سر ی لنکا کرکٹ کے صدر شمّی سلوا نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے اپیل کی ہے کہ وہ آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران سری لنکا میں شیڈول ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ کے ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق رپورٹس پر دوبارہ غور کرے۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 4:01 PM IST | Columbo
سر ی لنکا کرکٹ کے صدر شمّی سلوا نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے اپیل کی ہے کہ وہ آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران سری لنکا میں شیڈول ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ کے ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق رپورٹس پر دوبارہ غور کرے۔
سر ی لنکا کرکٹ کے صدر شمّی سلوا نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے اپیل کی ہے کہ وہ آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران سری لنکا میں شیڈول ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ کے ممکنہ بائیکاٹ سے متعلق رپورٹس پر دوبارہ غور کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے کسی فیصلے کے سنگین تجارتی اور معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ اطلاع سری لنکن نیوزوائر نے دی ہے۔
جاری کردہ خط میں سری لنکا کرکٹ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے ٹورنامنٹ میں شرکت کی توقع ہے، تاہم ۱۵؍ فروری۲۰۲۶ء کو کولمبو کے آر پریماداسا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے ہندوستان اور پاکستان کے میچ میں شرکت نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خط کے مطابق سری لنکا میں ہونے والے میچز، خصوصاً ہندوستان بمقابلہ پاکستان مقابلے کے تمام ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں اور شائقین کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے، جو اس میچ سے وابستہ بڑی تجارتی توقعات کو ظاہر کرتی ہے۔
سری لنکا کرکٹ نے خبردار کیا کہ اتنے بڑے میچ میں شرکت نہ کرنے سے بھاری مالی نقصان، سیاحت کے شعبے میں کمی اور وسیع معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیوزوائر کے مطابق پاکستان کے۱۵؍ فروری کا میچ نہ کھیلنے کی خبروں کے بعد سری لنکا کے سیاحتی اور ہوٹلنگ شعبے کو پہلے ہی دھچکا لگا ہے اور کولمبو کے متعدد ہوٹلوں کی بکنگ منسوخ ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریپو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی:رِیزرو بینک
خط میں مزید کہا گیا کہ سری لنکا کرکٹ، حکومتِ سری لنکا کے ساتھ مل کر، اس ممکنہ بائیکاٹ کے اثرات سے واقف ہے، جن کا اثر نہ صرف سری لنکا کرکٹ بلکہ ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دونوں بورڈس کے درمیان سابقہ تعاون کو یاد کرتے ہوئے سری لنکا کرکٹ نے کہا کہ اس کی قومی ٹیم نے ماضی میں مشکل اور حساس حالات کے باوجود پاکستان کے کئی دورے کیے، حتیٰ کہ ایسے وقت میں بھی جب دیگر ٹیمیں وہاں جانے سے ہچکچا رہی تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ دورے کھیل کی روح اور باہمی احترام کے جذبے کے تحت کیے گئے تھے، اسی لیے سری لنکا بھی اسی مثبت رویے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ ملک میں ہونے والے تمام میچز کے لیے سکیورٹی، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ انتظامات کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا
آخر میں سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ یا اس سے دور رہنے کے کسی بھی فیصلے پر دوبارہ غور کرے اور ٹورنامنٹ، اس کے تمام متعلقہ فریقین اور دنیا بھر کے لاکھوں شائقین کے مفاد میں سری لنکا میں شیڈول تمام میچز میں شرکت یقینی بنائے۔