Updated: March 28, 2026, 10:17 PM IST
| Tehran
ایران جنگ نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں جوہری اور صنعتی تنصیبات بھی نشانے پر آ گئی ہیں۔ ایران نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب حملے کی اطلاع دی ہے، جبکہ بڑی اسٹیل فیکٹریوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ اسی دوران رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران پر بڑی تعداد میں ٹوماہاک میزائل داغے، جس سے جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی حملے میں تباہ ایک ایرانی کار کمپنی۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) ایران کی بڑی اسٹیل فیکٹریوں پر حملے، عراقچی کا ردعمل
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹریوں کو نشانہ بنانے والے حملے امریکی صدر ٹرمپ کی سفارتی ڈیڈ لائن کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ سنجیدہ مذاکرات نہیں چاہتا۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ان حملوں سے صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب اقتصادی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہرمز بحران شدت اختیار، عالمی توانائی خطرے میں، سفارتی کوششیں تیز
(۲) بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دوبارہ حملہ، آئی اے ای اے کی وارننگ
ایران نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب ایک اور حملے کی اطلاع دی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’فریقین فوجی تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق جوہری تنصیبات کے قریب حملے عالمی سطح پر خطرناک تصور کیے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کا دائرہ انتہائی حساس تنصیبات تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا سڑکوں پر، ٹوکیو سے یورپ تک ایران جنگ کے خلاف احتجاج شدت اختیار
(۳) رپورٹ، امریکہ نے ایران پر ۸۵۰؍ سے زائد ٹوماہاک میزائل داغے
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں ۸۵۰؍ سے زائد ٹوماہاک میزائل استعمال کئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ حملے مختلف فوجی اور اسٹریٹیجک اہداف پر کئے گئے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کی شدت انتہائی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے۔