Inquilab Logo Happiest Places to Work

’منریگا‘ کی جگہ پر بنائی گئی اسکیم میں پہلے ہی ماہ ۵۰؍ فیصد کی کمی

Updated: August 11, 2026, 9:39 AM IST | New Delhi

کانگریس نے اسے ’روزگار گھوٹالا‘ اور ’طلبہ اور نوجوانوں پر لاٹھیاں برسانے کے بعد مزدوروں کے روزگار پر لاٹھی چارج‘ کا نام دیا، کھرگے نے حکومت سے کئی سوال پوچھے۔

Congress leader Mallikarjun Kharge slammed the government over MGNREGA (Photo: PTI)
کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے منریگا پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا (تصویر: پی ٹی آئی)

کانگریس کے دور میں مزدوروں کیلئے بنائی گئی سرکاری اسکیم ’منریگا‘ کی جگہ پر مودی حکومت نے ’وکست بھارت۔ گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن ، گرامین‘ متعارف کرایا ہے۔ مودی حکومت نے اسے ’وی بی۔ جی رام جی‘ کا نام دیا ہے۔ اس کے نفاذ کے بعد پہلے ہی مہینے ملک میں دیہی روزگار کو ایک زبردست دھچکا پہنچا ہے۔ اس اسکیم کو اس سال یکم جولائی کو نافذ کیا گیا تھا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پہلے مہینے میں ہی گزشتہ سال جولائی کے مقابلے میں روزگار کی شرح میں تقریباً۵۰؍ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘کی ایک رپورٹ کے مطابق ۹؍ اگست کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی ۲۰۲۶ء میں مذکورہ اسکیم کے تحت صرف ۷ء۶۷؍ کروڑ ’پرسن ڈیز (یعنی کام کے دن) بنائے گئے تھے۔ یہ گزشتہ سال اسی مہینے میں ’منریگا‘ کے تحت بنے۱۱ء۳۳؍ کروڑ کام کے دنوں کے مقابلے ۴۹ء۹۴؍ فیصد کم ہے۔

 کانگریس پارٹی نے اس حوالے سے مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس جولائی میں مذکورہ سرکاری اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے خاندانوں کی تعداد میں ۵۱ء۴۵؍ فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیا قانون منریگا ایکٹ کے تحت روزگار کی ضمانت کو کمزور کرتا ہے۔ مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے اس اسکیم کو ’روزگار گھوٹالا‘ کا نام دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس صورت حال کی پیش گوئی اُسی وقت کردی تھی جب مودی سرکار نے زبردستی منریگا کو ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منریگا نے دیہی مزدوروں کو روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کی تھی اور اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے دیہی پنچایتوں کو بااختیار بنایا تھا جسے مودی سرکار نے ختم کردیا۔

 کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی منریگا اور دیہی مزدوروں کے روزگار معاملے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دیہی روزگار میں گراوٹ کی خبروں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے صرف طلبہ اور نوجوانوں پر ہی لاٹھیاں نہیں چلائیں بلکہ ملک کے محنت کش مزدوروں کے روزگار پر بھی لاٹھیاں برسائی ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’’مودی حکومت نے منریگا کو ختم کر کے کروڑوں خاندانوں سے ’کام کا حق‘ چھین لیا اور اس کے بدلے ’وی بی جی رام جی‘ مسلط کیا، جس نے۵۰؍ فیصد مزدوروں کا روزگار ختم کر دیا ہے۔ ‘‘اپنی اس پوسٹ میں کانگریس سربراہ نے حکومت سے کئی سوالات بھی کئے۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’کیا ریاستوں کو منریگا کے۱۷؍ ہزار ۱۴۴؍ کروڑ روپے کے بقایا فنڈز ادا کیے گئے ہیں ؟ کیا خشک سالی سے متاثرہ ریاستوں کو کوئی مدد فراہم کی گئی ہے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ خریف فصل کی بوائی میں ۲۶ء۵۰؍ فیصد کمی آئی ہے، تو کیا حکومت کو اس کی کوئی فکر ہے؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا کہ ’’وی بی جی رام جی کے فنڈنگ پیٹرن پر، جس میں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں نے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا، مرکز نے کوئی قدم اٹھایا ہے یا نہیں ؟‘‘

 کھرگے نے الزام عائد کیا کہ ایسے وقت میں جبکہ ملک کے غریب مزدور سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کر رہے ہیں ، مودی حکومت ان سے ان کی کم از کم معاشی اور سماجی سلامتی چھین کر ان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں حکومت کی مزدور پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ روزگار اور سماجی تحفظ غریب خاندانوں کیلئے بنیادی ضرورت ہیں ، لیکن موجودہ حکومت ان کے تحفظ کو کمزور کر رہی ہے۔

 کانگریس سربراہ کا یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منریگا کے مستقبل، دیہی روزگار، ریاستوں کو فنڈز کی فراہمی اور نئے روزگار پروگرام کے فنڈنگ پیٹرن کو لے کر سیاسی بحث جاری ہے۔ کانگریس مسلسل حکومت پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ دیہی مزدوروں اور غریب خاندانوں کیلئے روزگار کی ضمانت فراہم کرنے والے نظام کو کمزور کر رہی ہے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK