• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ ’دی ٹریٹرز ۲‘‘ کی فاتح کرِسٹل ڈی سوزا اور رِدا تھارانا، ٹرافی کے ساتھ ۶۶؍ لاکھ روپے بھی جیتے

Updated: September 04, 2026, 4:10 PM IST | Mumbai

مقبول رئیلیٹی شو ’’دی ٹریٹرز‘‘ سیزن ۲؍ کا شاندار اختتام ہوگیا ہے اور اس بار بازی ’انوسنٹس‘ نہیں بلکہ خود ’ٹریٹرز‘ نے ماری ہے۔ اداکارہ کرِسٹل ڈی سوزا اور کانٹینٹ کریئیٹر رِدا تھارانا نے شاندار حکمت عملی اور ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ فائنل تک پہنچ کر شو کی ٹرافی اپنے نام کرلی۔

Krystal، Karan And Rida.Photo:X
رِدا، کرن اورکرسٹل۔ تصویر:ایکس

مقبول رئیلیٹی شو ’’دی ٹریٹرز‘‘ سیزن  ۲؍ کا شاندار اختتام ہوگیا ہے اور اس بار بازی ’انوسنٹس‘ نہیں بلکہ خود ’ٹریٹرز‘ نے ماری ہے۔ اداکارہ  کرِسٹل ڈی سوزا  اور کانٹینٹ کریئیٹر  رِدا تھارانا  نے شاندار حکمت عملی اور ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ فائنل تک پہنچ کر شو کی ٹرافی اپنے نام کرلی۔ دونوں فاتحین نے مجموعی طور پر ۶۶؍ لاکھ روپے کی انعامی رقم  بھی جیتی، جسے دونوں آپس میں تقسیم کریں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:بلجیم کے وزیراعظم کا نریندر مودی کیلئے انوکھا تحفہ سفر میں ہی پگھل گیا

’’دی ٹریٹرز۲‘‘ کے گرینڈ فائنل میں کرِسٹل اور رِدا دونوں ’ٹریٹرز‘ کے طور پر میدان میں موجود تھیں۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے اپنی اصل شناخت کو آخری مرحلے تک بڑی کامیابی سے چھپائے رکھا۔فائنل کے آغاز میں  ملیکا شیراوت  آخری ’انوسنٹ‘ تھیں جنہیں ٹریٹرز نے کھیل سے ’مرڈر‘ کرکے باہر کیا۔ اس کے بعد کرِسٹل، رِدا،  شالینی پاسی، ساحل سالاتھیا اور دلیپ طاہل  مقابلے میں باقی رہ گئے۔ 
 فائنل کے آخری مرحلے میں ’سرکل آف شک‘ نے کھیل کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا۔ دلیپ طاہل کے خاتمے کے بعد کرِسٹل، رِدا، شالینی پاسی اور ساحل سالاتھیا فائنل ریس میں رہ گئے۔ اس کے بعد کرِسٹل اور رِدا نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے پہلے ساحل سالاتھیا اور پھر شالینی پاسی کو مقابلے سے باہر کردیا۔ یوں دونوں ٹریٹرز آخرکار آخری دو کھلاڑیوں کے طور پر باقی رہ گئیں اور ان کے ہاتھ شو کی جیت آگئی۔ 
 فائنل کا سب سے دلچسپ لمحہ اس وقت آیا جب کرِسٹل کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ رِدا کو ختم کرکے پوری انعامی رقم اکیلے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ تاہم انہوں نے اپنی ساتھی ٹریٹر پر اعتماد برقرار رکھا اور آخر تک رِدا کا ساتھ دیا۔اسی فیصلے نے دونوں کو مشترکہ فاتح بنا دیا اور دونوں نے ۶۶؍ لاکھ روپے کی انعامی رقم  آپس میں بانٹ لی۔فائنل ٹاسک میں مقابلہ کرنے والوں کو انعامی رقم میں مزید رقم شامل کرنے کا آخری موقع دیا گیا تھا۔ میزبان  کرن جوہر  نے بتایا کہ اس ٹاسک کے ذریعے انعامی رقم میں۲۵؍ لاکھ روپے تک  کا اضافہ کیا جاسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:میری ناکامیوں نے والدین کو بے بس کر دیا تھا: میگھنا گلزار

ٹاسک کے دوران کھلاڑیوں کو اونٹوں سے متعلق ایک چیلنج میں چھپے ہوئے گولڈ بارز تلاش کرنے تھے، جس کے بعد انہیں ٹریٹر کی علامت کو تباہ کرنے کے لیے ڈیٹونیٹر کا استعمال کرنا تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس مرحلے میں تقریباً ۶ء۱۷؍ لاکھ روپے  جمع کیے گئے اور مجموعی انعامی رقم ۶۶؍ لاکھ روپے  رہی۔  ’’دی ٹریٹرز‘‘ کے دوسرے سیزن کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ اس بار شو کے پوشیدہ ٹریٹرز نے انوسنٹس کو شکست دے کر پورا کھیل اپنے نام کرلیا۔ کرِسٹل اور رِدا نے اتحاد، اعتماد، دھوکے اور صحیح وقت پر کیے گئے فیصلوں کے ذریعے فائنل تک اپنی جگہ بنائی۔ شو کے میزبان  کرن جوہر  تھے اور سیزن میں کئی معروف شخصیات نے حصہ لیا، جن میں ملیکا شیراوت، شالینی پاسی، دلیپ طاہل، ساحل سالاتھیا سمیت دیگر نام شامل تھے۔ 
 دونوں فاتحین کی کامیابی صرف انعامی رقم تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے کھیل کے بنیادی اصول— شک، اعتماد اور دھوکے کو اپنی حکمت عملی کے ذریعے اپنے حق میں استعمال کیا۔ خاص طور پر آخری مرحلے تک ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑنا ان کی کامیابی کی اہم وجہ بنا۔ ’’دی ٹریٹرز ۲‘‘ کا فائنل ۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو پرائم ویڈیو پر نشر ہوا، جس کے بعد کرِسٹل ڈی سوزا اور رِدا تھارانا کو باضابطہ طور پر سیزن  ۲؍کا فاتح قرار دیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK