Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ بندی پر سسپنس قائم، عدم اتفاق اوردرپردہ گفتگو کےبھی دعوے

Updated: April 29, 2026, 10:12 AM IST | Agency | Tehran

ایک طرف نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نئی تجویز سے ناخوش ہیں تو دوسری طرف سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے نظر آرہےہیں۔

A Large Number Of Citizens Demonstrated In Support Of The New Supreme Leader On Monday Night In Tehran`s Sadeghi Square.Photo:INN
تہران کے صادقیہ اسکوائر پر پیر کی شب شہریوں کی بڑی تعداد نے نئے سپریم لیڈر کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان  جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے سبب اس پر سسپنس برقرار ہے۔ایک جانب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایران کی جانب سے نئی تجاویز بھیجے جانے پر ٹرمپ ناخوش ہیں ، وہیں دوسری جانب دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور دونوں ہی ممالک کی درپردہ گفتگو جاری ہے۔
 ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں: نیویارک ٹائمز 
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں، وہ ایران کی آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش سے مطمئن نہیں۔  نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ امریکی صدر نے اپنے مشیروں کو بتایا ایران کی پیش کش حقیقت سے انکاری ہے، جب کہ امریکی عہدے دار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ جوہری مطالبات پر عمل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ اخبار کے مطابق ایران کی تجویز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جب کہ جوہری پروگرام کا معاملہ ایرانی پیشکش میں شامل نہیں ہے، ایران کا یورینیم ذخیرہ حوالے کرنے اور پروگرام معطل کرنے سے انکار برقرار ہے، جب کہ ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 
 
 
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری مذاکرات میں تاخیر عالمی توانائی و مالی منڈیوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، جب کہ ایران کی شرط ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔  رپورٹ کے مطابق امریکہ روایتی طور پر عالمی آبی گزرگاہوں پر پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے، تاہم فوجی دباؤ کے باوجود ایران کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کم ہیں، کچھ حکام کے نزدیک آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ ہی بہتر راستہ ہے۔  ادھر روئٹرز نے بھی ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ تازہ تجویز سے خوش نہیں ہیں۔
 
 
امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں :سی این این
سی این این نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں۔  ثالثی کے عمل سے واقف ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان پاکستان میں مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہو سکا ہے۔  سی این این کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ بھرپور سفارتی کوششیں جاری ہیں اور موجودہ بات چیت ایک مرحلہ وار طریقۂ کار پر مرکوز ہے۔  اس ممکنہ معاہدے کے پہلے حصے میں جنگ سے پہلے والی صورت حال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی یا ٹیکس کے دوبارہ کھولنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔  ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ جسے امریکہ اور اسرائیل دونوں نے جنگ کی وجہ قرار دیا تھا، بعد کے مرحلے میں زیرِ بحث آئے گا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK