ہدایتکار اور مصنف سید شادان کا کہنا ہےکہ میری فلم صرف ایک گھر یا چار دیواری کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی علامت ہے جو انسانی احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 1:12 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ہدایتکار اور مصنف سید شادان کا کہنا ہےکہ میری فلم صرف ایک گھر یا چار دیواری کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی علامت ہے جو انسانی احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔
رائے پور سے تعلق رکھنے والے سید شادان ہدایت کار اور اسکرین رائٹر ہیں۔ فی الحال وہ ممبئی میں قیام پزیر ہیں اور یہیں سے کام کررہے ہیں۔ اہل خانہ کے کہنے پر انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی، لیکن بعد میں فلم نویسی اور ہدایت کاری کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ شادان نے اپنے کریئر کا آغاز بحیثیت اسوسی ایٹ رائٹر کیا تھا، جہاں انہوں نے رگھو کاکڑ اور کشیپ کپو ر کے ساتھ مختلف فلموں اور ویب سیریز کے منصوبوں پر کام کیا۔ بعد ازاں انہوں نے معروف ہدایتکارہنسل مہتا کی فلم’فراز‘ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ شادان گیراج بلیوز پروڈکشنز کے شریک بانی ہیں۔ اس پروڈکشن ہاؤس کے ذریعے وہ متعدد مختصریا شارٹ فلمیں ، اشتہارات اور دیگر تخلیقی منصوبے تحریر، ہدایت اور پروڈیوس کر چکے ہیں۔ سید شادان کو نئی نسل کے ان فلم سازوں میں شمار کیا جاتا ہے جو منفرد کہانیوں، حقیقت پسندانہ موضوعات اور روایتی انداز سے ہٹ کر فلم سازی کیلئے پہچانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں شارٹ فلم ’چار دیواری ‘ بنائی ہے۔ نمائندہ انقلاب نے سید شادان سے اس فلم کے ساتھ ہی دیگر موضوعات پر گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
سب سے پہلے یہ بتائیں کہ فلم ’چار دیواری‘کی کہانی پردۂ سیمیں تک کیسے پہنچی؟
ج:میرا تعلق رائے پور سے ہے، لیکن فی الحال رہتا ممبئی میں ہی ہو۔ یہیں دوست کے ساتھ ایک مکان میں رہتاہوں۔ درمیان میں ایک وقت ایسا آیا تھا جب میرا دوست کچھ دنوں کے لیے اپنے گھر چلا گیا تھا تو میں گھر میں اکیلا رہ گیا تھا۔ چونکہ میں رائٹر ہوں، اس لیے زیادہ تر کام گھر پر ہی لیپ ٹاپ کے ذریعے کرتا ہوں۔ اس دوران نہ باہر جانا ہوتا تھا اور نہ ہی لوگوں سے زیادہ ملاقات ہوتی تھی۔ کچھ دن اسی طرح گزرا۔ ایک دن اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ اگر میں رات کو سونے جاؤں اور صبح اٹھوں اور اس دوران میرا گھر آہستہ آہستہ چھوٹا ہونا شروع ہو جائے تو کیا ہوگا؟ یہ خیال ذہن میں ایک خارش کی طرح آیا اور پھر میں نے سوچا کہ اسے آگے بڑھا کر دیکھتے ہیں کہ یہ کہاں تک جاتا ہے۔ خیال رہے کہ مجھے ہارر فلمیں بہت پسند ہیں۔ اسی خیال سے ’چار دیواری‘ کی کہانی نے جنم لیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تھیٹرس کو وقت دینےکی وجہ سے میں فلموں پر توجہ نہیں دے سکی ‘‘
فلم کی زیادہ تر شوٹنگ ایک ہی کمرے میں ہوئی ہے۔ مختلف زاویوں سے اسے دلچسپ بنانا کتنا مشکل تھا؟
ج:یہی ہمارا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ ہمارا مقصد تھا کہ ایک ہی جگہ پر مبنی فلم ہونے کے باوجود ناظرین کسی لمحے بھی اکتاہٹ محسوس نہ کریں۔ اس میں پوری ٹیم نے غیرمعمولی محنت کی۔ ہمارے سنیماٹوگرافر راجیو مارو نے کیمرے کے زاویے اور موومنٹس اس انداز سے منتخب کیے کہ ہر منظر نیا محسوس ہو۔ ایڈیٹر سمیکتا نے بھی ایڈیٹنگ میں زبردست کام کیا۔ پوری ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے کہ فلم شروع سے آخر تک ناظرین کو اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔
کیا یہ آپ کی پہلی ہدایت کاری ہے؟
ج: نہیں، میں گزشتہ۱۱۔ ۱۰؍ برسوں سے فلمیں بنا رہا ہوں لیکن اس پیمانے اور اس سطح کی یہ میری پہلی فلم ہے۔
فلم کو انوراگ کشیپ جیسے بڑے ہدایتکار کا تعاون ملا اور انہوں نے اسے پریزنٹ بھی کیا۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
ج:ہم سب انوراگ کشیپ کی فلمیں دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں۔ انہی کو دیکھ کر دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ایک دن رائٹر اور ڈائریکٹر بنوں۔ وہ خود بھی ایک آؤٹ سائیڈر رہے ہیں، انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام، اپنی محنت سے حاصل کیا ہے۔ جب ہم نے انہیں فلم دکھائی تو انہیں بہت پسند آئی۔ پھر ہم نے درخواست کی کہ اگر وہ فلم کو بطور پریزنٹر سپورٹ کریں تو ہمارے لیے اعزاز ہوگا تو انہوں نے فوراً رضامندی ظاہر کر دی۔ ان کے ساتھ جڑنے کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب انڈسٹری میں لوگ ہماری فلم کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور دیکھنا بھی چاہتے ہیں۔
جب آپ لکھتے ہیں یا ہدایت کاری کرتے ہیں تو آپ کے ذہن میں سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے؟
ج: مجھے لگتا ہے کہ میں پہلے ڈائریکٹر ہوں اور بعد میں رائٹر۔ میرے ذہن میں سب سے پہلے تصویریں بنتی ہیں، مناظر دکھائی دیتے ہیں، پھر میں انہیں الفاظ میں ڈھالتا ہوں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ ایسی چیز تخلیق کروں جو میں نے خود بھی پہلے کبھی نہ دیکھی ہو اور ناظرین نے بھی نہ دیکھی ہو۔ ’چار دیواری‘ بھی اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ایک ایسا تصور پیش کیا جائے جو بالکل نیا ہو۔
رائے پور سے ممبئی تک کے سفر کے بارے میں بتائیں؟
ج: میرے خاندان میں تقریباً سبھی لوگ وکیل ہیں۔ میرے دادا، والد اور بڑے بھائی سب قانون کے شعبے سے وابستہ ہیں، اس لیے میری بھی خواہش تھی کہ وکیل بنوں، لیکن بعد میں میرا رجحان شارٹ فلموں کی طرف ہو گیا۔ جب میں نے گھر والوں سے کہا کہ میں فلم سازی کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ چونکہ ممبئی میں ہمارا کوئی رابطہ نہیں، اسلئے پہلے قانون کی ڈگری مکمل کر لو تاکہ ایک محفوظ راستہ بھی موجود رہے۔ میں نے وکالت کی تعلیم مکمل کی اور پھر ممبئی آ گیا۔ کچھ برس بعد مجھے ویب سیریز ’معاملہ لیگل ہے ‘ کے دوسرے سیزن کیلئے رائٹنگ کی پیشکش ہوئی۔ وہاں میری قانونی تعلیم نے بھی کافی مدد کی۔ اس کے بعد کام ملنا شروع ہوا اور پھر آہستہ آہستہ میرے لیے انڈسٹری کے دروازے کھلتے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میں ہر روز یہی سوچتی ہوں کہ آج مجھے نیا اور کچھ الگ کیا کرنا ہے‘‘
آپ کا فیض احمد فیض سے خاص لگاؤ بھی نظر آتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟اس تعلق سے کچھ بتائیں گے؟
ج: میرے نانا بھوپال میں شاعر اور پروفیسر تھے۔ جب فیض احمد فیض بھوپال آئے تھے تو میرے نانا نے ان کا استقبال کیا تھا۔ میری والدہ بچپن ہی سے مجھے فیض صاحب کے بارے میں بہت کچھ سناتی رہتی تھیں۔ بعد میں جب میں نے ان کی شاعری کو پڑھا اور خاص طور پر مختلف سماجی تحریکوں کے دوران ان کے کلام کو سمجھا تو ان سے گہرا تعلق محسوس ہوا۔ میں نے فیض صاحب کی بیٹی سے بھی بات چیت کی تھی۔ انہوں نے میری اسکرپٹس پڑھیں اور انہیں پسند بھی کیا لیکن حالات ایسے تھے کہ اس موضوع پر فلم بن نہیں سکی۔ اس کے باوجود وہ کہانی آج بھی میرے دل کے بہت قریب ہے۔
فلم کے عنوان ’’چار دیواری‘‘ کے بارے میں بھی کچھ بتائیں !
ج:’چار دیواری‘ صرف ایک گھر یا چار دیواری کا نام نہیں، بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی علامت ہے۔ یہ اس احساس کی نمائندگی کرتی ہے جب انسان خود کو ایک محدود جگہ، تنہائی یا اپنے ہی خوف کے اندر قید محسوس کرتا ہے۔ فلم کا عنوان اسی کیفیت اور اس کے نفسیاتی پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے جو پوری کہانی کا بنیادی خیال ہے۔
کیا آپ کا ہندوستانی فلم انڈسٹری میں کوئی آئیڈیل ہے یا آپ سبھی کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتے ہیں ؟
ج: میں ہالی ووڈ کے ایک ہدایتکار کو آئیڈیل مانتاہوں لیکن ہندوستانی فلم انڈسٹری میں اگر کوئی اچھا ہدایتکار ہے تو وہ انوراگ کشیپ ہیں۔ ہم نے ان کی فلمیں دیکھی ہیں اور بغور دیکھی ہیں۔ انہیں ہدایتکاری کے زاویہ سے دیکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ انوراگ کشیپ کی ہدایتکاری کو سمجھوں۔ میرے نزدیک بالی ووڈ میں انوراگ کشیپ ہی میرے آئیڈیل ہیں۔
کیا آپ نے فلم ہدایتکاری بھی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے؟
ج: جی نہیں، میں وکالت کی تعلیم حاصل کی ہے، میں نے ہدایتکاری فلمیں دیکھ دیکھ کر سیکھی ہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ میں ہدایتکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کروں گا لیکن اس کا موقع نہیں ملا۔ وکالت کی تعلیم ختم کرنے کے بعد ممبئی کی رخ کیا اور یہاں مجھے شو بز انڈسٹری سے کام ملنا شروع ہوگیا تھا۔ اس طرح مجھے ہدایت کاری یا لکھنے کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔