متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل کے انعقاد پر چند سوال

Updated: August 01, 2020, 3:14 AM IST | New Delhi

فرنچائزیز چاہتی ہیں کہ کورونا کی وبا کے بیچ کونسل کے اجلاس میں ٹورنامنٹ کے انعقاد سے متعلق چند حل طلب امور کے جوابات تلاش کئے جائیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ۱۹؍ ستمبر سے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کا ۱۳؍ واں ایڈیشن شروع ہورہا ہے لیکن اس کے انعقاد سے متعلق کچھ اہم سوالات پیدا ہو رہے ہیں جن کا جواب اتوار کو آئی پی ایل کی گورننگ کونسل کے اجلاس میں ملنے کی امید ہے۔متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل۱۹؍ ستمبر سے ۸؍ (یا ۱۰) نومبر تک ہوگا۔ آئی پی ایل کی فرنچائزیز چاہتی ہیں کہ کورونا وائرس (کووڈ۱۹) کی وبا کے بیچ اسٹیئرنگ کونسل کے اجلاس میں ٹورنامنٹ کے انعقاد سے متعلق چند حل طلب امور کے جوابات تلاش کئے جائیں ۔ علاوہ ازیں آئی پی ایل کے پہلے ایونٹ کیلئے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو حکومت ہند کی منظوری کی ضرورت ہے۔آئی پی ایل کے انعقاد سے متعلق اہم تشویش قرنطینہ ، جانچ اور آئسولیشن پروٹوکول سے متعلق ہے۔ تمام فرنچائزیز کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ اگر کسی ٹیم کا ممبر کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو اس کے بعد کیا ہوگا؟ اس کے بعد کیا ٹیم کے سبھی ممبروں کی کورونا وائرس کی جانچ ہوگی؟ کیا تمام ممبروں کو ایک ہی ہوٹل میں آئسولیشن میں رکھا جائے گا اور اگر ٹیم کے دیگر ممبران بھی وہاں قیام کرتے ہیں تو اگلا میچ منسوخ یا ملتوی کردیا جائے گا جب تک کہ سب کی جانچ نہیں ہوجاتی۔
 فرنچائزیز یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی ممبر بائیو سیکیور پروٹوکول کے ضابطےکی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟ انگلینڈ کے کرکٹر جوفراآرچر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اس اصول کی خلاف ورزی کی تھی جب انہیں ۵؍ دن تک آئسولیشن میں رہنا پڑا تھا اور ان کے دو کورونا ٹیسٹ منفی ہونے کے بعد ہی ٹیم میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔گورننگ کونسل کے اجلاس میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں آئی پی ایل کے دوران ٹیم کے ممبروں کو کووڈ۱۹؍کو کتنی بار اور کس وقت جانچ کروانا ہوگی؟ کیا یہ جانچ بی سی سی آئی کرے گی یا فرنچائزیز اس کے لئے پوری طرح ذمہ دار ہوگی؟آئی پی ایل کا میچ بایو سیکیور ماحول میں کھیلا جائے گا ، لیکن اس سے متعلق کچھ خدشات تمام فرنچائزیز کو بھی پریشان کر رہے ہیں ۔اس کی توقع کی جارہی ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران میچ کے عہدیداروں ، براڈکاسٹروں ، مقامی عہدیداروں اور دیگر افراد کے لئے بایوسیکیور ماحول ہوگا۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کھلاڑی کے کنبے کے افراد ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو پھر اس کا انتظام کیسے ہوگا؟ ٹیم کو ٹورنامنٹ کے دوران ۳؍ شہر دبئی ، ابوظہبی اور شارجہ کا بھی دورہ کرنا ہوگا اور اس دوران بایو سیکیور ماحول کی صورتحال کیا ہوگی۔فرنچائزیز کو یہ بھی خدشہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کو کسی ایسے ہوٹل میں تو نہیں ٹہرایا جائے گا جہاں سیاحوں کا قیام ہو ۔ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے آئی پی ایل کے دوران تمام ٹیموں کو تقریباً۸۰؍ دن قیام کرنا پڑے گا اور فرنچائزیز کی یہ ایک بڑی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اتنے لمبے عرصے تک اپنے معاشرتی دوری کا خیال رکھے۔
 کچھ فرنچائزیز نے گورننگ کونسل کو بتایا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو کم سے کم ۳؍ ہفتوں کا ٹریننگ کا وقت دینے کے لئے۲۰؍ یا۲۱؍ اگست تک متحدہ عرب امارات پہنچانا چاہتے ہیں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ تر کھلاڑیوں نے کچھ مہینوں سے ٹریننگ نہیں لی ہے اور نہ ہی میدان میں اترے ہیں ۔کچھ فرنچائزیز نے پہلے ہی اپنی ٹیموں کے لئے ہوٹلوں کا انتخاب کرلیا ہے اور اب وہ مزید انتظامات کے بارے میں گورننگ کونسل کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں ۔ فرنچائزیز آئی پی ایل کے عہدیداروں کی منظوری کے ساتھ ہی ہوٹل سے متعلق انتظامات مکمل کریں گی۔فرنچائزیز کے لئے ایک اور بڑی پریشانی یہ ہے کہ جنوبی افریقی کھلاڑی آئی پی ایل سے باہر ہو سکتے ہیں جس طرح انہوں نے سی پی ایل کے دوران کیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس سلسلے میں کیا اصول ہوں گے؟
 اس کے علاوہ اگر کوئی کھلاڑی ٹورنامنٹ کے دوران زخمی ہوتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے کھلاڑی کی صورتحال کیا ہوگی؟ اگر اس کھلاڑی کی جگہ کسی اور کھلاڑی کو بلایا جاتا ہے تو اس کے پہلے سے بایو سیکیورماحول میں اس کے داخلے سے متعلق جانچ اور قرنطین سے متعلق کیا اصول ہوں گے؟ کیا ٹورنامنٹ سے قبل اضافی کھلاڑیوں کو لے جانے سے متعلق حد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ فرنچائزیز کے پاس کھلاڑیوں کے لئے مزید اختیارات ہوں ۔فرنچائزی کے لئے ایک اور تشویش یہ ہے کہ انگلینڈ آسٹریلیا ون ڈے سیریز ستمبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے اور آئی پی ایل کا آغاز۱۹؍ستمبر سے ہوگا۔ ایسی صورتحال میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کے پہلے چند میچوں میں غیر حاضر ہونا پڑ سکتا ہے۔
 ہندوستان میں آئی پی ایل کے دوران ہر فرنچائزیز کے اضافی نیٹ بولر ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ بایو سیکیور ماحول اور دیگر بہت سی پابندیوں میں اس بار متحدہ عرب امارات کی تمام ۸؍ ٹیموں کا انتظام کیسے کر پائے گا؟ حالیہ ٹیسٹ سیریز میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے بایو سیکیور ماحول میں اضافی کھلاڑی موجود تھے کیا آئی پی ایل میں بھی فرنچائز کو اسی طرح کی اجازت دی جائے گی؟آئی پی ایل کی تمام۸؍ ٹیموں کے لئے صرف ۳؍ جگہوں کا شیڈول ہے اور فرنچائزیز اپنی ٹیموں کے ٹریننگ شیڈول کے لئے واضح منصوبہ چاہتے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK