Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’سپر گرل‘‘ باکس آفس پر ناکام، پہلے ویک اینڈ پر ۸ء۶؍ کروڑ ڈالر کا بزنس

Updated: June 30, 2026, 4:02 PM IST | Los Angeles

جیمز گن کے نئے ڈی سی یونیورس (DCU) کی دوسری فلم ’’سپر گرل‘‘ نے عالمی باکس آفس پر توقعات سے کم آغاز کیا ہے۔ تقریباً ۱۷؍ کروڑ ڈالر کے بجٹ سے بننے والی فلم نے پہلے ویک اینڈ میں دنیا بھر سے تقریباً ۸ء۶؍ کروڑ ڈالر کا بزنس کیا، جبکہ ناقدین کے ملے جلے ردعمل اور کمزور اوپننگ نے اس کی تجارتی کامیابی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Supergirl. Photo: INN
سپر گرل۔ تصویر: آئی این این

جیمز گن کے نئے ڈی سی یونیورس (DCU) کا آغاز گزشتہ برس فلم ’’سپرمین‘‘ سے ہوا تھا، جسے ناقدین اور شائقین دونوں کی جانب سے مثبت پذیرائی ملی اور اس نے تقریباً ۵ء۲۲؍ کروڑ ڈالر کے بجٹ کے مقابلے میں دنیا بھر سے ۸۷ء۶۱؍ کروڑ ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کیا۔ اس کے بعد ڈی سی یو کی دوسری بڑی فلم ’’سپر گرل‘‘ سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی، تاہم اسے ناقدین اور ناظرین کی جانب سے ملا جلا ردعمل ملا اور فلم باکس آفس پر بھی توقعات کے مطابق آغاز نہ کر سکی۔ملی الکوک اور جیسن موموا کی مرکزی کرداروں پر مشتمل اس فلم کی ہدایت کاری کریگ گلیسپی نے کی ہے، جو آئی، ٹونیا اور کروئیلا جیسی فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

ابتدائی باکس آفس اعداد و شمار کے مطابق فلم نے شمالی امریکہ میں اپنے پہلے ویک اینڈ پر تقریباً ۳؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ ڈالر جبکہ عالمی سطح پر تقریباً ۶؍ کروڑ ۸۰؍ لاکھ ڈالر کا کاروبار کیا، جو ابتدائی اندازوں سے بھی کم رہا۔ رپورٹس کے مطابق ’’سپر گرل‘‘کا پروڈکشن بجٹ تقریباً ۱۷؍ کروڑ ڈالر تھا، جبکہ اس کی تشہیری مہم پر بھی بھاری رقم خرچ کی گئی۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سطح کے بجٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے فلم کو منافع کے لیے دنیا بھر میں تقریباً ۳۰؍  کروڑ ڈالر یا اس سے زیادہ کی کمائی درکار ہوگی، تاہم موجودہ رفتار کے مطابق اس ہدف تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نمرت کور اہلووالیا نے اپنے یادگار لمحے کو یاد کیا

ابتدائی اندازوں کے مطابق فلم کی مجموعی عالمی کمائی تقریباً ۲۰؍ سے ۲۱؍ کروڑ ڈالر تک محدود رہ سکتی ہے، جس کے باعث اسے وارنر برادرز اور ڈی سی اسٹوڈیوز کے لیے مالی طور پر خسارے کا سودا قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ مختلف تجزیہ کار نقصان کی مختلف مقدار بتا رہے ہیں۔ تجارتی ماہرین کے مطابق فلم کی کمزور کارکردگی کی ایک وجہ سپرگرل برانڈ کی نسبتاً محدود مقبولیت بھی ہو سکتی ہے۔ 

تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ فلم کی ریلیز کا وقت اس کے لیے سازگار ثابت نہیں ہوا۔ موسمِ گرما کے بلاک بسٹر سیزن میں اسے ’’ٹوائے اسٹوری ۵‘‘ سمیت کئی بڑی فلموں سے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ آنے والے ہفتوں میں کئی بڑی ہالی ووڈ فلمیں اس کیلئے مزید چیلنج بن سکتی ہیں۔ ایگزیبیٹر ریلیشنز کے تجزیہ کار جیف بوک نے کہا کہ ’’سپر گرل‘‘ ایسا کردار نہیں جس نے ماضی میں کبھی ایونٹ لیول بلاک بسٹر فلم دی ہو، اس لیے فلم کے لیے ابتدا ہی سے راستہ آسان نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حیران کن! پریہ درشن نے ’’ہیرا پھیری۳‘‘چھوڑ دی، کہا’’ یہ کبھی بھی ریلیز نہیں ہوگی کیونکہ...‘‘

ان کے بقول، ’’سپرگرل‘‘ کے بارے میں شائقین کا تاثر اتنا مضبوط نہیں تھا، اور فلم خود بھی ایسی نہیں بن سکی جو ایک بڑے سنیمائی ایونٹ کی شکل اختیار کرتی۔‘‘ فلم کو ناقدین کی جانب سے بھی ملے جلے جائزے ملے ہیں۔ Rotten Tomatoes پر اسے تقریباً ۵۴؍ فیصد ناقدین کی ریٹنگ جبکہ ۷۶؍ فیصد ناظرین کا اسکور حاصل ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام ناظرین کا ردعمل ناقدین کے مقابلے میں نسبتاً بہتر رہا۔ ادھر ڈی سی اسٹوڈیوز کے شریک سربراہ پیٹر سیفرن نے فلم کی کمزور باکس آفس کارکردگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سپرگرل ان کی تجارتی توقعات پر پوری نہیں اتری، تاہم یہ ڈی سی یو کی طویل المدتی حکمت عملی کا صرف ایک حصہ ہے اور اسٹوڈیو اپنے آئندہ منصوبوں پر اعتماد رکھتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK