Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہ مہاجر بیٹے جنہوں نے کنیڈا کو پہلی بار ورلڈ کپ کے آخری ۱۶؍ مرحلے تک پہنچایا

Updated: June 30, 2026, 2:59 PM IST | New York

لائبیریا، سربیا، ہیٹی اور آئیوری کوسٹ سے تعلق رکھنے والے وہ خاندان جو جنگ سے بچ کر نکلے اور ایک ایسی ٹیم کی بنیاد رکھی جس نے لاس اینجلس میں تاریخ رقم کر دی۔

Alphonso Davies.Photo:X
الفوانسو ڈیوس۔تصویر: ایکس

ڈیبیا ڈیوس کو بندوقیں یاد ہیں ان کی گولیوں کی آواز نہیں، بلکہ ان کی ہر وقت موجودگی، جیسے وہ روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ ہوں۔ مونروویا میں ہر چیز انہی کے گرد گھومتی تھی۔ کھانا کب کھانا ہے، اس کا فیصلہ بھی انہی سے ہوتا تھا۔ کہاں جانا ہے، یہ بھی انہی کے مطابق طے ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ یہ بھی انہی پر منحصر تھا کہ آپ کے بچے زندہ رہیں گے یا نہیں۔
جب دوسری لائبیریا خانہ جنگی ان کے خاندان کے دروازے تک آ پہنچی تو ڈیبیا اور وکٹوریہ گھانا کے مہاجر کیمپ بودوبورام فرار ہو گئے۔ وہاں انہوں نے ایک ٹین کی جھونپڑی میں زندگی بسر کی، جو ایک منی وین سے بھی کچھ ہی بڑی تھی۔ ان کا چوتھا سب سے چھوٹا بیٹا ۲؍  نومبر ۲۰۰۰ء کو اسی کیمپ میں پیدا ہوا، جس کا نام انہوں نے الفونسو رکھا۔
دنیا کے ایک فیصد سے بھی کم مہاجرین کو ہر سال کسی دوسرے ملک میں مستقل آباد ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ۲۰۰۵ ءمیں ڈیبیا کا خاندان بھی انہی خوش نصیبوں میں شامل تھا۔ ایک ملک، کنیڈا، نے انہیں قبول کر لیا۔ وہ ایڈمنٹن جا بسے، جہاں ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنے والا ایک شرمیلا لڑکا دوسرے بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے لگا، کیونکہ یہ وہ واحد زبان تھی جسے سب بغیر الفاظ کے سمجھتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار کا اشارہ: ’’ویلکم ۴‘‘ میں نانا پاٹیکر اور انیل کپور کی واپسی ممکن


اتوار کے روز لاس اینجلس اسٹیڈیم میں الفونسو ڈیوس  کنیڈا کے کپتان، چیمپئن لیگ کے فاتح، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر )  کے خیرسگالی سفیر، اور بودوبورام مہاجر کیمپ کے سابق رہائشی نے ہیم اسٹرنگ انجری کے باعث گروپ مرحلے سے محروم رہنے کے بعد اس ورلڈ کپ میں اپنی پہلی شرکت کی۔ ان کے میدان میں آتے ہی کنیڈاکی ٹیم کا کھیل بدل گیا۔ ٹیم نے۰۔۱؍گول سے کامیابی حاصل کی  اور  اسٹیفن ایسٹاکیو نے، جنہوں نے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران اپنے دونوں والدین کو کھو دیا تھا، ۹۲؍ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کیا۔ اس فتح کے ساتھ کنیڈااپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے آخری ۱۶؍ مرحلے میں پہنچ گیا۔
اس رات کنیڈا کے گول کیپر  میلان بوریان  تھے، جن کا خاندان کروشیا کی جنگِ آزادی کے دوران ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا۔ جب وہ ۱۳؍ برس کے تھے تو ان کا خاندان پہلے ونی پیگ اور پھر ہیملٹن میں آ کر آباد ہوا۔ جنوری ۲۰۲۲ء میں امریکہ کے خلاف کنیڈا کی فتح کے بعد انہوں نے سادہ الفاظ میں کہا  ’’کنیڈا نے میرے خاندان کو سب کچھ دیا۔ جب کوئی ملک آپ کو اتنی محبت دے، تو آپ پر بھی لازم ہے کہ اس محبت کا قرض چکائیں۔‘‘
دس روز قبل وینکوور میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اس پوری ٹیم کی روح کو بیان کر دیا۔۲۲؍ سالہ  نیتھن سلیبا ، جن کا تعلق مونٹریال سے ہے اور جن کے والد کلاڈ ہیٹی میں فٹ بال کھیلتے تھے، نے قطر کے خلاف ۰۔۶؍گول  کی تاریخی فتح میں کنیڈا کا چوتھا گول کیا۔ یہ کنیڈا کی ورلڈ کپ میں پہلی فتح تھی۔ گول کرنے کے بعد وہ کارنر فلیگ کی طرف دوڑے اور نمبر ۸؍ والی جرسی بلند کر دی۔ یہ ان کی اپنی جرسی نہیں تھی، بلکہ  اسماعیل کونے  کی تھی، جنہیں ۴۰؍ منٹ قبل پیر کی ہڈی (ٹیبیا اور فائبولا) ٹوٹنے کے باعث اسٹریچر پر میدان سے باہر لے جایا گیا تھا۔
اسماعیل کونے آئیوری کوسٹ کے شہر ابیجان  میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سات سال کے تھے جب ان کی والدہ  سوزان دیوماندے، مونٹریال کے ٹروڈو ہوائی اڈے پر اپنے سب سے قیمتی اثاثے اپنے سات سالہ بیٹے  کے ساتھ پہنچیں۔ انہوں نے بعد میں سی بی سی اسپورٹس  سے کہا’’میں سب سے پہلے اپنے بیٹے کو ایک بہتر زندگی دینے کے لیے یہاں آئی تھی۔‘‘کونے نے مونٹریال میں پرورش پائی، محلے کے ایک پارک میں فٹ بال کھیلنا سیکھا، اور اس ورلڈ کپ کے بہترین مڈفیلڈرز میں شمار ہونے لگے۔ لیکن گھٹنے کی اونچائی پر ہونے والی ایک سخت ٹیکل نے ان کا ورلڈ کپ ختم کر دیا۔ انہیں زخمی ہونے سے پہلے میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:برطانیہ میں وزیر اعظم اتنی عجلت میں کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟

اسی شام  جوناتھن ڈیوڈ  نے ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ ان کے والدین کا تعلق ہیٹی سے تھا، ان کی پیدائش بروکلین میں ہوئی، بچپن پورٹ او پرنس میں گزرا، نوجوانی میں اوٹاوا میں فٹ بال سیکھی۔ آسٹریا کے سالزبرگ اور جرمنی کے شٹٹگارٹ نے انہیں مسترد کر دیا، لیکن بلجیم کے کلب  گینٹ  نے ان پر اعتماد کیا۔ ان کی والدہ  روز کینسر کے باعث اس وقت انتقال کر گئیں جب وہ ابھی بیس برس کے بھی نہیں ہوئے تھے، اور اس وقت وہ پہلے ہی بلجیم  منتقل ہو چکے تھے۔
کئی برس بعد، جب انہوں نے فرانسیسی کلب  لیل  کی جانب سے  بورڈو  کے خلاف۸۴؍ویں منٹ میں فاتحانہ گول کیا، تو وہ سائیڈ لائن کی طرف دوڑے جہاں کسی نے انہیں ایک گلابی گلاب تھمایا۔ انہوں نے اس پھول کو اپنے چہرے سے لگایا، پھر اسے بلند کر کے تماشائیوں کی طرف اٹھا دیا  یہ ان کی والدہ کے نام اور ان کی یاد دونوں کی علامت تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK