محکمہ آثار قدیمہ کی ستمبر کے آخر تک اسے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تیاری، مانسون کے دوران قلعہ کے اندر بڑی مقدار میں جھاڑیاں اور خود رو پودے اُگ آتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 10:51 AM IST | Siraj Shaikh | Murud Janjira
محکمہ آثار قدیمہ کی ستمبر کے آخر تک اسے سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی تیاری، مانسون کے دوران قلعہ کے اندر بڑی مقدار میں جھاڑیاں اور خود رو پودے اُگ آتے ہیں۔
مروڈ تعلقہ کے راجپوری گرام پنچایت حدودمَیں آنے والے سمندر میں واقع تاریخی جنجیرہ قلعہ کی صفائی شروع ہو گئی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ایک درجن سے زائد ملازمین قلعہ کی صفائی میں مصروف ہیں۔ قلعہ کے دروازے مانسون کے دوران سیاحوں کی حفاظت کیلئے بند کر دئیے گئے تھے اور یہ ہر سال کا معمول ہے۔ اب قلعہ کے اندرونی حصے میں بڑی مقدار میں اگنے والی گھاس اور چھوٹے موٹے درختوں کو ہٹانے کا کام محکمہ آثار قدیمہ نے شروع کر دیا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ کنزرویشن آفیسر بجرنگ ییلیکر نے بتایا کہ ستمبر کے آخری ہفتے یعنی۲۶؍ تاریخ کے آس پاس قلعہ کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا منصوبہ ہے۔
اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق قلعہ جنجیرہ تقریباً۲۲؍ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے چاروں طرف تقریباً۴۰؍ فٹ اونچی حفاظتی فصیل بنی ہوئی ہے۔ ہر سال ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں سیاح اس تاریخی قلعہ کو دیکھنے آتے ہیں ۔ مانسون کے دوران یہ قلعہ سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر کچھ دنوں کے لیے سیاحوں کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مودی سرکار ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی‘‘
تین مہینوں کے مانسون کے موسم میں قلعہ کے اندر اور دیواروں کے ارد گرد گھاس اور درختوں کی ایک بڑی مقدار اُگ جاتی ہے۔ کچھ جگہوں پر پودوں کی اونچائی پانچ سے چھ فٹ تک ہوتی ہے، جس سے رینگنے والے جانوروں کا داخل ہونا ممکن ہو سکتا ہےجس کے سبب سیاحوں کی حفاظت کا مسئلہ کھڑا سکتا ہے۔ اس لیے محکمہ آثار قدیمہ نے قلعہ کے چاروں اطراف میں عملہ تعینات کر کے صفائی کا کام شروع کر دیا ہے۔
اس وقت محکمہ آثار قدیمہ کے ملازم و قلعہ میں تعینات گارڈ کی رہنمائی میں ۱۰؍سے زائد ملازمین صفائی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ییلیکر نے کہا کہ ضرورت کے مطابق صفائی کارکنوں کی تعداد میں اضافہ کرکے صفائی کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صفائی اور حفاظتی کام مکمل ہونے کے بعد قلعہ کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔