Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ سے جلد باہر ہونے کے بعدجنوبی کوریا کے کوچ عہدے سے مستعفی

Updated: June 29, 2026, 9:10 PM IST | Seoul

جنوبی کوریا کے ہیڈ کوچ ہونگ میانگ بو نے اتوارکو ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج سے ملک کے باہر ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ہونگ نے یہ اعلان گواڈالا ہارا میں ٹیم کے ٹریننگ کیمپ میں کیا۔

Hong Myong.Photo:INN
ہونگ میانگ۔ تصویر:آئی این این

جنوبی کوریا کے ہیڈ کوچ ہونگ میانگ بو نے اتوارکو ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج سے ملک کے باہر ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ہونگ نے یہ اعلان گواڈالا ہارا میں ٹیم کے ٹریننگ کیمپ میں کیا۔ ہفتہ کے روز سامنے آنے والے نتائج کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ کوریائی ٹیم گروپ مرحلے میں تیسرے نمبر پر رہنے والی آٹھ بہترین ٹیموں میں شامل ہو کرلاسٹ  ۳۲؍(ناک آؤٹ مرحلے) کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے گی۔

یہ بھی پڑھئے:بغیر اسٹار کھلاڑی کے برازیل کو مات دینے کا جاپانی مشن

ہونگ نے کہاکہ ’’میں کوریائی فٹ بال سے محبت کرنے والے اور ہمیشہ قومی ٹیم کی حمایت کرنے والے شہریوں سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ آج، میں جنوبی کوریا کی قومی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔ اس ذمہ داری کو قبول کرنا میرے لیے کبھی بھی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ تاہم، جب میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا، تو میں نے کسی دوسری وجہ پر غور نہیں کیا۔ میرا ماننا تھا کہ میرا واحد کام مجھ پر سونپی گئی ذمہ داری کو آخری وقت تک پورا کرنا تھا۔‘‘ہونگ کو جولائی ۲۰۲۴ء میں جورگن کلینسمین کے طویل مدتی متبادل کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے ملک کو مسلسل ۱۱؍ ویں بار ورلڈ کپ میں پہنچایا۔
سون ہیونگ من، لی کانگ ان اور کم من جے جیسے اسٹار کھلاڑیوں سے سجی کوریائی ٹیم سے یہ کافی امیدیں تھیں کہ وہ شریک میزبان میکسیکو، چیک جمہوریہ اور جنوبی افریقہ پر مشتمل گروپ سے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ جائے گی۔ کوریائی ٹیم نے چیک جمہوریہ کے خلاف ۱۔۲؍گول سے جیت کے ساتھ شروعات کی تھی، لیکن میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ملی شکست کے بعد وہ اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے دوسرے گروپس کے نتائج پر منحصر ہو گئے تھے، جو ان کے حق میں نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’آوارہ پن ۲‘‘کا ٹیزر جاری: عمران ہاشمی کے زبردست مکالمے نے سب کو دنگ کر دیا

ہونگ نے کہاکہ ’’میں عوام کی توقعات کے مطابق نتائج دینے میں ناکام رہا۔ اس کی پوری ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔‘‘ یہ ایک ایسے بکھرے ہوئے سفر کا شرمناک انجام تھا جس نے کوریائی عوام کو اپنے اس سابق قومی کپتان اور ہیرو سے دور کر دیا، جس نے دو دہائیاں قبل جنوبی کوریا کو ان کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی دلائی تھی۔ ہونگ ۲۰۰۲ء میں اس ٹیم کے کپتان تھے جس نے تمام تر اندازوں کے برعکس اپنی سرزمین پر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی اور پرتگال، پولینڈ، اٹلی اور اسپین جیسی ٹیموں کو شکست دے کر آخری چار میں پہنچے تھے۔بطور کوچ اپنے پہلے دور میں، ۲۰۱۴ء کے ورلڈ کپ سے واپسی پر ہونگ پر کینڈی (ٹافیاں) پھینکی گئی تھیں جسے وہاں ایک گہری توہین سمجھا جاتا ہےجب ان کی نوجوان اور ہونہار ٹیم گروپ مرحلے میں ہی باہر ہو گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK