آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان ایک نیا ’’ٹرینڈ‘‘ شروع ہو گیا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے یا وکٹ لینے کے بعد کھلاڑی اپنی جیب سے پرچی نکال کر منفرد انداز میں جشن منا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 7:01 PM IST | Mallanpur
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان ایک نیا ’’ٹرینڈ‘‘ شروع ہو گیا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے یا وکٹ لینے کے بعد کھلاڑی اپنی جیب سے پرچی نکال کر منفرد انداز میں جشن منا رہے ہیں۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان ایک نیا ’’ٹرینڈ‘‘ شروع ہو گیا ہے۔ اچھی کارکردگی دکھانے یا وکٹ لینے کے بعد کھلاڑی اپنی جیب سے پرچی نکال کر منفرد انداز میں جشن منا رہے ہیں۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے تیز گیند باز آکاش سنگھ تو اپنے ڈیبیو میچ میں ہی تین وکٹیں لینے کے بعد پرچی نکال کر جشن مناتے نظر آئے۔ تاہم اس طرح کے سیلیبریشن پر سابق کرکٹرز نے سوالات اٹھائے ہیں۔
Aaj caption padhenge nahi... SUNENGE 😉🔊🔛 pic.twitter.com/YzMYOZucOG
— Lucknow Super Giants (@LucknowIPL) May 15, 2026
ہندوستان کے سابق کرکٹر امباتی رائیڈو نےای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے آکاش کے ’’پرچی سیلیبریشن‘‘پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آکاش کو کیا لگتا ہے کہ اس طرح جشن منا کر وہ ٹی وی پر بہت کول نظر آئیں گے؟ رائیڈو نے ایسے سیلیبریشن پر مکمل پابندی لگانے کی اپیل کی اور کہا کہ کھلاڑیوں کو پرچی لانے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ آکاش نے اپنی جیب سے جو پرچی نکالی تھی اس پر لکھا تھا:’’اکّی آن فائر۔ آکاش کو معلوم ہے کہ ٹی۲۰؍ کرکٹ میں وکٹ کیسے لی جاتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:امتحانی ادارہ یہ ضمانت کب دیگا کہ اب پرچہ لیک نہیں ہوگا؟
آکاش سے جب میچ کے بعد اس جشن کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سے انہیں بہتر کارکردگی کی ترغیب ملتی ہے۔ آکاش نے یہاں تک کہا کہ یہ چیز انہیں میچ کے دوران موٹیویٹ کرتی ہے اور وہ ایسا کرنا جاری رکھیں گے۔ ۲۴؍ سالہ اس تیز گیند باز کے’’پرچی سیلیبریشن‘‘پر جنوبی افریقہ کے سابق فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے بھی اعتراض کیا۔ اسٹین نے کہا کہ اس طرح کے سیلیبریشن پر پابندی لگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی چیزیں نہ کبھی ٹرینڈ میں تھیں اور نہ ہونی چاہئیں۔ روی چندرن اشون نے بھی پرچی سیلیبریشن پر ناراضگی ظاہر کی۔
اس سیزن میں ’’پرچی سیلیبریشن‘‘ کرنے والے آکاش اکیلے کھلاڑی نہیں ہیں۔ ان سے پہلے چنئی سپر کنگز کے بلے باز اروِل پٹیل اور ممبئی انڈینز کے اسپنر رگھو شرما بھی اسی انداز میں جشن مناتے نظر آ چکے ہیں۔ ایسے میں یہ بڑا سوال اٹھتا ہے کہ کیا نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں اس طرح کے متنازع بیانات یا جشن سے بچنا نہیں چاہیے؟ خاص طور پر جب آکاش اور رگھو نے اپنے ابتدائی میچ میں ہی یہ طریقہ اپنایا، اور اروِل بھی ابھی لیگ میں اپنی پہچان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی سپر ہیرو فلم میں کرینہ کپور کی انٹری کی خبریں بے بنیاد
بلاشبہ آئی پی ایل نوجوان ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر چمکنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جہاں ہر کسی کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ یقیناً ہر کھلاڑی کو میدان میں اپنی خوشی ظاہر کرنے کا پورا حق ہے، لیکن کھیل کی کارکردگی کے بجائے ایسے تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں آنا ان کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔کرکٹ کے کھیل میں آپ کی کارکردگی خود ہی آپ کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ’’کرکٹ کے خدا‘‘ کہلائے جانے والے سچن تینڈولکر کو شاید ہی آپ نے کبھی جارحانہ انداز میں جشن مناتے دیکھا ہو۔ مہندر سنگھ دھونی، برائن لارا، راہل دراوڑ، کین ولیمسن، وی وی ایس لکشمن، کمار سنگاکارا، جیک کیلس، جو روٹ، مہیلا جے وردھنے جیسے کھلاڑیوں کا قد ۲۲؍ گز کی پچ پر بہت بڑا رہا ہے اور ان کے جشن بھی نہایت سادہ رہے ہیں۔ یہ لیجنڈز اس بات کی مثال ہیں کہ میدان میں آپ کے جشن سے زیادہ آپ کی کارکردگی کی بات ہوتی ہے، جو خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔