Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان: اپوزیشن کا ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ روکنے پر مرکز کو خط

Updated: March 28, 2026, 10:16 PM IST | New Delhi

اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر اشوینی ویشنوکو خط لکھ کر سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے فلم The Voice of Hind Rajabکو سرٹیفیکیشن نہ دینے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فنکارانہ آزادی، ادارہ جاتی شفافیت اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

A scene from The Voice of Hind Rajab. Photo: INN
دی وائس آف ہند رجب کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

حزب اختلاف کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر اشوینی ویشنو کو ایک مشترکہ خط لکھ کر سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کو سرٹیفیکیشن دینے سے مبینہ انکار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اور اسے فنکارانہ آزادی اور جمہوری اقدار کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ خط پر دستخط کرنے والوں میں جے رام رمیش، جان برٹاس، رام گوپال یادو، منوج جھا اور دیگر شامل ہیں، جنہوں نے اس اقدام کو ’’ادارہ جاتی ساکھ اور آئینی اصولوں کے لیے نقصان دہ‘‘ قرار دیا۔ اراکین پارلیمنٹ نے لکھا، ’’اس طرح کے فیصلے فنکارانہ آزادی، ادارہ جاتی شفافیت اور ہندوستان کی جمہوری شناخت پر سنگین اثرات ڈال سکتے ہیں۔‘‘


یہ فلم، جس کی ہدایت کاری کوثر بن ہانیہ نے کی ہے، ایک فلسطینی بچی ہند رجب کی حقیقی کہانی پر مبنی ہے، جو ۲۰۲۴ء میں غزہ میں اسرائیلی حملے کے دوران جاں بحق ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق، بچی نے آخری لمحات میں امداد کی اپیل کی تھی اور کہا تھا، ’’آؤ مجھے لے جاؤ‘‘، مگر امدادی ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ہی رابطہ منقطع ہو گیا اور بعد میں وہ مردہ پائی گئی۔ رپورٹس کے مطابق، ممبئی میں فلم کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا کو زبانی طور پر بتایا گیا کہ فلم کو سرٹیفیکیشن نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں خبردار کیا گیا کہ فلم کی ریلیز سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس پر اراکین پارلیمنٹ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’فلم کی نمائش آئینی دائرے میں محفوظ اظہار رائے ہے اور اسے سفارتی تعلقات کے مطابق محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران شدت اختیار، عالمی توانائی خطرے میں، سفارتی کوششیں تیز

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کا ’’زبانی یا غیر رسمی انکار‘‘ سنیماٹوگراف ایکٹ ۱۹۵۲ء کے تحت طے شدہ شفاف قانونی عمل کے خلاف ہے اور اس سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اراکین نے زور دیا کہ ’’فلم میں پیش کیے گئے نقطہ نظر سے اختلاف اس کی نمائش روکنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ ہندوستان کی جمہوریت کی طاقت اس میں ہے کہ مختلف خیالات کو عوامی سطح پر بحث کے لیے پیش کیا جائے۔‘‘ اس معاملے پر ششی تھرور نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ بہت شرمناک ہے… جمہوریت میں فلم کی نمائش آزادی اظہار کی عکاسی ہوتی ہے، اسے سفارتی تعلقات سے نہیں جوڑا جا سکتا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’فلموں یا کتابوں پر پابندی صرف اس بنیاد پر کہ وہ کسی دوسرے ملک کو ناگوار گزریں، فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔‘‘ ماہرین کے مطابق، یہ تنازع اب ایک فلم سے بڑھ کر آزادی اظہار، سینسر شپ اور ریاستی اداروں کی خودمختاری کے درمیان ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں ہندوستانی سنیما اور تخلیقی صنعت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK