Updated: November 05, 2026, 5:05 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے حالیہ واقعہ اور ملک میں شخصی سلامتی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیف علی خان نے اداکارہ اور اپنی اہلیہ کرینہ کپور خان کے ساتھ معروف فلم ساز کرن جوہر کے مقبول چیٹ شو ’’کافی ود کرن‘ ‘ کے نویں سیزن میں شرکت کی۔
سیف اور کرینہ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکار سیف علی خان نے اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے حالیہ واقعہ اور ملک میں شخصی سلامتی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیف علی خان نے اداکارہ اور اپنی اہلیہ کرینہ کپور خان کے ساتھ معروف فلم ساز کرن جوہر کے مقبول چیٹ شو ’کافی ود کرن‘ (Koffee With Karan) کے نویں سیزن میں شرکت کی، جہاں گفتگو کے دوران فلمی شخصیات کی سیکوریٹی اور ملک میں بڑھتے ہوئے حفاظتی خدشات کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔اس دوران سیف علی خان نے کہا کہ آج کی دنیا پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ محسوس ہوتی ہے اور موجودہ حالات میں لوگوں کے لیے اپنی حفاظت کا انتظام کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ان کے اس بیان کو ٹائیگر شروف پر ہونے والی فائرنگ اور فلمی صنعت کی دیگر شخصیات کے خلاف پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ شو کے دوران کرینہ کپور خان اور کرن جوہر کے ردعمل نے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے:کیا رافیل ندال مستقبل میں ریئل میڈرڈ کے صدر بن سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی کے جوہو علاقے میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹائیگر ایک فٹ بال کلب سے باہر نکل رہے تھے۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے پانچ گولیاں چلائیں۔ خوش قسمتی سے ٹائیگر شروف اس حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور سمیت دو افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ممبئی پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ ممبئی کرائم برانچ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آوروں کا ابتدائی نشانہ ٹائیگر شروف نہیں بلکہ بالی ووڈ کی ایک دوسری معروف شخصیت تھی۔ تاہم اس شخصیت کی سخت سکیورٹی کے باعث حملہ آوروں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاملے میں تین مشتبہ افراد کو راجستھان کے کوٹہ سے گرفتار بھی کیا گیا۔
سیف علی خان کے اس بیان کو ان کے اپنے تلخ تجربے کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ایک شخص نے داخل ہوکر ان پر چاقو سے حملہ کردیا تھا۔ اس حملے میں سیف علی خان کو گردن اور کمر سمیت جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم آئے تھے۔ انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔ سیف علی خان نے اس حملے کے دوران پیش آنے والے واقعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو اپنے بیٹے کی موجودگی میں دیکھ کر انہوں نے فوری طور پر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق حملہ آور کے پاس چاقو تھا اور وہ اپنے بیٹے کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:۹۰ء کی دہائی میں رسائل تبصرے ضرور کرتے تھے، لیکن آج جیسی ٹرولنگ نہیں تھی: مادھوری
کرینہ کپور نے بھی اس خوفناک رات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سیف کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچانے کے لیے انہیں رات کے وقت سڑک پر آٹو رکشہ روکنا پڑا تھا۔ اس واقعہ نے پورے خاندان کو ذہنی طور پر متاثر کیا تھا۔ ’’کافی ود کرن‘‘ کے دوران جب سیف علی خان نے سیکوریٹی اور موجودہ حالات پر اپنی رائے ظاہر کی تو کرینہ کپور اور کرن جوہر کے تاثرات بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے۔ شو کی گفتگو سے متعلق ویڈیو سامنے آنے کے بعد صارفین مختلف تبصرے کررہے ہیں۔سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سیف کے بیان کو ملک میں بدلتے ہوئے حفاظتی حالات پر بالواسطہ تبصرہ قرار دیا ہے، جبکہ بعض نے اسے عام شہریوں اور فلمی شخصیات کی ذاتی سلامتی سے متعلق تشویش کے طور پر دیکھا ہے۔ تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ دستیاب رپورٹ کے مطابق سیف علی خان نے اپنے بیان میں کسی سیاسی شخصیت کا براہِ راست نام نہیں لیا۔ ٹائیگر شروف پر فائرنگ اور اس سے پہلے سیف علی خان پر ہونے والے حملے نے بالی ووڈ میں فلمی شخصیات کی حفاظت، سکیورٹی انتظامات اور عوامی مقامات پر تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔