Updated: March 28, 2026, 10:15 PM IST
| New York
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق صرف ایک ماہ میں ایران میں تقریباً ۱۵۰۰؍ شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی فوجی سازوسامان کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ اسی دوران مغربی انٹیلی جنس حلقوں میں بھی جنگ کے توازن پر اہم بیانات سامنے آئے ہیں۔
(۱) ایک ماہ میں تقریباً ۱۵۰۰؍ شہری ہلاک، بچوں کی بڑی تعداد شامل
انسانی حقوق کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے دوران ایران میں تقریباً ۱۵۰۰؍ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ۲۱۷؍ بچے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش پیدا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران شدت اختیار، عالمی توانائی خطرے میں، سفارتی کوششیں تیز
(۲) امریکی فوجی سازوسامان کو اربوں ڈالر کا نقصان
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوجی سازوسامان کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس میں میزائل سسٹمز، ڈرونز اور دیگر فوجی آلات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کا مالی بوجھ بھی انتہائی زیادہ ہے۔ یہ نقصان امریکہ کی فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی اڈے پر حملہ، یمن سے میزائل، حوثیوں کی کھلی وارننگ نے خطرہ بڑھا دیا
(۳) سابق MI6 سربراہ کا بیان، ایران کو ’’برتری‘‘ حاصل
برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ میں ایران کو کچھ پہلوؤں میں ’’برتری‘‘ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی اور جغرافیائی پوزیشن اسے فائدہ دے رہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کا توازن مسلسل زیر بحث ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کا نتیجہ ابھی واضح نہیں۔