• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت بلالؓ کی تین اذانیں

Updated: September 23, 2026, 4:22 PM IST | Maulana Abul Bayan Hammad Umri | Mumbai

حضرت بلالؓ ایک جلیل القدر صحابی اور نبی کریمﷺ کے خادم خصوصی تھے۔ حبشہ کے رہنے والے تھے اس لئے آپ کے نام بلال کے ساتھ حبشی کہا جاتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

حضرت بلالؓ ایک جلیل القدر صحابی اور نبی کریمﷺ کے خادم خصوصی تھے۔ حبشہ کے رہنے والے تھے اس لئے آپ کے نام بلال کے ساتھ حبشی کہا جاتا ہے۔ بعثت نبوی کے آغاز میں آپ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جیسے ہی کلمہ حق آپؓ نے سنا  اور اسلام کی دعوت سے روشناس ہوئے فورا ًہی اس پر لبیک کہا اور اسلام قبول کرلیا۔ ظالم آقا اطلاع ملتے ہی مشتعل ہو گیا۔ کیونکہ اسے دین حق اورنبیؐ کریم کی ذات گرامی سے شدید بغض تھا۔ حضرت بلالؓ کو اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے اس نے ہر طرح کے مظالم ڈھائے،  کبھی چلچلاتی دھوپ میں انہیں بٹھا دیا گیا، کبھی جلتی ہوئی ریت پر انہیں لٹا کر ان کے جسم پر پتھر رکھ دیا گیا تاکہ آپؓ  حرکت بھی نہ کر سکیں، کبھی ان کے گلے میں رسی ڈال کر رسی اوباش نوجوانوں کے ہاتھوں میں تھما دی گئی  کہ ان کو تپتی ہوئی کنکریوں پر گھیٹتے پھریں۔

ان سب مصائب و آلام کے باوجود ان کی زبان سے صرف’’احد احد‘‘ ہی کا نعرہ نکلتا تھا۔ ظلم و ستم کا یہ حال زار حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دیکھا نہیں گیا، انہوں نے منہ مانگی قیمت دے کر حضرت بلال کو خرید لیا اور اللہ کے راستے میں آزاد کر دیا۔ چنانچہ جس دن حضرت بلالؓ کا انتقال ہوا  اس دن حضرت عمر فاروقؓ نے نہایت رنج و الم کے ساتھ اپنے تاثرات کا اظہار اس طرح فرمایا  تھا: ’’اعتق سیدنا سیدنا مات الیوم سیدنا‘‘ یعنی ہمارے ایک آقا (ابوبکر صدیقؓ) نے ہمارے ایک اور آقا (حضرت بلالؓ) کو آزاد کیا۔ آج ہمار ے آقا دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ یوں تو حضرت بلالؓ کی بہت سی خصوصیات ہیں لیکن اُن کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ انہیں اللہ کے رسولؐ کا موذن ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

یہ بھی پڑھئے:فتاوے: ماں باپ کے ترکہ میں تمام لڑکے لڑکیاں سہام شرعیہ کے مطابق حقدار ہوتے ہیں

بلالؓ کا مرتبہ!

نبیؐ کریم جب سفر معراج سے واپس تشریف لائے تو حضرت بلالؓ سے دریافت فرمایا کہ معراج کے موقع پر جب میں جنت کا مشاہدہ کر رہا تھا تو اپنے سامنے تمہارے قدموں کی چاپ سن رہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں جہاں سے بھی گزرتا تھا تم میرے سامنے جا رہے تھے، آخر تمہارے پاس ایسا حسن عمل اور کار خیر کون سا ہے؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ میں وہی عمل کرتا ہوں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور آپ ؐنے ہدایت فرمائی ہے۔ البتہ آپؐ ہی کی ہدایت کی روشنی میں ایک نفل عبادت کا التزام ضرور کرتا ہوں وہ یہ کہ میں ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جب بھی میرا وضو ختم ہوجاتا ہے، میں وضو کر لیتا ہوں او روضو کے بعد تحیۃ الوضو کے طور پر دو رکعت نماز بھی پڑھ لیتا ہوں۔

بلال ؓ کی پہلی اذان

ہجرت کے بعد جب نماز کیلئے بلانے کے طریقے پر مشورہ کیا گیا تو حضرت عبداللہ بن زید ؓکا خواب سن کر حضورؐ نے فرمایا کہ  یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اسی طریقے کو پسند فرماتے ہوئے حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ آپؓ نے مسجد نبویؐ کے ایک بلند مقام پر تاریخ اسلام کی پہلی  اذان دی جو حضرت بلالؓ کی پہلی یادگار اذان بھی قرار پائی۔ صبح کے سناٹے میں حضرت بلالؓ اذان دینے لگے تو اذان دیتے ہوئے خود بھی مسحور و مسرور ہو رہے تھے اور مدینہ منورہ کی فضاؤں کو بھی مست و مخمور کر رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: محبت اور عقیدت: مفہوم، فرق اور آداب

کلمات اذان کی صدائے دلنواز سن کر صحابہ کرامؓ پر سرشاری طاری تھی۔ اُن کے دلوں میں بھی  ہلچل تو  مچی ہوئی ہی تھی، اہل کتاب اور منافقین بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ لیکن یہ تاثر ان کے پتھر جیسے دلوں کو پگھلا نہیں سکا ۔ وہ کسی اور فکر اور پریشانی میں تھے۔  یہ سوچ کر ان کی جھنجھلاہٹ اور بڑھ گئی کہ کہیں اذانِ بلال دعوت ِحق کے فروغ اور اشاعت ِاسلام کا ایک اور ذریعہ نہ بن جائے۔ ان کا یہ اندیشہ غلط بھی نہیں تھا کیونکہ بعض سلیم الفطرت لوگ اذان سن کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

حضرت بلالؓ کی دوسری اذان: نبی کریم ﷺ  سن ۸؍ ہجری میں صحابۂ کرامؓ کا لشکر اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور کسی خوں ریزی  اور قتل وغارت گری کے بغیر مکہ فتح کر لیا۔ فتح مکہ کی کارروائی سے فارغ ہونے کے بعد نماز کا وقت ہوتے ہی آپؐ نے حضرت بلالؓ کو طلب فرمایا۔ بلالؓ حاضر خدمت ہوئے تو آپؐ نے ان سے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دیں۔ حضرت بلالؓ اذان دینے لگے تو اپنی زندگی کا صبر آزما اور اذیت ناک ماضی، نیز روشن اور درخشندہ حال یاد کر کے خود ان پر رقت طاری ہو گئی۔ نبی کریمؐ کے تاثر کا بھی عجیب وغریب حال تھا۔ صحابہ کرامؓ بھی بے حد متاثر ہو رہے تھے۔ باشندگان مکہ کے دلوں پر دہشت اور گھبراہٹ کی کیفیت طاری تھی اور وہ یہ سوچ کر حیران و پریشان ہو رہے تھے کہ امیہ بن خلف کا مجبور و مظلوم غلام آج خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دے رہا ہے اور سننے والوں کے دلوں کو تڑپا رہا ہے۔ یہ تھی دوسری یادگار اذان۔

حضرت بلال ؓ کی تیسری اذان 

حسنین کریمینؓ کے اصرار پر ،مگر، مکمل نہ کرسکے!

نبی کریمﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے پر سب سے زیادہ متاثر اور مغموم ہونے والوں میں حضرت عمرؓ کے بعد حضرت بلالؓ ہی تھے۔ دیار مدینہ میں سرکارؐ مدینہ ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تو ان کی آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا اور زندگی اجیرن ہوگئی۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ مسجد نبویؐ کے درو دیوار سوگوار ہیں اور مدینتہ النبی کی گلیوں میں رونق باقی نہیں رہی ہے۔ ہر طرف اداسی چھائی ہوئی ہے، مدینہ منورہ میں کہیں بھی ان کے بے قرار دل کو چین و سکون نہیں مل رہا ہے ۔ نہ گھر میں کوئی تسلی کا سامان نظر آتا ہے اور نہ باہر اطمینان حاصل ہو رہا ہے۔ محبوبؐ کی جدائی کا زخم اس قدر گہرا ہے کہ وہ کسی بھی طرح مندمل نہیں ہو رہا ہے۔ اضطراب ِمسلسل سے تنگ آکر حضرت بلالؓ نے آخر یہ فیصلہ کیا کہ کچھ عرصے کیلئے مدینہ منورہ سے باہر چلے جائیں چنانچہ مدینہ منورہ کی یاد اپنے پہلو میں لئے ہوئے دمشق پہنچ کر ٹھہر تو گئے لیکن ان کے تصور میں مدینہ ہی مدینہ تھا اور سرکارؐ مدینہ کو یاد کر کے ان کا سینہ شق ہوا جا رہا تھا۔ دمشق میں رہتے ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزراتھا کہ ایک شب خواب میں نبی کریمؐ کی زیارت نصیب ہوئی، آقائے نامدارؐ  ان سے فرما رہے تھے کہ ’’بلال! ہم کو چھوڑ کر تم کہاں چلے گئے؟ کیا ہم سے ناراض ہو گئے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے:عقیدہ، اخلاق، آداب اور احکام پر مشتمل ایک ’نصاب‘ ہر گھر میں رائج ہو

بیدار ہو کروہ فوراً دمشق سے مدینہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ باشندگان مدینہ کو حضرت بلالؓ کی واپسی کا حال معلوم ہوا تو سب نے بڑے خلوص ومحبت کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ حضرت بلالؓ مدینہ منورہ پہنچے تو فطری طور پر اہل مدینہ کے دلوں میں خیال پیدا ہوا کہ نبی کریمؐ کی حیات طیبہ میں حضرت بلالؓ جس طرح ہر نماز کیلئے اذان دیا کرتے تھے اسی طرح پھر اذان کا سلسلہ شروع کر دیں گے لیکن بلالؓ نے اذان دینا چھوڑ دیا۔ لوگوں نے اذان کیلئے یاد دہائی کرائی بھی تو آمادہ نہیں ہوئے اور معذرت کرتے رہے۔ پھر اہل مدینہ جگر گوشہ ہائے رسول اور فاطمہ بتولؓ کے لال حسن ؓ و حسینؓ سے ملے اور درخواست کی کہ وہ دونوں بلالؐ کو اذان دینے پر آمادہ کریں چنانچہ حسنینؓ نے بلالؓ سے گزارش کی کہ  ہر نمازکیلئے نہ سہی کسی ایک نماز کے لئے تو اذان دے دیں!

نبی کریمؐ  کے لاڈلے نواسوں کی پرخلوص درخواست کو حضرت بلالؓ ٹال نہیں سکے۔ نماز کا وقت آیا تو مسجد نبویؐ کے سامنے کھڑے ہو کر اذان دینے لگے۔ یہ اذان ان کی پچھلی ساری اذانوں سے بالکل نرالی تھی ، سوز تو ان کی آواز میں ہوتا ہی تھا مگر اس اذان میں سوز کے ساتھ درد و گداز بھی شامل ہو گیا تھا۔ اذان کا آغاز ہوتے ہی سارا مدینہ گوش بر آواز تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ حضرت بلال اذان نہیں دے رہے ہیں بلکہ ہجر و فراق کی داستان بیان کر رہے ہیں ۔ بڑی رقت کے ساتھ اللہ اکبر اور اشھَد اَن .....کے کلمات زبان سے ادا کر سکے۔ جب اس کے بعد کا فقرہ اشھَد اَن… کہنا چاہا (جس میں حضورؐ کا اسم گرامی آتا ہے) تو نگاہیں کسی کو تلاش کرنے لگیں اور وہ تھے سرکارؐ مدینہ ۔ جب سرکارؐ مدینہ نظر نہیں آئے تو حضرت بلالؓ بے قرار ہو کر نیچے گر پڑے۔  گرتے ہی ہوش و حواس جاتے رہے، بڑی مشکل سے انہیں ہوش میں لایا گیا۔ یہ تھی اُن کی تیسری اور آخری یادگار اذان۔ اس کے بعد پھر کبھی حضرت بلالؓ نے اذان نہیں دی اور کسی نے ان پر اذان کیلئے دباؤ بھی نہیں ڈالا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK