• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب سنچری مل کی زمین بلڈر کے حوالے: ورشا گائیکواڑ

Updated: September 06, 2026, 6:01 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ممبئی کانگریس کی صدراور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے سنیچر کو الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی سرکاری املاک مخصوص صنعت کاروں کے حوالے کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

Mumbai Congress President and MP Varsha Gaikwad. Photo: INN
رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ۔ تصویر: آئی این این
ممبئی کانگریس کی صدراور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے سنیچر کو الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی سرکاری املاک مخصوص صنعت کاروں کے حوالے کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ممبئی میں دھاراوی، ریلوے اور نمک کے کھیتوں کی زمینوں سے لے کر بی ایم سی کے قیمتی پلاٹ بھی مخصوص صنعتکاروںکو فروخت کئے گئے ہیں۔ ۲۲؍بیسٹ ڈپو، ورلی لیبارٹری۔ پلانٹ،  مدر ڈیری، دیونار اور ملنڈ ڈمپنگ گراؤنڈ جیسی سرکاری زمینیں چنندہ ٹھیکیداروں کے حوالے کئے جانے کے بعد اب لوور پریل کی سنچری مل کی زمین بھی۳۰؍ سال کیلئے نجی ڈیولپر کو دے دی گئی ہے۔ یہ زمین ممبئی کے شہریوں کی ملکیت اور مل مزدوروں کی جدوجہد کی علامت ہے۔ ممبئی کی زمینیں ڈیولپروں کے حوالے کرکے ممبئی کے شہریوں کو شہر سے باہر دھکیلنے کی یہ سازش ہے۔  انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنچری مل کو لیز پر دینے کی تجویز فوری طور پر روکی جائے اور مل مزدوروں کی اسی مقام پر بازآبادکاری یقینی بنائی جائے۔ 
 
 
اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے سے بات چیت کرتے ہوئے ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ سنچری مل کی زمین واپس حاصل کرنے کیلئے میونسپل کارپوریشن کو ایک طویل عدالتی لڑائی لڑنی پڑی۔ لوور پریل کی اس زمین کی ترقیاتی صلاحیت تقریباً ۱۳؍ہزار کروڑ روپے ہے لیکن میونسپل کارپوریشن کو صرف ۱۳۰۰؍کروڑ روپے حاصل ہوں گے۔ باقی ہزاروں کروڑ روپے کس کی جیب میں جائیں گے؟اس تعلق سے  بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور بی جے پی لیڈر پربھاکر شندے سے رابطہ کرنے اور ورشا گائیکواڑ کے الزام کے تعلق سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ’’ اس بارے میں ہم نے ۲؍ روز قبل اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں وضاحت کر دی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے فون منقطع کر دیا ۔
 
 
ذرائع کے مطابق بی جے پی کے لیڈروں نے کہنا ہے کہ ممبئی کی زمینیں جو بے کار پڑی تھی اسے کرایہ پر دیاجارہا ہے، فروخت نہیں کیا جارہا ہے۔ ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بی ایم سی کے پاس ہی ہوں گے ۔ان زمینوں سے ایک جانب جہاں شہریوں کو بہتر سہولتیں میسر ہوں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، وہیںدوسری جانب بی ایم سی کی آمدنی کا ذریعہ بھی پیدا ہوگا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممبئی کی زمینوں کو کرایہ پر دینے کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے اور یہ ابھی نہیں شروع ہوا ہے بلکہ برسوں سے لیز پر دینے کا سلسلہ چل رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK