میں انڈیا اے کے خلاف ۷۸؍ رن کی برتری حاصل کر لی ہے۔

Siraj.Photo:X
سراج۔ تصویر:ایکس

محمد سراج (چار وکٹ) اور مکیش کمار (پانچ وکٹ) کی بہترین گیند بازی کے باوجود نچلے آرڈر کے بلے بازوں کی بدولت  نیوزی لینڈ اے نے دوسرے غیر سرکاری ٹیسٹ میچ میں انڈیا اے کے خلاف ۷۸؍ رن کی برتری حاصل کر لی ہے۔ دن کے کھیل کے اختتام تک انڈیا اے نے بغیر کسی نقصان کے دوسری اننگز میں ۳۲؍ رن بنا لیے ہیں۔۲۰۸؍ رن کی جو شراکت داری کل سے جاری تھی، وہ آج کے دن کے دوسرے اوور میں ہی ٹوٹ گئی۔ سراج نے میتھیو بوائل (۱۱۰) کو آؤٹ کر کے انڈیا اے کو چوتھی کامیابی دلائی۔ انڈیا اے نے پہلے سیشن میں صرف ۷۳؍ رن دے کر چار وکٹ حاصل کیے، جس کی وجہ سےلنچ کے وقت نیوزی لینڈ اے کا اسکور سات وکٹ پر ۲۹۱؍ رن ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا اے کو تھوڑی برتری مل جائے گی، لیکن نیوزی لینڈ اے کے نچلے آرڈر کے بلے بازوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔


آخری تین وکٹوں کے لیے ہوئی شراکت داری نے ہندستانی گیند بازوں کو میدان پر مزید ۴۳؍ اوور گزارنے پر مجبور کر دیا۔ آخری وکٹ کے لیے شراکت داری تقریباً ۲۵؍ اوور تک جاری رہی، جس نے اب تک ہندستانی تیز گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کا اثر کم کردیا اور نیوزی لینڈ اے کو پہلی اننگ میں 78 رنوں کی برتری دلا دی۔ اس کے بعد، انڈیا اے کے اوپنرز یشسوی جیسوال اور بی سائی سدرشن نے کسی بھی بڑی پریشانی کے بغیر دن کا کھیل ختم ہونے سے پہلے کے ۱۱؍ اوور کامیابی سے نکال دیے۔ اس دورے پر اپنی پچھلی تین اننگز میں ۱۷، ۵؍ اور صفر رن بنانے والے جیسوال اس بار کافی پر اعتماد نظر آئے اور انہوں نے اپنی اننگز کے دوران تین چوکے لگائے۔ سائی سدرشن اور جیسوال دونوں نے نئی گیند سے گیند بازی کرنے والے گیند بازوں کے ہلکے پھلکے سوئنگ کا اچھے سے سامنا کیا اور کافی چوکنے رہے۔

یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے۶۱؍ویں سالگرہ پر منّت کی بالکونی سے مداحوں کو دیدار نہیں کرایا

دن کی آخری گیند پر ایک سنسنی خیز لمحہ بھی آیا، جب جیسوال تیز گیند باز بریٹ رینڈیل کی ایک گیند پر آگے بڑھ کر کھیلنے گئے۔ وہ پوری طرح سے بیٹ ہو گئے اور گیند ان کے بلے کے بیرونی کنارے کے کافی قریب سے گزر گئی۔ تاہم، امپائر نے نیوزی لینڈ اے کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ اس سے پہلے، محمد سراج نے آج کی اپنی پہلی ہی گیند پر میتھیو بوائل کو سلپ میں کیچ آؤٹ کرا دیا۔ بوائل ۱۱۰؍ رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سلپ میں تعینات تنہا فیلڈر دیوت پڈیکل نے اپنی بائیں جانب چھلانگ لگائی اور ایک ہاتھ سے ایسا کیچ پکڑا جو تقریباً ان کے پیچھے تھا۔ اس کیچ کے ساتھ ہی ایک بڑی شراکت داری کا خاتمہ ہو گیا۔
انڈیا اے کی جانب سے دوسری نئی گیند لینے کے چار اوور بعد، سراج نے ایک بار پھر کمال دکھایا اورڈین فوکس کرافٹ کو سنچری بنانے سے روک دیا۔ انہوں نے فوکس کرافٹ کو ۹۳؍رن پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ تاہم، یہ فیصلہ تھوڑا متنازع رہا، کیونکہ فوکس کرافٹ آف اسٹمپ کی طرف کافی آگے بڑھ گئے تھے اور گیند ان کے فرنٹ پیڈ پر جا کر لگی تھی۔ اس کے بعد، اگلے ہی اوور میں مکیش کمار نے وکٹ کیپر مچل ہے کو وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ کرا دیا۔

یہ بھی پڑھئے:آرسنل نے لیورپول کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی

صبح کے سیشن میں انڈیا اے کے تیز گیند بازوں نے نیوزی لینڈ اے کے بلے بازوں کو کافی پریشان کیا۔ لنچ کے بعد، آکاش دیپ نے فریزر شیٹ کو سلپ میں کیچ دینے پر مجبور کر دیا تھا، لیکن آر. سمرن نے ایک آسان سا کیچ چھوڑ دیا۔ انہیں شاید ہی اندازہ تھا کہ اس غلطی کی وجہ سے انہیں میدان پر اور زیادہ وقت گزارنا پڑے گا اور وہ اپنی برتری بھی گنوا بیٹھیں گے۔ جب مکیش کمار نے شیٹ کو سلپ میں پڈیکل کے ہاتھوں کیچ کرا کر اپنے ۵؍ وکٹ پورے کیے، تب تک نیوزی لینڈ اے برتری حاصل کر چکی تھی۔ اگر سراج نے واشنگٹن سندر کی گیند پر مڈ آف پر جیڈن لینوکس کا کیچ نہ چھوڑا ہوتا، تو یہ برتری ۲۵؍ رن پر ہی سمٹ جاتی۔ اس کے بعد لینوکس اور ۱۱؍ویں نمبر کے بلے باز جیروڈ میکے نے سنبھل کر بلے بازی کی اور آہستہ آہستہ نیوزی لینڈ اے کی برتری کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے چائے کے وقفے کے آس پاس کے ۷؍ اوورس میں ۵؍ میڈن اوور بھی کھیلے، جس سے انہیں کوئی دقت نہیں ہوئی۔
جب تھکے ہوئے سراج کی لائن اور لینتھ بگڑی یا آکاش دیپ نے پیڈ کی طرف گیند پھینکی، تو نیوزی لینڈ اے کے بلے بازوں نے اس کا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنی برتری میں اضافہ کیا۔ انڈیا اے کی یہ مشکل اس وقت ختم ہوئی جب ۵۵؍ رن کی شراکت داری کے بعد، میکے واشنگٹن سندر کی آرم بال  کو سمجھ نہیں پائے اور ۷۵؍ گیندوں پر ۳۳؍ رن بنا کر بولڈ ہو گئے۔ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا اب تک کا سب سے بڑا اسکور تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK