• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی جاری۔ مسجداقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، تلمودی رسومات اداکیں

Updated: September 28, 2026, 2:04 PM IST | Agency | Jerusalem

مقبوضہ بیت المقدس سمیت پورے مغربی کنارے میں ۲۴؍گھنٹوں کے دوران متعدد گاڑیاں نذر آتش کردیں، بجلی کی سپلائی معطل کردی، یہودی بستیوں میں توسیع کی گئی۔

Jewish settlers are continuously engaging in provocative acts in Palestinian territories. Photo: INN
یہودی آبادکار فلسطینی علاقوں میںمسلسل شرانگیزیاں کر رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ بیت المقدس سمیت پورے مغربی کنارے میں گزشتہ ۲۴؍گھنٹوں کے دوران یہودی آباد کاروں کے پُرتشدد حملے جاری رہے جن میں فلسطینیوں کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور  محلوں پر دھاوا بولنے سے لے کر زرعی زمینوں، بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے اور غیر قانونی یہودی بستی کے دائرہ کار کو پھیلانے جیسے گھناؤنے اقدامات شامل ہیں جبکہ اس دوران مسجد اقصیٰ میں دھاوا بول کر اس کے صحنوں میں تلمودی رسومات بھی ادا کی گئیں۔یہ حملے راملہ، الخليل، نابلس اور بیت المقدس میں کئے گئے جنہوں نے فلسطینیوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا  ۔ یہ صورتحال زیتون کی چنائی کے موسم سے بالکل پہلے سامنے آئی ہے  جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے حالیہ انتباہات بھی جاری کئے گئے ہیں کہ ان حملوں اور ان کے جغرافیایی دائرہ کار میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ممالک کی بات سب سے کم سنی جاتی ہے‘‘

راملہ میں گاڑیاں نذر آتش، ر رہائشی محلوں پر دھاوے

راملہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں ابو فلاح میں   اتوار کو فجر کے وقت یہودی آباد کاروں نے گاؤں پر حملہ کیا اور شہریوں کی متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی ۔ شائع شدہ معلومات میں جلنے والی گاڑیوں کی حتمی تعداد یا نقصان کے مالی تخمینے کے بارے میں کوئی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کئے گئے۔اس حملے سے ایک روز قبل یعنی ہفتے کی شام قصبہ المغير اور ابو فلاح کے درمیان واقع راستے ’مرج سيع‘ پر فلسطینی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ المغير کے کونسل چیئرمین امین ابو عليا نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں یہودی آباد کاروں نے گاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ درجنوں یہودی آباد کار المغير کے دروازے پر جمع ہوئے اور اپنے  جانوروں کو گھروں کے درمیان چھوڑ دیا جبکہ  فوج کے فوجیوں نے آنسو گیس کے گولے برسائے۔یہ بھی  پتہ چلا ہے کہ یہودی آباد کاروں  نے راملہ شہر کے محلے الطير پر بھی دھاوا بولا جبکہ دیگر نے شہر کے شمال مشرق میں واقع قصبہ فر مال کے مغرب میں کسانوں کی زمینوں پر اپنے مویشی چھوڑ دیئے۔

زیتون کے موسم سے قبل فصل کی تباہی

الخليل کے جنوب میں واقع علاقے يطا کے مشرق میں واقع مقام تل ماعين میں یہودی آباد کاروں نے پھلدار زیتون کے درختوں کے درمیان اپنے جانور چھوڑ دیئے اور   یہی واقعہ فر مال کی زمینوں پر بھی ہوا۔اس زرعی سیزن میں کاشت شدہ زمینوں کو نشانہ بنانا انتہائی حساسیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ اب زیتون کی کٹائی کا وہ موسم قریب ہے جس کا انتظار فلسطینی خاندان اپنی سالانہ آمدنی کا ایک حصہ محفوظ کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ کاشت شدہ زمینوں کے اندر مویشیوں کی موجودگی فصل کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرتی ہے جبکہ یہودی آباد کاروں کی بار بار یلغار زمین کے مالکان کیلئے وہاں تک رسائی اور حفاظت کے ساتھ کام کرنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور ’اوچا‘ نے۱۸؍ ستمبر کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ یہودی آباد کاروں کے مسلسل تشدد اور زرعی املاک کو پہنچنے والے نقصان کے سائے میں زیتون کے سیزن سے قبل تحفظ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔   

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: شمال مشرقی طوفان ، نیویارک اور نیو جرسی میں تباہی، ایک ہلاک

مسجد اقصیٰ میں پولیس کی سرپرستی میں دھاوے اور رسومات

مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں نے باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ   کے احاطے میں دھاوا بولا اور اس کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں۔   اتوار کی صبح موصول ہونے والی مقامی خبروں کے مطابق یہ جارحانہ دھاوے قابض پولیس کی سخت ترین سیکوریٹی پروٹوکولز کے سائے میں انجام پائے جو کہ یہودی تہوار ’عید الحروش ‘کے موقع پر کئے گئے اور ان کے دوران باجماعت گانے، رقص اور صہیونی ترنگے لہرانے جیسے گھناؤنے اعمال شامل تھے۔مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ آباد کاروں نے باب المغاربہ سے اندر داخل ہو کر صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے گئے  جبکہ مسجد کے گردونواح اور پرانے شہر میں  سیکوریٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK