اب تک ۸۷؍ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے بلے باز نے کہا کہ وہ بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کےلئے کھیلتے رہیں گے۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 11:12 AM IST | Sydney
اب تک ۸۷؍ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے بلے باز نے کہا کہ وہ بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کےلئے کھیلتے رہیں گے۔
آسٹریلیا کے افتتاحی بلے باز عثمان خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سڈنی میں ایشیز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔ ۳۹؍سالہ خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میں ۸۷؍ میچوں اور۶۲۰۶؍ رنوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے، جن میں ۱۶؍ سنچریاں شامل ہیں۔ عثمان خواجہ نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کے پریس روم میں اپنے خاندان کی موجودگی میں کہا’’میں کافی عرصے سے اس سلسلے میں سوچ رہا تھا۔ اس سیریز میں آتے وقت میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ میری آخری سیریز ہو سکتی ہے۔ میں نے اس بارے میں ریچل (اہلیہ) سے کافی گفتگو کی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ یہ ایک بڑا موقع ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی شرائط پر، عزت کے ساتھ، اسی میدان پر ریٹائر ہو رہا ہوں جس سے مجھے محبت ہے۔ تاہم سیریز کی شروعات میرے لئے کافی مشکل رہی۔ پھر ایڈیلیڈ ٹیسٹ کیلئے ابتدائی طور پر منتخب نہ ہونا شاید میرے لئے یہ اشارہ تھا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ‘‘
عثمان خواجہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ۲؍ برسوں میں کئی بار ریٹائرمنٹ پر غور کیا تھا اور پچھلے سال ہندوستان کے خلاف باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے آس پاس انہوں نے آسٹریلیا کے کوچ میکڈونالڈ سے اس بارے میں بات بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا’’میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر کسی بھی وقت آپ چاہتے ہیں کہ میں ریٹائر ہو جاؤں تو میں فوراً تیار رہوں گا، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
دریں اثناءعثمان خواجہ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ برسبین ہیٹ کے لئے بی بی ایل کھیلتے رہیں گے۔ وہ گرمیوں کے بقیہ سیزن میں کوئنزلینڈ کے لئے شیفیلڈ شیلڈ کھیلنے کی بھی امید رکھتے ہیں۔
سڈنی کرکٹ گراؤنڈ، جہاں خواجہ کا ٹیسٹ کریئر ختم ہوگا، وہی میدان ان کے کریئر کی شروعات اور دوبارہ احیا کی جگہ بھی رہا ہے۔ انہوں نے۱۱۔ ۲۰۱۰ء سیریز کے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو کیا تھا۔ اس کے بعد ۲؍سال ٹیم سے باہر رہنے کے بعد۲۲۔ ۲۰۲۱ء کی ایشیز میں ٹریوس ہیڈ کی جگہ واپسی کرتے ہوئے انہوں نے ۲؍ سنچریاں اسکور کی تھیں۔ مسلسل ۲؍ سنچریوں نے انہیں ٹیم کیلئے ضروری بنا دیا اور انہیں اننگز کا آغاز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے بعد وہ ایک بھی ٹیسٹ سے محروم نہیں رہے، جب تک کہ اس ایشیز میں پیٹھ میں تکلیف کے باعث وہ برسبین ٹیسٹ سے باہر ہو گئے۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے لئے ٹیم سے باہر کئے جانے پر ایسا محسوس ہوا کہ ان کا کریئر ختم ہو سکتا ہے، لیکن اسٹیون اسمتھ کے بیمار پڑنے کے بعد انہیں مڈل آرڈر میں بلے بازی کا موقع ملا۔ پہلی اننگز میں انہوں نے ۸۲؍ رن بنائے اور دوسری اننگز میں ۴۰؍ رن جوڑے، جس کے باعث انہیں ملبورن ٹیسٹ کے لئے برقرار رکھا گیا اور وہ خود اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر سکے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرینبرگ نے کہا’’عثمان نے آسٹریلیائی کرکٹ میں میدان پر اور میدان کے باہر غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد ۱۵؍ برسوں میں وہ ہمارے سب سے دلکش اور مضبوط بلے بازوں میں شامل رہے ہیں اور عثمان خواجہ فاؤنڈیشن کے ذریعے بھی انہوں نے اہم کام کیا ہے۔ آسٹریلیائی کرکٹ کی جانب سے میں انہیں شکریہ اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ‘‘
ڈیبیو کے دوران انہوں نے زخمی رکی پونٹنگ کی جگہ لی تھی اور وہ آسٹریلیا کے لئے ٹیسٹ کھیلنے والے پہلے مسلم کھلاڑی بنے تھے۔ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لئے خواجہ کو جدوجہد کرنی پڑی۔ ان کی پہلی سنچری ۲۰۱۵ءمیں برسبین میں نیوزی لینڈ کے خلاف آئی۔ اس کے بعد انہوں نے اگلے ۴؍ ٹیسٹ میں سے ۳؍ میں سنچریاں اسکور کیں۔
تاہم اگلے چند برسوں میں برصغیر میں انہیں اکثر ٹیم سے باہر رکھا گیا۔ ۲۰۱۸ء میں ابو ظہبی میں پاکستان کے خلاف ان کی میچ بچانے والی اننگز نے اس تاثر کو بڑی حد تک بدل دیا۔ لیکن ۲۰۱۹ء کی ایشیز کے درمیان ٹیم سے باہر ہونے کے بعد ان کی واپسی یقینی نہیں تھی۔ اس کے بعد سڈنی میں واپسی ہوئی اور اگلے ۱۸؍ ماہ تک انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ پاکستان کے دورے پر انہوں نے سیریز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جنوبی افریقہ کے خلاف ناٹ آؤٹ۱۹۵؍ رن بنائے، ہندوستان میں آسٹریلیا کیلئے سب سے زیادہ رن بنائے اور ۲۰۲۳ءکی ایشیز کے پہلے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔