ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ بلند ہے اور عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 12:38 PM IST | Mumbai
ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ بلند ہے اور عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
ریزرو بینک انڈیا (آر بی آئی) نے جمعہ کو ختم ہونے والی مالیاتی جائزہ میں ریپو شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر سنجے ملہوترا نے مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ بلند ہے اور عالمی تجارت میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس دوران ہندستانی معیشت مضبوط بنی ہوئی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے اسے مزید رفتار ملنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایم پی سی نے متفقہ طور پر ریپو شرح کو ۲۵ء۵؍ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر پالیسی شرحیں بھی ویسی ہی رکھی گئیں۔ کمیٹی نے مستقبل کے رویے کے لیے پہلے کی طرح غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راجپال یادو کا چیک باؤنس معاملہ:پانچ کروڑ کا قرض، چھ ماہ کی جیل اور اب خود سپردگی
کمیٹی نے موجودہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں خوردہ مہنگائی ۲ء۳؍ فیصد اور پورے مالی سال کے دوران ۱ء۲؍ فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے خوردہ مہنگائی کا تناسب بڑھا کر ۴؍فیصد اور دوسری سہ ماہی کے لیے۲ء۴؍ فیصد کیا گیا ہے۔ ملہوترا نے بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بنگلہ دیش کے کئی وزراء بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں
سینٹرل بینک نے موجودہ مالی سال میں مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو ۳ء۷؍ فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگلے مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے لیے شرح نمو کا اندازہ بڑھا کر بالترتیب ۹ء۶؍فیصد اور۷؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ ریزرو بینک نے پچھلے سال چار بار ریپو شرح میں کل ۲۵ء۱؍ فیصد کمی کی تھی۔ دسمبر ۲۰۲۵ء کے پچھلے اجلاس میں اس نے ریپو شرح۲۵ء۰؍ فیصد گھٹا کر ۲۵ء۵؍فیصد کر دی تھی۔