باغی اراکین پارلیمان کے خلاف درخواستوں پر ۳؍ ماہ میں بھی فیصلہ نہ ہونے کو ’’خطرہ کا نشان‘‘ بتایا۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 12:18 PM IST | Agency | New Delhi
باغی اراکین پارلیمان کے خلاف درخواستوں پر ۳؍ ماہ میں بھی فیصلہ نہ ہونے کو ’’خطرہ کا نشان‘‘ بتایا۔
ٹی ایم سی کے باغی اراکین پارلیمان کے خلاف دی گئی درخواستوں پر ۲۰؍ دن بعد بھی اسپیکراوم برلا کے ذریعہ فیصلہ نہ ہونے کو سپریم کورٹ نے ’’خطرہ کا نشان‘‘ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ معاملہ میں اوم برلا کے تعطل کے بعد ابھیشیک بنرجی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کی جانب سے دائر اس عرضی کی سماعت کر رہی تھی، جس میں نااہلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔جسٹس باغچی نے کہا کہ زیر التوا نااہلی کی کارروائی کے ممکنہ نتائج کے پیش نظر تاخیر اہم ہے۔جسٹس باغچی نے سوال کیاکہ ’’مقدمات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:الیکشن کمشنروں کی تقرری کے قانون پرآئینی بنچ میں سماعت
چند ماہ کی تاخیر خطرہ کی گھنٹی ہو سکتی ہے اور یہ بات قابل غور ہے۔ عرضی میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ۳؍ماہ گزر چکے ہیں جبکہ یہ معاملہ چند لمحوں میں حل کیا جا سکتا ہے اور اس کے دیگر متعلقہ مقدمات کے ساتھ ساتھ ملک کے جمہوری عمل پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تو آپ نے اسے ابھی تک مکمل کیوں نہیں کیا؟‘‘
یہ تنازع جون میں اس وقت شروع ہوا، جب ٹی ایم سی کے لوک سبھا کے۲۰؍اراکین پارلیمنٹ پارٹی سے الگ ہوگئے اور اعلان کیا کہ وہ نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان ارکان نے ایوان زیریں میں ایک الگ گروپ کے طور پر شناخت دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ۱۸؍جون کو اسپیکر اوم برلا کے سامنے نااہلی درخواستیں دائر کی گئیں مگر اب تک ان پر کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔